بسم اللہ الرحمن الرحیم
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
الھم صلی علی محمد ﷺ وعلی آل محمد ﷺ
فکر شاعر کب ہے پا بند زما نہ و زمیں
پل میں جا پہنچے کہیں اس سے یہ ناممکن نہیں
جا م اک مجھ کو پلا دےآج سا قی پھر یہیں...
غزل
(ساغر صدیقی)
یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
مرا شعور مزاج عوام بدلے گا
یہ کہہ رہی ہیں فضائیں بہار ہستی کی
نیا طریق قفس اور دام بدلے گا
نفس نفس میں شرارے سے کروٹیں لیں گے
دلوں میں جذبہء محشر خرام بدلے گا
مروتوں کے جنازے اٹھائے جائیں گے
سنا ہے ذوق سلام و پیام بدلے گا
دل...
غزل
(ساغر صدیقی)
جام ٹکراؤ! وقت نازک ہے
رنگ چھلکاؤ! وقت نازک ہے
حسرتوں کی حسین قبروں پر
پھول برساؤ! وقت نازک ہے
اک فریب اور زندگی کے لیئے
ہاتھ پھیلاؤ! وقت نازک ہے
رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کا
اب تو آجاؤ! وقت نازک ہے
تشنگی تشنگی ارے توبہ!
زلف لہراؤ ! وقت نازک ہے
بزم ساغر...
غزل
(ساغر صدیقی)
محبت کے مزاروں تک چلیں گے
ذرا پی لیں! ستاروں تک چلیں گے
سنا ہے یہ بھی رسم عاشقی ہے
ہم اپنے غمگساروں تک چلیں گے
چلو تم بھی! سفر اچھا رہے گا
ذرا اجڑے دیاروں تک چلیں گے
جنوں کی وادیوں سے پھول چن لو
وفا کی یادگاروں تک چلیں گے
حسین زلفوں کے پرچم کھول دیجیے...
معاہدات
(ساغر نظامی)
سرِ شوق پیہم جھکاتا رہونگا
بہ ہر گام کعبہ بناتا رہونگا
یہ بادِ مخالف سے ہے شرط میری
چراغ اپنے خود ہی بجھاتا رہونگا
ہے برق و شرر سے مرا عہد نامہ
کہ خود اپنے خرمن بتاتا رہونگا
شبِ تار سے میں نے وعدہ کیا ہے
اندھیرے کو مشعل دکھاتا رہونگا
زباں دی ہے...
غزل
(ذرہ حیدر آبادی)
درد بہت ہے زُلف بکھیرے رکھو نہ
تم سینے پہ ہاتھ تو میرے رکھو نہ
اب آنگن میں دھوپ کی کرنیں آئیں گی
ایسے ایسے پیارے چہرے رکھو نہ
چال تمہاری پہلے ہی مستانی ہے
اب قدموں کو دھیرے دھیرے رکھو نہ
خوشیاں سب کو بانٹ سکو تو بانٹو تم
گھر میں ایسے چاند ستارے رکھو...
غزل
(افتخار راغب)
شامِ غم کی نہیں سحر شاید
یونہی تڑپیں گے عمر بھر شاید
حالِ دل سے مِرے ہیں سب واقف
صرف تو ہی ہے بے خبر شاید
روز دیدار تیرا کرتا ہوں
تجھ کو حیرت ہو جان کر شاید
وہ بھی میرے لیے تڑپتے ہوں
ایسا ممکن نہیں مگر ، شاید
شاخِ اُمید سبز ہے اب تک
آہی جائے کوئی ثمر شاید...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یہ سُنتے ہیں اُن سے یہاں آنے والے
جہنم میں جائیں وہاں جانے والے
ترس کھا ذرا دل کو ترسانے والے
اِدھر دیکھتا جا اُدھر جانے والے
وہ جب آگ ہوتے ہیں غصہ سے مجھ پر
تو بھڑکاتے ہیں اور چمکانے والے
مرادل، مرے اشک، غصہ تمہارا
نہیں رکتے روکے سے یہ آنے والے...
غزل
(جہانِ اُستادِ بلبل ہندوستان مقرب الخاقان زمن اُستاد السلطان ِ دکن فصیح الملک دبیر الدولہ ناظم یار جنگ نواب میرزا خاں صاحب داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ )
محوِ قدِ یار ہو گئے ہم
سُولی پہ چڑھے تو سُو گئے ہم
ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم
جب آنکھ کھُلی تو سُو گئے ہم...
غزل
(جہانِ اُستادِ بلبل ہندوستان مقرب الخاقان زمن اُستاد السلطان ِ دکن فصیح الملک دبیر الدولہ ناظم یار جنگ نواب میرزا خاں صاحب داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ )
حال دل کا آشکارا ہوگیا
یہ ہمارا تھا ، تمہارا ہوگیا
راہ سے لیلٰی کی جو ذرّہ اُڑا
آنکھ کا مجنوں کی تارا...
غزل
(شمس ولی اللہ ولی دکنی)
خوب رو خوب کام کرتے ہیں
یک نگہ میں غلام کرتے ہیں
دیکھ خوباں کو وقت ملنے کے
کس ادا سوں سلام کرتے ہیں
کیا وفا دار ہیں کہ ملنے میں
دل سوں سب رام رام کرتے ہیں
کم نگاہی سوں دیکھتے ہیں ولے
کام اپنا تمام کرتے ہیں
کھولتے ہیں جب اپنی زلفاں کو
صبح عاشق کوں...
غزل
(آنند نرائن ملاّ)
چُھپ کے دنیا سے سوادِ دلِ خاموش میں آ
آ یہاں تو مری ترسی ہوئی آغوش میں آ
اور دنیا میں ترا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں
اے مرے دل کی تمنا لب خاموش میں آ
مئے رنگیں! پس مینا سے اشارے کب تک
ایک دن ساغر رندان بلا نوش میں آ
عشق کرتا ہے تو پھر عشق کی توہین نہ کر...
غزل
(تلوک چند محروم)
اس کا گلہ نہیں کہ دُعا بے اثر گئی
اک آہ کی تھی وہ بھی کہیں جا کے مر گئی
اے ہم نفس، نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موجِ نسیم تھی، اِدھر آئی، اُدھر گئی
دامِ غمِ حیات میں الجھا گئی اُمید
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی
اس زندگی سے ہم کو نہ دنیا ملی نہ دین
تقدیر کا...
غزل
(سرور عالم راز سرور)
دِلوں کے درمیاں جھوٹی مروّت آہی جاتی ہے
ہو اُلفت خام تو بوئے سیاست آہی جاتی ہے
گِلا کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا
“خدا جب حُسن دیتا ہے، نزاکت آہی جاتی ہے“
یہ ہے اک حادثہ یا حسن کی معجز نمائی ہے؟
نظر اُٹھتے ہی اُس کی اِک قیامت آہی جاتی ہے
یہ راہِ عشق...
غزل
(جوش ملیح آبادی)
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا
یہی تو ہیں دو ستُونِ محکم ان ہی پہ قائم ہے نظم عالم
یہ ہی تو ہے رازِ خُلد و آدم ،نگاہ میری، شباب تیرا
صبا تصدّق ترےنفس پر ،چمن تیرے پیرہن پہ قرباں
شمیم...
غزل
(مُنشی سید ریاض احمد ، متخلص ریاض - خیر آبادی، شاعری کا وطن لکھنؤ)
بہار نام کی ہے، کام کی بہار نہیں
کہ دستِ شوق کسی کے گلے کا ہار نہیں
رہے گی یاد اُنہیں بھی ، مجھے بھی، وصل کی رات
کہ اُن سا شوخ نہیں، مجھ سا بیقرار نہیں
سحر بھی ہوتی ہے چلتے ہیں اے اجل ہم بھی
اب اُن کے آنے کا...
غزل
(شاد پیر و میر)
شیخ محمد جان نام، تخلص شاد ، مشہور بہ شاد پیر و میر ، باپ کا نام شیخ وارث علی، دادا شیخ فضل علی لکھنؤ کے قدیم شیخ زادے تھے۔ حضرت محمد بن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل سے تھے۔
اجداد مذہب حنفی سنی رکھتے تھے۔ مگر عہد شاہی میں شیعہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔
شاد پیر...
غزل
(مُنشی سید ریاض احمد ، متخلص ریاض - خیر آبادی، شاعری کا وطن لکھنؤ)
میرے سر پہ کبھی چڑھی ہی نہیں
میں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیں
ہائے سبزے میں وہ سیہ بوتل
کبھی ایسی گھٹا اُٹھی ہی نہیں
کس قدر ہے بنا ہوا زاہد
جیسے اس نے “وہ چیز“ پی ہی نہیں
صبح کا جھٹ پٹا تھا، شام نہ تھی
وصل...
غزل
(رضا علی وحشت)
لطفِ نہاں سے جب جب وہ مسکرا دیئے ہیں
میں نے بھی زخم دل کے اُن کو دکھا دیئے ہیں
کچھ حرفِ آرزو تھا کچھ یادِ عیش ِ رفتہ
جتنے تھے نقش دل میں، ہم نے مٹا دئیے ہیں
فرطِ غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاں
اُس نے عنایتوں کے دریا بہا دئیے ہیں
دیکھے ہیں تیرے تیور دھوکا نہ...
غزل
(راز رامپوری)
ضبط کا حق ادا نہ ہو جائے
وہ ستمگر خفا نہ ہو جائے
عشق کی بیکسی ارے توبہ
حُسن درد آشنا نہ ہو جائے
دیکھ اے جذبِ دل وہ پردہ نشیں
کہیں جلوہ نُما نہ ہو جائے
شکوہ کرنے چلا تو ہوں لیکن
شکرِ نعمت ادا نہ ہو جائے
کیوں پشیماں ہو تم جفاؤں پر
دل کو کچھ حوصلہ نہ ہو...