نتائج تلاش

  1. کاشفی

    شیدا اور مجی - از: وسعت اللہ خان

    شیدا اور مجی از: وسعت اللہ خان (بی بی سی اردو) شیدا: پہلے تو مجھے صرف شبہہ تھا۔ اب تو اسکی پہلی تقریر سن کر پکا پکا یقین ہوگیا ہے کہ وہ اندر سے مسلمان ہی ہے۔ اسی لیے وہ گوانتانامو بھی ختم کررہا ہے۔۔۔ مجی: مجھے پتہ ہے کہ تو کیوں کہہ رہا ہے۔ اصل میں تو بارک کے ساتھ حسین لگنے سے دھوکہ کھا گیا...
  2. کاشفی

    اردو نثر پارے

    عورت عورت رنج میں ساتھ دیتی ہے اور راحت کو دوبالا کر دیتی ہے ۔ باعصمت عورت عموماً مغرور اور شوخ ہوتی ہے۔ کیونکہ اسے اپنی عصمت پرناز ہوتا ہے۔ عورت مرد کے لئے بیش بہا نعمت اور خدا ئی برکت ہے۔ عورت نہایت بے تکلفی کے ساتھ شوہر سے ان مشکلات کا شکوہ کرتی ہے جو اسے گھر میں پیش آتی ہے۔ لیکن اگر اُسے...
  3. کاشفی

    حسّیات - اصغر حسین خاں نظیر

    حسّیات (اصغر حسین خاں نظیر) ظلم پیہم سے مدعا کیا ہے میرے دل میں ترے سوا کیا ہے لطفِ بیداد ناروا کیا ہے مصرفِ جانِ بے وفا کیا ہے قیدِ ہستی کا کچھ سبب نہ کھلا مجھ گناہ گار کی خطا کیا ہے جبکہ تو خود ہے قادرِ مطلق میری ہستی سے مدعا کیا ہے یہ فضائے بسیط کیسی ہے ماہ و پرویں ہیں کیا سہا کیا...
  4. کاشفی

    اقبال سے

    اقبال سے (شاعر ہمیں معلوم نہیں) اے کہ تری ذات سے قائم ہے ملت کا وقار اے کہ تجھ سے ملتہب ہے زندگانی کا شرار اے کہ تری روح میں ہیں جذبِ فطرت کے رموز اے کہ تیرا دل ہے روشن مثل مہرِ نیم روز اے کہ تیرا فلسفہ ہے جان اسرارِ خودی اے کہ تیرا نغمہ ہے مضراب سازِ زندگی اے کہ تیری لوح دل...
  5. کاشفی

    تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں - جلال الدین اکبر

    غزل (جلال الدین اکبر ) تمہیں لطف کرنا گوارا نہیں مِرا اور کوئی سہارا نہیں تمہیں پاس کچھ بھی ہمارا نہیں مروت نہیں ہے مدارا نہیں یہ مانا بجز صبر چارا نہیں یہاں صبر کا بھی تو یارا نہیں مرے عجز کی انتہا ہوچکی غمِ رشک بھی ناگوارا نہیں جدائی، جدائی کے صدمے نہ پوچھ مرا حال کیا آشکارا نہیں...
  6. کاشفی

    فیض رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا - فیض

    غزل (فیض احمد فیض ) رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا آس اُس در سے ٹوٹتی ہی نہیں جا کے دیکھا ، نہ جا کے دیکھ لیا وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا آج اُن کی نظر میں کچھ ہم نے سب کی...
  7. کاشفی

    وہ رنگ دے تابِ عاشقی میں جو حُسن کو لاجواب کردے - مراتب علی تائب

    غزل (مراتب علی تائب) وہ رنگ دے تابِ عاشقی میں جو حُسن کو لاجواب کردے مری نظر میں وہ برق بھر دے جو تجھ کو بھی بے حجاب کر دے کہاں ہے وہ لطفِ ناز تیرا وہ عشوہء جاں طراز تیرا نگاہ تیری، جو میرے ہر لفظِ آرزو کو کتاب کردے مری نظرکو تلاش تیری ، مری نظر تجھ کو ڈھونڈتی ہے مری حقیقت کے خواب...
  8. کاشفی

    پھول سونگھے، جانے کیا یاد آگیا!! - اختر انصاری دہلوی

    غزل (اختر انصاری دہلوی) پھول سونگھے، جانے کیا یاد آگیا!! دل عجب انداز سے لہرا گیا! اُس سے پوچھے کوئی چاہت کے مزے جس نے چاہا اور جو چاہا گیا ایک لمحہ بن کے عیش ِ جاوداں میری ساری زندگی پر چھا گیا غنچہء دل ہائے! کیسا غنچہ تھا جو کِھلا اور کھِلتے ہی مرجھا گیا رو رہا ہوں...
  9. کاشفی

    دُور اس دنیا سے ہو کوئی جہاں میرے لئے - جلیل قدوائی

    غزل (جلیل قدوائی) دُور اس دنیا سے ہو کوئی جہاں میرے لئے اس جہاں میں تو نہیں امن و اماں میرے لئے! اک جہاں جس میں نہ ہو فکر و تردّد کا ہجوم اک جہاں جس میں نہ ہو شو رو فغاں میرے لئے اک جہاں جس میں نہ ہو کچھ ما و تُو کا امتیاز اک جہاں آزادِ قیدِ این و آں میرے لئے اک جہاں جس میں نہ ہو علم و...
  10. کاشفی

    تجدیدِ پیماں - شہید ابن علی

    تجدیدِ پیماں (شہید ابن علی) پھر حسنِ معذرت پہ یقیں لارہا ہوں آج پھر چشمِ شرمسار سے شرما رہا ہوں آج پھر کر رہا ہوں عہدِ محبت پہ اعتماد پھر جامِ جاں گداز پئے جارہا ہوں آج پھر کر رہا ہوں یاس پہ تعمیر ِ آرزو پھر بے طرح فریبِ وفا کھا رہا ہوں آج پھر چھا رہا ہے عقل پہ افسونِ بے خودی...
  11. کاشفی

    اختر شیرانی چمن بھی ہے، ابر بھی،ہوابھی، شراب بھی، سبزہ زار بھی ہے! - اختر شیرانی

    غزل (اختر شیرانی) چمن بھی ہے، ابر بھی،ہوابھی، شراب بھی، سبزہ زار بھی ہے! الہٰی توبہ کی خیر، آغوش میں وہ جانِ بہار بھی ہے! یہ آنکھوں آنکھوں میں تُونےساقی ،خبرنہیں کچھ، ملادیا کیا؟ میں اُس نشیلی نظرکےصدقے،کچھ اِس نشےکااُتاربھی ہے! نہ جانے مجھ سے خطاہوئی کیا کہ پھرنہ جام شراب بخشا...
  12. کاشفی

    اختر شیرانی وہ دُور سے نقاب اُٹھا کر چلے گئے - اختر شیرانی

    غزل (اختر شیرانی) وہ دُور سے نقاب اُٹھا کر چلے گئے آنکھوں پہ بجلیاں سی گرا کر چلے گئے دامن بچا کے، ہنس کے،لجا کر چلے گئے کیا کیا ، لحد پہ پھول چڑھا کر چلے گئے سینے میں اِک تپش سی بسا کرچلے گئے کیسے مزے کی آگ لگا کر چلے گئے شاداب ہو سکا...
  13. کاشفی

    سایہ تھا مرا، اور مرے شیدائیوں میں تھا - راشد آزر

    غزل (راشد آزر) سایہ تھا مرا، اور مرے شیدائیوں میں تھا اک انجمن سا وہ مری تنہائیوں میں تھا چھنتی تھی شب کو چاندنی بادل کی اوٹ سے پیکر کا اُس کے عکس سا پرچھائیوں میں تھا کوئل کی کُوک بھی نہ جواب اُس کا ہوسکی لہرا ترے گلے کا جو شہنائیوں میں تھا جس دم مری عمارتِ دل شعلہ...
  14. کاشفی

    جہاں میں ڈھونڈنے والے کو کیا نہیں ملتا - عشرت لکھنوی

    غزل (خواجہ محمد الرئوف عشرت لکھنوی) جہاں میں ڈھونڈنے والے کو کیا نہیں ملتا مگر ہمیں دلِ بے مُدعا نہیں ملتا کہاں ہیں وقتِ مصیبت قرار و صبر و شکیب رفیق کوئی مزاج آشنا نہیں ملتا بنا رہے ہیں وہ دل میں ہمارے گھر اپنا کہ اس سے بڑھ کے مکاں دوسرا نہیں ملتا غرور زندگی مستعار بے جا...
  15. کاشفی

    داغ دل چُرا کر نظر چُرائی ہے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) دل چُرا کر نظر چُرائی ہے لُٹ گئے لُٹ گئے دہائی ہے ایک دن مل کے پھر نہیں ملتے کس قیامت کی یہ جدائی ہے میں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرا نارسائی عجب رسائی ہے پانی پی پی کے توبہ کرتا ہوں پارسائی سی پارسائی ہے وعدہ کرنے کا اختیار رہا بات کرنے میں...
  16. کاشفی

    داغ ملے کیا کوئی اُس پردہ نشیں سے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) ملے کیا کوئی اُس پردہ نشیں سے چھپائے منہ جو صورت آفریں سے مرے لاشے پر اُس نے مُسکرا کر ملیں آنکھیں عدو کی آستیں سے اثر تک دسترس کیوں کر ہو یارب دعا نے ہاتھ باندھے ہیں یہیں سے اُنہوں نے دل لیا ہے مفت وہ بھی بڑی حجت سے، نفرت سے، نہیں سے...
  17. کاشفی

    کفایت شِعاری - عشرت لکھنوی

    کفایت شِعاری (عشرت لکھنوی) جو بن جائیں ہم سب کفایت شعار کریں عادت جز رسی اختیار نظر آمد و چرخ پر گر رَہے رَہے یوں نہ فاقہ کشی پر مدار نچوڑا ہے ہم سب کو اسراف نے بنایا ہے قلاش و بے روزگار زیادہ بہت خرچ آمد سے ہے نئی چال کرتے ہیں کیوں اختیار پھنسے غیر ملکوں کی اشیا میں...
  18. کاشفی

    کمسنی جاتی ہے تو عہدِ شباب آتا ہے - عشرت لکھنوی

    غزل (خواجہ محمد الرئوف عشرت لکھنوی) کمسنی جاتی ہے تو عہدِ شباب آتا ہے جو مری جان کو آتا ہے عذاب آتا ہے خط جلاتے ہیں کہ قاصد پہ عتاب آتا ہے دیکھئے کیا مری قسمت سے جواب آتا ہے خلوت خاص میں شرمانے کا باعث کیا ہے بے محل آپ کو اس وقت حجاب آتا ہے حُسن کی اس کو پرکھ ہے نہ...
  19. کاشفی

    ہمارا جذب اُنہیں کھینچ لائے گا گھر سے - عشرت لکھنوی

    غزل (خواجہ محمد الرئوف عشرت لکھنوی) ہمارا جذب اُنہیں کھینچ لائے گا گھر سے یہ کب اُمید تھی پھوٹے ہوئے مقدر سے شہید کون ہوا قتل گاہ میں خنجر سے لہو جو روتی ہے تلوار چشم جوہر سے بلائے جاں ہے بخیلوں کے واسطے دولت ہلاک ہوگیا قارون کثرت زر سے وہ دو گھڑی جو عیادت کو میری آئے...
  20. کاشفی

    ساغر صدیقی پاکستان کے سیاستدان - ساغر صدیقی

    پاکستان کے سیاستدان (ساغر صدیقی) گرانی کی زنجیر پاؤں میں ہے وطن کا مقدر گھٹاؤں میں ہے اطاعت پہ ہے جبر کی پہرہ داری قیادت کے ملبوس میں ہے شکاری سیاست کے پھندے لگائے ہوئے ہیں یہ روٹی کے دھندے جمائے ہوئے ہیں یہ ہنس کر لہو قوم کا چوستے ہیں خدا کی جگہ خواہشیں پوجتے ہیں یہ ڈالر...
Top