نوائے فراق
فراق گورکھ پوری
یہ شوخیء نگاہ کسی پر عیاں نہیں
تاثیرِ دردِ عشق کہاں ہے کہاں نہیں
عشق اس طرح مٹا کہ عدم تک نشاں نہیں
آ سامنے کہ میں بھی تو اب درمیاں نہیں
مجھ کو بھی اپنے حال کا وہم و گماں نہیں
تم راز داں نہیں تو کوئی راز داں نہیں
صیّاد اس طرح تو فریبِ سکوں نہ دے
اس درجہ تو...
ہیر وارث شاہ
(از: محمد صادق قریشی )
سنایا رات کو قصّہ جو ہیر رانجھے کا
تو اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
(انشا)
وارث شاہ پنجابی کا ہومر اور فردوسی ہوگزرا ہے۔ وہ ایک قادرالکلام شاعر اور فصیح و بلیغ سخنور ہونے کے علاوہ علم النفس انسانی سائیکالوجی کا ایک بہت بڑا ماہر تھا۔ کیونکہ اس...
غزل
(عبدالعزیز فطرت)
ہر چند بستہ چشم رہا بستہ لب رہا
میں مدتوں نشانہء تیرِ غضب رہا
غیروں پہ لطف کا بھی بتایا گیا جواز
مجھ پر ترا ستم بھی مگر بے سبب رہا
تونے جو کچھ دیا وہ دیا لطفِ خاص سے
پابندِ آستیں مِرا دستِ طلب رہا
اس بزم میںنگاہ پہ قابو نہ رکھ سکا
ہاں مجھ کو اعتراف ہے میںبے ادب رہا...
غزل
(عابد لاہوری)
آپ کا زر تار دامن کاروانِ رنگ ہے
لہر یا آنچل غبارِ کہکشانِ رنگ ہے
پاؤں پر نقشِ حِنا، ماتھے پہ ٹیکا صندلی
یہ زمینِ رنگ ہے، وہ آسمانِ رنگ ہے
نیلو فر نیلم ہے گویا موتیا الماس ہے
آج ہر جنسِ چمن جنسِ دُکانِ رنگ ہے
کیا تماشا ہے کہ نغموں پر ہے دھوکا نُور کا
کیا...
غزل
(امین حزیں)
نَے کا نَے نام رکھ دیا کس نے؟
نَے میں پیغام رکھ دیا کس نے؟
مختصر سی حیات میں جانے
اس قدر کام رکھ دیا کس نے؟
دل کی بے تابیوں کے عالم کا
زندگی نام رکھ دیا کس نے؟
پی رہا ہوں، کہ پڑ گیا پینا
سامنے جام رکھ دیا کس نے؟
پر نکلتے ہی آشیانے میں
دانہ ؤ دام رکھ...
غزل
(ماہر ا لقادری)
ہم تو ڈبو کر کشتی کو، خود ہی پار لگائیں گے
طُوفاں سے گر بچ نکلی، ساحل سے ٹکرائیں گے
کہہ تو دیا، اُلفت میں ہم جان کے دھوکا کھائیں گے
حضرتِ ناصح!خیر تو ہے، آپ مجھے سمجھائیں گے؟
یہ تو سب سچ ہے مجھ پر آپ کرم فرمائیں گے
لیکن اتنا دھیان رہے، لوگ بہت بہکائیں گے
عشق...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
دور ہی دور سے اقرار ہوا کرتے ہیں
کچھ اشارے سرِ دیوار ہوا کرتے ہیں
میں بُرا، اور طبیعت مِری اچھی، کیا خوب؟
منتخب کیوں مرے اشعار ہوا کرتے ہیں
تیغ بھاری ہے، وہ نازک ہیں، مری عمر دراز
مشورے قتل کے ہر بار ہوا کرتے ہیں
داغ نے خطِ غلامی جو دیا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
جَل کے ٹھنڈے ہوئے ترے غم میں
ہم کو جنت ملی جہنم میں
کچھ ترا شوق، کچھ تری حسرت
اور رکھا ہی کیا ہے اب ہم میں؟
چل گئی چال آپ کی ہم پر
سیدھے سادے تھے آگئے دم میں
بزمِ دشمن میں کس طرح مرتا
موت آتی نہیں جہنم میں
دل کی قیمت بہت ہے نیم نگاہ
یہ تو آئے گا اس سے بھی...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ہر دم اُسی کی دُھن ہے اُسی کا خیال ہے
چھوٹے چھٹائے ربط پر اب تک یہ حال ہے
جب ہو نہ اعتبار تو کہنے سے فائدہ؟
اللہ جانتا ہے جو اِس دل کا حال ہے
کافر نہ میں ہوں اور نہ محشر ہے بزمِ یار
اپنے کیے سے پھر مجھے کیوں انفعال ہے
اے داغ اُن کی رنجشِ بیجا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی
یہی کمبخت دِکھا دیتی ہے صورت اچھی
ہر طرح دل کا ضرر جان کا نقصان دیکھا
نہ محبت تری اچھی، نہ عداوت اچھی
ہجر میں کس کو بلاؤں؟ نہ بلاؤں کس کو؟
موت اچھی ہے الہٰی کہ قیامت اچھی؟
عیب اپنے بھی بیان کرنے لگے آخر کار...
غزل
(سید انشا اللہ خان انشا)
اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم، اچھا
لو، ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم، اچھا
مشغول کیا چاہیے، اِس دل کو کسی طور
لے لیویں گے ڈھونڈ، اور کوئی یار ہم اچھا
گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی
ہر طور غرض، آپ سے ، ملنا ہے کم اچھا
جو شخص مقیمِ رہِ دلدار...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
آئے کوئی، تو بیٹھ بھی جائے، ذرا سی دیر
مشتاقِ دید، لطف اُٹھائے ذرا سی دیر
میں دیکھ لوں اُسے، وہ نہ دیکھے مری طرف
باتوں میں اُس کو کوئی لگائے ذرا سی دیر
سب خاک ہی میں مجھ کو ملانے کو آئے تھے
ٹھہرے رہے نہ اپنے پرائے ذرا سی دیر
تم نے...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
حسرت آتی ہے دلِ ناکام پر
اس کو دے ڈالوں خدا کے نام پر
ہو گیا صیاد بھی عاشق مزاج
خود بچھا جاتا ہے اپنے دام پر
جب پسند آتا ہے میرا شعر اُنہیں
گالیاں پڑتی ہیں میرے نام پر
جلنے لگتی ہے زبان کہتے ہی، داغ
اُف نکل جاتی ہے میرے نام پر
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے
اس ادا کا کہیں جواب بھی ہے؟
رحم کر میرے حال پر واعظ
کہ اُمنگیں بھی ہیں شباب بھی ہے
مار ڈالا ہے اِس دو رنگی نے
مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے
عشق بازی کو ہے سلیقہ شرط
یہ گناہ بھی ہے یہ ثواب بھی ہے
داغ کا کچھ پتا نہیں...
سائے
(احمد ندیم قاسمی)
یہ سائے، یہ پھیلے پھیلے، بکھرے بکھرے سائے
یہ سائے، یہ دھندلے دھندلے، نکھرے نکھرے سائے
گویہ سائے آج سمجھتے ہیں ، مجھ کو بے گانہ
لیکن ان سے وابستہ ہے ایک حسیں افسانہ
ان کے نیچے میں نے کاٹیں بھادوں کی دوپہریں
جب رقصاں ہوتی تھیں ہر سو، دھوپ کی تپتی لہریں
جب اک البیلی...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
واعظ بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہو
دوزخ میں پاؤں ہاتھ میں جامِ شراب ہو
معشوق کا تو جُرم ہو، عاشق خراب ہو
کوئی کرے گناہ کسی پر عذاب ہو
وہ مجھ پہ شیفتہ ہو مجھے اجتناب ہو
یہ انقلاب ہو تو بڑا انقلاب ہو
دنیا میں کیا دھرا ہے؟ قیامت میں لطف ہو...
غزل
(حیدر علی آتش)
آئے بہار جائے خزاں ہو چمن درست
بیمار سال بھر کے نظر آئیں تندرست
حالِ شکستہ کا جو کبھی کچھ بیان کیا
نکلا نہ ایک اپنی زباں سے سخن درست
رکھتے ہیں آپ پاؤں کہیں پڑتے ہیں کہیں
رفتار کا تمہاری نہیں ہے چلن درست
جو پہنے اُس کو جامہء عریانی ٹھیک ہو
اندام پر ہر اک...
غزل
(مومن خان شوق)
حسابِ جفا اور وفا رہنے دیجے
سوالِ سزا و جزا رہنے دیجے
میں پتھر سہی کیوں ہٹاتے ہو مجھ کو
مجھے راستے میں پڑا رہنے دیجے
کوئی راہ میں پھر بھٹکنے نہ پائے
سرِ راہ جلتا دِیا رہنے دیجے
کبھی کوئی خوشبو کا آئے گا جھونکا
دریچہ ہمیشہ کھُلا رہنے دیجے
ہمیں بھی تو...
مُحسنِ انسانیت
از: ضرر وصفیؔ
مجسّم نور، نورِ اولیں صلی اللہ علیہ وسلم کی جب ولادت کی گھڑی آئی
اندھیرے دم بہ خود حیراں یہ کیسی روشنی آئی
ختم المرسلیں صلی اللہ علیہ وسلم جو آخری پیغام لائے ہیں
رہیں گے حشر تک روشن چراغ ایسے جلائے ہیں
رضائے حق کی خاطر ہی ہزاروں دُکھ اُٹھائے ہیں...
خدا
از: ضرر وصفیؔ
اس خرابے میں کون آئے گا
کس کا یہ انتظار رہتا ہے
کون کس کا خیال کرتا ہے
خاک اُڑتی ہوئی حوادث کی
آرزو، حسرتیں، تمنائیں
سبز سے زرد تک سفر تنہا
کیا خبر اس کی کچھ نہیں تم کو
تم ہی روٹھے ہوئے سے رہتے ہو
زیست کا درد و کرب سہتے ہو
ورنہ اک مہرباں بھی ہے اپنا
"کالے پتھر...