نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ساغر صدیقی عورت - ساغر صدیقی

    عورت (ساغر صدیقی) اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی جبینوں پہ نور مسرت نہ ہوتی نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی فقیروں کو عرفان ہستی...
  2. کاشفی

    داغ پری جمال بھی انساں ضرور ہوتا ہے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) پری جمال بھی انساں ضرور ہوتا ہے پھر اُس پر آنکھ ہو اچھی تو حور ہوتاہے قصور وار ہوں مجھ سے قصور ہوتا ہے مگر جب ہی کہ یہ دل، ناصبور ہوتا ہے ہزاروں آتے ہیں کعبے سے پھر کے زاہد کیوں خدا کے گھر میں ٹھکانا ضرور ہوتا ہے ہمیشہ عذر بھی کرتے ہوئے نہیں بنتی...
  3. کاشفی

    داغ چل دئیے شکل دکھا کر وہ کوئی کیا دیکھے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) چل دئیے شکل دکھا کر وہ کوئی کیا دیکھے دیکھنے کا یہ مزا ہے کہ سراپا دیکھے کیا سریلی ہیں صدائیں تری کیا جلوہ ہے سننے والا یہ سنے ، دیکھنے والا دیکھے وہ دوپٹے کا سرکنا ، وہ کسی کا کہنا آنکھیں پھوٹیں جو کوئی سینہ ہمارا دیکھے بے سبب جس نے نکالا...
  4. کاشفی

    داغ یہ تماشا دیکھئے یا وہ تماشا دیکھئے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) یہ تماشا دیکھئے یا وہ تماشا دیکھئے دی ہیں دو آنکھیں خدا نے، ان سے کیا کیا دیکھئے چھیڑکر مجھ کو ذرا میرا تماشا دیکھئے دیکھتے ہی دیکھتے ہوتا ہے کیا کیا دیکھئے ہیں ادائیں سی ادائیں اس سراپا ناز کی اک نیا انداز پیدا ہوگا جتنا دیکھئے اس کا ثانی ہے کہاں...
  5. کاشفی

    داغ یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہوگی - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہوگی خدا کے سامنے جب میری آپ کی ہوگی تمام عمر بسر یوں ہی زندگی ہوگی خوشی میں رنج کہیں رنج میں خوشی ہوگی وہاں بھی تجھ کو جلائیں گے، تم جو کہتے ہو خبر نہ تھی مجھے جنت میں آگ بھی ہوگی تری نگاہ کا لڑنا مجھے مبارک ہو یہ...
  6. کاشفی

    داغ چُپ کھڑے ہیں وہ، ہتھیلی پہ ہمارا دل ہے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) چُپ کھڑے ہیں وہ، ہتھیلی پہ ہمارا دل ہے سوچتے ہیں اسے کیا کیجئے، کس قابل ہے تم بھی ناراض، خفا ہم بھی ہیں، کیا مشکل ہے نہ ہمارا نہ تمہارا، تو یہ کس کا دل ہے جابجا نصب ہیں غیروں کی یہاں تصویریں تیری خلوت ہے کہ حیرانوں کی یہ مٍحفل ہے جان دل...
  7. کاشفی

    داغ کوئی تو محبت میں مجھے صبر ذرا دے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) کوئی تو محبت میں مجھے صبر ذرا دے تیری تو مثل وہ ہے نہ میں دوں نہ خدا دے بے جرم کرے قتل وہ قاتل ہے ہمارا یہ شیوہ ہے اُس کا کہ خطا پر نہ سزا دے دولت جو خدائی کی ملے کچھ نہیں پروا بچھڑے ہوئے معشوق کو اللہ ملا دے کرتا ہے رقیب اُن کی شکایت مرے آگے...
  8. کاشفی

    داغ اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو یاد نے اُس کی کہا بھول گئے تم مجھ کو ہنستے ہنستے کبھی روتا ہوں تصّور میں ترے روتے روتے کبھی آتا ہے تبسّم مجھ کو کیوں گناہ لیتے ہیں تھوڑی سی پلانے والے کل ملے کوثر اُسے آج جو دے خم مجھ کو کیا کرے دیکھئے...
  9. کاشفی

    داغ ہم اُنہیں جی سے پیار کرتے ہیں - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) ہم اُنہیں جی سے پیار کرتے ہیں وہ کہاں اعتبار کرتے ہیں منتظر ہیں مرے جنازے کے وہ مرا انتظار کرتے ہیں غیر کی بات اور جھوٹی بات آپ ہی اعتبار کرتے ہیں دلربا بھی ہے دل بھی ہے معشوق ہم تو دونوں کو پیار کرتے ہیں جان جھپٹی، کسی کا دل لوٹا وہ...
  10. کاشفی

    داغ ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) ہوش آتے ہی محو ہوگئے ہم جب آنکھ کھُلی تو سو گئے ہم پیری میں جواں ہوگئے ہم جب صبح ہوئی تو سوگئے ہم راحت سے عدم میں ہوگئے ہم منزل پہ پہنچ کے سو گئے ہم اُس بزم میں دل نے ساتھ چھوڑا ایک آئے وہاں سے دو گئے ہم کافر کہیں ہم کو یا مسلماں اب ہو...
  11. کاشفی

    داغ جس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہم - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) جس وقت آئے ہوش میں کچھ بیخودی سے ہم کرتے رہے خیال میں باتیں اُسی سے ہم ناچار تم ہو دل سے، تو مجبور جی سے ہم رکھتے ہو تم کسی سے محبت، کسی سے ہم یوسف کہا جو اُن کو تو ناراض ہوگئے تشبیہ اب نہ دیں گے کسی کو کسی سے ہم ہوتا ہے پُرضرور خوشی کا مآل رنج...
  12. کاشفی

    میر مہدی مجروح نہیں رازِ ہستی جتانے کے قابل - میر مہدی مجروح دہلوی

    غزل (جناب میر مہدی صاحب مجروح دہلوی مرحوم و مغفور) نہیں رازِ ہستی جتانے کے قابل یہ پردہ نہیں ہے اُٹھانے کے قابل طلب بوسہ کرتے ہی جھنجلا کے بولے کہ تو تو نہیں منہ لگانے کے قابل کیا ضعف نے یہ نکمّا کہ اب ہم نہ آنے کے قابل نہ جانے کے قابل اُس آئینہ رو کی بداطواریوں نے نہ رکھا ہمیں منہ...
  13. کاشفی

    ساغر صدیقی صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں حدیثِ زندگی دہرائیے، برسات کے دن ہیں سفینہ لے چلا ہے کس مخالف سمت کو ظالم ذرا ملّاح کو سمجھائیے، برسات کے دن ہیں کسی پُرنور تمہت کی ضرورت ہے گھٹاؤں کو کہیں سے مہ وشوں کو لائیے، برسات کے دن ہیں طبیعت گردشِ دوراں کی...
  14. کاشفی

    ساغر صدیقی برگشتہء یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) برگشتہء یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے تاحّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے میرے دل...
  15. کاشفی

    ولی دکنی ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو - ولی دکنی

    غزل (ولی دکنی) ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو ہر دن کو عید جان گلے سے لگا کرو حق اُس کو ہمکلام رکھے مجھ سے رات دن اس بات سے مدام رقیبو جلا کرو وعدہ کیا تھا رات کو آؤنگا صبح میں اے مہربان وعدہ کو اپنے وفا کرو کب تک رکھو گے طرز تغافل کو دل میں تم ٹک کان دھر کے حال کسی...
  16. کاشفی

    بے درد جس کا نام وہ انساں تمہیں تو ہو - شور

    غزل (شور) داغ رحمتہ اللہ علیہ کی زمین “ کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو“ میں شور کی غزل ۔۔۔ بے درد جس کا نام وہ انساں تمہیں تو ہو دل میں نہیں ہے مہر ، وہ مہرباں تمہیں تو ہو تم ہی نکالو آج، تم ہی کل نکالو گے میں سچ یہ کہتا ہوں میری ارماں تمہیں تو ہو دل کو...
  17. کاشفی

    کسی نے نام لیا یا کہ ذکرِ حور آیا - شور

    غزل (شور) کسی نے نام لیا یا کہ ذکرِ حور آیا تو سُن کےحُسن پر اپنے اُنہیں غرور آیا الہٰی جان لے پر دل کو تو سلامت رکھ یہ کام میرے بُرے وقت میں ضرور آیا تمہارے کوچہ میں خلق اس قدر ہے کیوں بیتاب ضرور مجھ سا کوئی وہاں پہ ناصبور آیا یہ سچ کہا ہے کہ ہوتی ہے دل کو دل سے راہ ذر ا...
  18. کاشفی

    صبح خورشید، شب کو ماہ ہو تم - شور

    غزل (شور) صبح خورشید، شب کو ماہ ہو تم نور میں دنوں کی پناہ ہو تم ادھر افشاں اُدھر ہے رخسارہ سو ستاروں میں ایک ماہ ہو تم ہم سے تو عمر بھر حجاب رہا پر رقیبوں سے روبراہ ہو تم حشر میں دیکھئے ، ہو کیا انصاف داد خواہ ہم ہیں عذر خواہ ہو تم نیک اور بد سے ہے کجا نسبت ہم...
  19. کاشفی

    دیکھئیے دیکھئیے پچتائیے گا - شور

    غزل (شور) دیکھئیے دیکھئیے پچتائیے گا غیر کے دم میں نہ آجائیے گا غیر کو چاہو اگر بسم اللہ دل ہمارا سا کہاں لائیے گا اپنے بسمل کا اگر رقص کبھی دیکھئیے گا تو پھڑک جائیے گا یہ تو فرمائے ناصح پہلے مجھ کو کیا آتے ہی سمجھائیے گا میرے رونے کی حقیقت کہہ کر دشمنوں کو کہیں...
  20. کاشفی

    ربط اُن سے بڑھا کے دیکھ لیا - شور

    غزل (شور) ربط اُن سے بڑھا کے دیکھ لیا جسم و جاں کو گھٹا کے دیکھ لیا غیر پر مسکرا کے دیکھ لیا مجھ پہ بجلی گرا کے دیکھ لیا اب لگے کیوں عدو سے شرمانے آنکھ ہم سے چُرا کے دیکھ لیا نقشِ پا سے ترے ، خدا سمجھے جان اُس پر مٹا کے دیکھ لیا کتنا رسوا ہوئے زمانہ میں غیر کی بزم میں...
Top