داغ اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو - داغ دہلوی

کاشفی

محفلین
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)

اپنے رونے پہ کچھ آیا جو تبسّم مجھ کو
یاد نے اُس کی کہا بھول گئے تم مجھ کو

ہنستے ہنستے کبھی روتا ہوں تصّور میں ترے
روتے روتے کبھی آتا ہے تبسّم مجھ کو

کیوں گناہ لیتے ہیں تھوڑی سی پلانے والے
کل ملے کوثر اُسے آج جو دے خم مجھ کو

کیا کرے دیکھئے کوثر پہ مری تشنہ لبی
سوکھا جاتا ہے یہاں دیکھ کے قلزم مجھ کو

مسکرائے مری میّت پہ وہ منہ پھیر کے داغ
حشر تک یاد رہے گا یہ تبسّم مجھ کو
 

کاشفی

محفلین
شکریہ خوشی جی۔۔ جی آپ درست فرمارہی ہیں۔۔کچھ ایسا ہی ہے۔۔داغ رحمتہ اللہ علیہ کو جب تک نہیں پڑھ لیتا ہوں اچھی نیند نہیں آتی مجھے۔۔۔
 
Top