غزل
(ذوق)
حالت نشہ میں دیکھنا اس بےحجاب کی
ہرناز سے ٹپکتی ہے مستی شراب کی
کوچہ میں آپڑے تھے ترے خاک ہو کے ہم
یاں تو صبا نے اور بھی مٹی خراب کی
قاصد جواب جان مری دے چلی مجھے
پر منتظر ہے آنکھوں میں خط کے جواب کی
نکلے ہو مے کدہ سے ابھی منہ چھپا کے تم
دابے ہوئے بغل میں...
غزل
(ذوق)
کہتے ہیں جھوٹ سب کہ نہیں پاؤں جھوٹ کے
جھوٹے تو بیٹھتے بھی نہیں پاؤں ٹوٹ کے
چلتا ہو ذوق قید سے ہستی کے چھوٹ کے
یہ قید مار ڈالے گی دم گھوٹ گھوٹ کے
ڈھالا جو تجھ کو حسن کے سانچے میں اے صنم
آنکھوں کی جائے بھر دئیے موتی سے کوٹ کے
بے درد سینہ کوٹنا خالی نہیں مزا
دل میں...
غزل
(ذوق)
دن کٹا جائے اب رات کدھر کاٹنے کو
جب سے وہ گھر میں نہیں، دوڑے ہے گھر کاٹنے کو
ہائے صیاد تو آیا مرے پر کاٹنے کو
میں تو خوش تھا کہ چھری لایا ہے سر کاٹنے کو
اپنے عاشق کو نہ کھلواؤ کنی ہیرے کی
اُس کے آنسو ہی کفایت ہیں جگر کاٹنے کو
دانت انجم سے نکلالے ہوئے تجھ بن مجھ پر...
غزل
(ذوق)
ہم سے ظاہر و پنہاں جو اُس غارت گر کے جھگڑے ہیں
دل سے دل کے جھگڑے ہیں نظروں سے نظر کے جھگڑے ہیں
جیتے ہی جی کیا ملک فنا میں ساتھ بشر کے جھگڑے ہیں
مر کے ادھر سے جبکہ چھٹے تو جا کے اُدھر کے جھگڑے ہیں
کیسا مومن، کیسا کافر کون ہے صوفی کیسا رند
سارے بشر ہیں بندے...
غزل
(ولی دکنی - ولی الدین رحمتہ اللہ علیہ)
صحبتِ غیر میں جایا نہ کرو
درد مندوں کو کڑہا یا نہ کرو
حق پرستی کا اگر ہے دعویٰ
بے گناہوں کو ستایا نہ کرو
اپنی خوبی کے اگر ہو طالب
اپنے طالب کو جلایا نہ کرو
ہے اگر خاطر عشاق عزیز
غیر کو شکل دکھایا نہ کرو
ہم کو برداشت نہیں غصہ...
غزل
(ساغر صدیقی)
میں تلخیء حیات سے گھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے
یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا
چھلکے ہوئے تھے جام، پریشان تھی زلف یار
کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
میں آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج...
غزل
(ساغر صدیقی)
زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ
وہ جو بھی پلائیں پی جاؤ
اے تشنہ دہانِ جور خزاں
پھولوں کی ادائیں پی جاؤ
تاریکی دوراں کے مارو
صبحوں کی ضیائیں پی جاؤ
نغمات کا رس بھی نشہ ہے
بربط کی صدائیں پی جاؤ
مخمور شرابوں کے بدلے
رنگین خطائیں پی جاؤ
اشکوں کا مچلنا ٹھیک...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
مری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خوش
اُنہیں عید کی سی خوشی ہوئی، رہے شام تک وہ سحر سے خوش
کبھی شاد درہم داغ سے کبھی آبلوں کے گُہر سے خوش
یہ بڑی خوشی کا مقام ہے غمِ ہجر یار ہے گہر سے خوش
اُنہیں بزم غیر میں تھا گماں کہ یہ سادہ لوح بہل...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گرا میں ضعیف اُس کے کوچے کو چل کر
زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر
نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر
سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر
اِدھر کی نہ ہوجائے دنیا اُدھر کو
زمانے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ
صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ
ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ
بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ
ناز اُٹھانے کا ہے...
مجاہدینِ بلوچستان
(مولانا ظفر علی خاں - 1934ء )
مردانِ مجاہد ہیں گردانِ بلوچستان
دبتے نہیں باطل سے شیرانِ بلوچستان
جس وقت سے قاسم نے گاڑا ہے یہاں جھنڈا
لغزش میں نہیں آیا ایمانِ بلوچستان
کیا لائیں گے خاطر میں خُم خانہء لندن کو
مست مَے یثرب ہیں رندانِ بلوچستان
خونِ رگِ بطحا سے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے
کبھی اس گھر میں آنکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے
نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرے
کہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے
جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایا
کہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے
کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے
ادائیں کھیلتی ہیں رنگ، تلوار اُس نے کھولی ہے
لہو کی چلتی ہیں پچکاریاں، مقتل میں ہولی ہے
بہار آئی، چمن ہوتا ہے مالا مال دولت سے
نکالا چاہتے ہیں زرگرہ غنچوں نے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
کون بیماری میں آتا ہے عیادت کرنے؟
غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے
اُس کو سمجھاتے نہیں جاکے کسی دن ناصح
روز آتے ہیں مجھ ہی کو یہ نصیحت کرنے
تیر کے ساتھ چلا دل، تو کہا میں نے، کہاں؟
حسرتیں بولیں کہ، مہمان کو رخصت کرنے
آئے میخانے میں، تھے پیرِ...
غزل
(سید انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ علیہ)
ہے ظلم، اُس کو یار کیا ، ہم نےکیا کیا؟
کیا جبر اختیار کیا ہم نے، کیا کیا؟
اُس رشک گل کی خواہشِ بوس و کنار کو
اپنے گلے کا ہار کیا، ہم نے کیا کیا؟
دستِ جنوں سے اپنے گریبانِ صبر کو
اے عشق، تار تار کیا، ہم نے کیا کیا؟
رہ رہ کے دل میں ،...
غزل
(سید انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ)
پھنس گئے عندلیب ہو بیکس
ہائے تنہائی اور کُنجِ قفس
ہاتھا پائی ہوئی کچھ ایسی کہ پھر
اُن کی اُنگلی کی چڑھ گئی جھٹ نس
جبکہ دیکھا کہ چھوڑتا ہی نہیں
تب تو ٹھہری کہ دیں گے بوسہ دس
ایک، دو، تین، چار ، پانچ، چھ ، سات،
آٹھ ، نو ، دس...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
تیغِ قاتل پہ ادا لوٹ گئی
رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی
ہنس پڑے آپ، تو بجلی چمکی
بال کھولے، تو گھٹا لوٹ گئی
اس روش سے وہ چلے گلشن میں
بِچھ گئے پھول صبا لوٹ گئی
خنجرِ ناز نے کشتوں سے امیر
چال وہ کی کہ قضا لوٹ گئی
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میں
دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
بجلی چمک رہی ہے فلک پر سحاب میں
اب دختِ رز کو چین کہاں ہے حجاب میں
اللہ رے میرے دل کی تڑپ اضطراب...
غزل
(شاعرِ فصیح اللسان ، ناظمِ بلیغ البیان، شمس العلما جناب مولوی نواب سید امداد امام صاحب بہادر رئسِ اعظم پٹنہ المتخلص بہ اثر لکھنوی )
غم نہیں مجھ کو جو وقتِ امتحاں مارا گیا
خوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جانِ جاں مارا گیا
تیغِ ابرو سے دلِ عاشق کو ملتی کیا پناہ
جو چڑھا مُنہ پر اجل کے...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئی
وہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے...