چُھپ کے دنیا سے سوادِ دلِ خاموش میں آ - آنند نرائن ملاّ

کاشفی

محفلین
غزل
(آنند نرائن ملاّ)

چُھپ کے دنیا سے سوادِ دلِ خاموش میں آ
آ یہاں تو مری ترسی ہوئی آغوش میں آ

اور دنیا میں ترا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں
اے مرے دل کی تمنا لب خاموش میں آ

مئے رنگیں! پس مینا سے اشارے کب تک
ایک دن ساغر رندان بلا نوش میں آ

عشق کرتا ہے تو پھر عشق کی توہین نہ کر
یا تو بے ہوش نہ ہو، ہو تو نہ پھر ہوش میں آ

تو بدل دے نہ کہیں جوہر انساں کا بھی رنگ
اے زمانے کے لہو دیکھ نہ یوں جوش میں آ

دیکھ کیا دام لگاتی ہے نگاہِ ملاّ
کبھی اے غنچہء تر دست گل افروش میں آ
 

محمد وارث

لائبریرین
عشق کرتا ہے تو پھر عشق کی توہین نہ کر
یا تو بے ہوش نہ ہو، ہو تو نہ پھر ہوش میں آ

لاجواب۔

شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے۔
 

کاشفی

محفلین
سخنور صاحب ، فاتح صاحب، محمد وارث، رانا صاحب اور ملائکہ بہن آپ سب کا بیحد شکریہ خوش رہیں۔۔
 

مغزل

محفلین
بہت شکریہ کاشفی ، ایک شعر یاد آگیا ، پچھلے دنوں دوستوں کو ایس ایم ایس پر بھیجا بھی تھا۔

مرے وطن کی خزاں مطمعن رہے کہ یہاں
خدا کے فضل سے اندیشہ ِ بہار نہیں
آنند نارائن ملّا
 
Top