ظفر

  1. عاطف ملک

    بہادر شاہ ظفر ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں

    غزل ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں یہ لعل موتیوں کے پروئے ہیں ہار میں قطرے نہیں پسینہ کے ہیں زلفِ یار میں دُرّانی آگئے ہیں یہ مُلکِ تَتار میں سُرمہ نہیں لگا ہوا مژگانِ یار میں ہے زنگ سا لگا ہوا خنجر کی دھار میں ساقی شتاب دے مجھے تو بھر کے جامِ مے بیٹھا ہوں بے حواس نشہ کے اُتار میں ہم...
  2. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر یہ بزم میں نہیں ساقی شراب اڑتی ہے ۔ بہادر شاہ ظفر

    یہ بزم میں نہیں ساقی شراب اڑتی ہے ہماری دولتِ عمرِ شباب اڑتی ہے عرق فشاں گلِ رخسار آج ہیں کس کے صبا، چمن میں جو بوئے گلاب اڑتی ہے کرے ہے قتل ہزاروں کو تیری تیغِ نگاہ نہ اس کا مٹتا ہے جوہر، نہ آب اڑتی ہے تجھے سناتا ہوں میں اپنا گر فسانۂ غم تو نیند بھی تری اے مستِ خواب، اڑتی ہے جلایا تُو نے...
  3. طارق شاہ

    بہادر شاہ ظفر ::::: جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں :::::Bahadur Shah Zafar

    غزل بہادر شاہ ظفؔر جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں زندگی ہے اے بُتو تم سے، خُدا رکھّے تمھیں خود نُما ہو تم، کوئی پردے میں کیا رکھّے تمھیں وہ رکھے درپردہ ، جو دِل میں چُھپا رکھے تمھیں حضرتِ دِل! کیا کروں میں خُو ہے اُلٹی آپ کی ! تم اُسی سے رہتے ہو خوش، جو خفا رکھّے تمھیں تم تو ہو...
  4. طارق شاہ

    بہادر شاہ ظفر ::::: عجب روِش سے اُنھیں ہم گلے لگا کے ہنسے ::::: Bahadur Shah Zafar

    غزلِ عجب روِش سے اُنھیں ہم گلے لگا کے ہنسے کہ گُل تمام گلِستاں میں کِھلکِھلا کے ہنسے جنھیں ہے شرم وحیا اِس ہنسی پہ روتے ہیں وہ بے حیا ہے ہنسی پر جو بے حیا کے ہنسے غم والم مِرا اُن کی خوشی کا باعث ہے کہ جب ہنسے وہ، مجھے خُوب سا رُلا کے ہنسے نِکالا چارہ گروں نے جو ذکر مرہم کا تو خُوب...
  5. طارق شاہ

    بہادر شاہ ظفر ::::: گُلشن میں جب ادا سے وہ رنگِیں ادا ہنسے ::::: Bahadur Shah Zafar

    غزلِ گُلشن میں جب ادا سے وہ رنگِیں ادا ہنسے غُنچے کا مُنہ ہے کیا کہ جو پھر اے صبا ہنسے دِیوانے کو نہیں تِرے پروا، کہ اے پری ! دِیوانگی پہ میری کوئی روئے یا ہنسے روئے غمِ فِراق میں برسوں ہم، اے فلک گر وصل کی خوشی میں کبھی اِک ذرا ہنسے چارہ کرے اگر تِرے بِیمارِ عِشق کا تدبِیرِ چارہ ساز...
  6. فرخ منظور

    غمزہ وہ برسرِ بے داد آیا ۔ بہادر شاہ ظفر

    غمزہ وہ برسرِ بے داد آیا مژدہ اے مرگ کہ جلّاد آیا دہنِ تنگ جو یاد آیا مجھے تنگ کیا کیا دلِ ناشاد آیا عشق میں تیشۂ آخر کے سوا کچھ ترے کام نہ فرہاد آیا بلبلو دیکھو چمن میں اتنا نہ کرو شور کہ صّیاد آیا بول اٹھا دیکھ کے مجنوں مجھ کو یہ تو کوئی مرا استاد آیا اُڑ گئے ہوش مرے ناصح کے سامنے جب وہ...
  7. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا ۔ بہادر شاہ ظفر

    یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا ہر ستم اس کا نیا اس کا ہے ہر پیار نیا نئی انداز کا ہے دامِ بلا طرۂ یار روز ہے ایک نہ اک اس میں گرفتار نیا تیری ہاں میں ہے نہیں اور نہیں میں ہے ہاں تیرا اقرار نیا ہے ترا انکار نیا کیسے بیدرد دلِ آزار کو دل ہم نے دیا روز ہے درد نیا، روز اک آزار نیا کیا قیامت...
  8. محمد بلال اعظم

    اب اسے کیا کہا جائے!

    السلام علیکم یہ شاید میری دوسری یا تیسری غزل تھی۔ ایک جگنو ہے کہ منزل کے حوالے مانگے ایک تتلی ہے کہ جگنو سے اُجالے مانگے ایک وہ حشر ہے جو دل میں بپا رہتا ہے اور اک دل ہے، زباں پر بھی جو تالے مانگے میری تصویر کے سب رنگ زوال آمادہ اور مرا یار کہ شہکار نرالے مانگے قیس کی آخرش اب دربدری ختم ہوئی...
  9. طارق شاہ

    بہادر شاہ ظفر جو دل میں ہو، سو کہو تم، نہ گفتگو سے ہٹو ( بہادرشاہ ظفر )

    غزلِ بہادرشاہ ظفر جو دل میں ہو، سو کہو تم، نہ گفتگُو سے ہٹو رہو، پر آنکھ کے آگے، نہ رُوبرُو سے ہٹو میں آپ پھیرتا ہُوں، اپنے حلْق پر خنجر چھُری اُٹھالو تم اپنی، مِرے گلُو سے ہٹو شہیدِ ناز کے، ہرزخْم سے ہے خُوں جاری تمھارا، تر نہ ہو دامن کہیں لہُو سے، ہٹو جو پیش آئے وہ مستو، کرم ہے ساقی...
  10. محمدعمرفاروق

    بہادر شاہ ظفر آئے ساڈے ہونٹوں اوتے آخر جاں نمانی ڑا

    جو جو گلاں سردی دوتاں وِچ اے دل جانی ڑا ہوتی لاج تو ڈب ہی مردی ترتی پھر کر پانی ڑا حوراں پریاں جک وِچ دبہیں بہتی سے ان نیونال پر کوئی سانوں خیر نہ آیا سو نڑاں لو سادا سانی ڑا اچھی لیتے گھبرا ساڈی اک دن بھی نا پُچھتا حال آئے ساڈے ہونٹوں اوتے آخر جاں نمانی ڑا میں بھی تینڈے سنگ چلوں گی بیٹھ...
  11. محمدعمرفاروق

    بہادر شاہ ظفر کاٹتے دن ہیں جو ہم باعث غم گن گن کے

    کاٹتے دن ہیں جو ہم باعث غم گن گن کے شب بھی کرتے ہیں بسر تاروں کو ہم گن گن کے کوئے جاناں کی زمیں اپنے پکڑتی ہے پائنوں ہم ظفر اسلئیے رکھتے ہیں قدم گن گن کے
  12. طارق شاہ

    بہادر شاہ ظفر آگے پہنچاتےتھے واں تک خط وپیغام کو دوست ۔ ( بہادر شاہ ظفر )

    غزلِ بہادر شاہ ظفر آگے پہنچاتےتھے واں تک خط وپیغام کو دوست اب تو دُنیا میں رہا کوئی نہیں نام کو دوست دوست یک رنگ کہاں جبکہ زمانہ ہو دورنگ کہ وہی صبح کو دشمن ہے، جو ہے شام کو دوست میرے نزدیک ہے واللہَ ! وہ دشمن اپنا جانتا جو کہ ہے اُس کافرِ خود کام کو دوست دوستی تجھ سے جو اے دشمنِ آرام...
  13. طارق شاہ

    بہادر شاہ ظفر کیا کہیں اُن سے، بُتوں میں ہم نے کیا دیکھا نہیں ( بہادرشاہ ظفر )

    غزل بہادرشاہ ظفر کیا کہیں اُن سے، بُتوں میں ہم نے کیا دیکھا نہیں جو یہ کہتے ہیں! سُنا ہے، پرخُدا دیکھا نہیں جب سے دیکھا ہے تِرے ابرُو کو ہم نے مہ جبِیں ماہ کو تو آسماں پر آنکھ اُٹھا دیکھا نہیں پہلے ہی سے حُسن کا اپنے ہے تجھ کو اِک غرور آئینہ ، تُو نے ابھی اے خود نُما دیکھا نہیں خوف ہے...
  14. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر ہمارے آپ خفا ہو کے کیا مکاں سے گئے ۔ بہادر شاہ ظفر

    ہمارے آپ خفا ہو کے کیا مکاں سے گئے تمہارے جانے سے یاں ہم بھی اپنی جاں سے گئے گئے جو کوچۂ قاتل میں آہ! حضرتِ دل مری طرف سے وہ اے ہمدمو جہاں سے گئے نہ آیا شام کے وعدے پہ تو جو ماہ لقا خدنگ آہ! گزر اپنی آسماں سے گئے گئے جو ہم سے خفا ہو کے حضرتِ ناصح بُرا بھلا ہمیں کہتے ہوئے زباں سے گئے قطعہ...
  15. جیہ

    بہادر شاہ ظفر غزل۔ بہادر شاہ ظفر۔ جا کہیو ان سے نسیم سحر، میرا چین گیا میری نیند گئی

    غزل بہادر شاہ ظفر جا کہیو ان سے نسیمِ سحر! میرا چین گیا، میری نیند گئی تمہیں میری، نہ مجھ کو تمہاری خبر، میرا چین گیا، میری نیند گئی نہ حرم میں تمہارے یار پتہ نہ سراغ دیر میں ہے ملتا کہاں جا کے میں جاؤں کدھر ، میرا چین گیا میری نیند گئی اے بادشہِ خوبانِ جہاں! تیری موہنی صورت پہ...
  16. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر اس جہاں میں آکے ہم کیا کر چلے ۔ بہادر شاہ ظفر

    اس جہاں میں آکے ہم کیا کر چلے بارِ عصیاں سر پہ اپنے دھر چلے تُو نہ آیا اے مسیحا دم یہاں ہم اسی حسرت میں آخر مر چلے اُس گلی میں ہم تو کیا خورشید بھی ڈر کے مارے کانپتا تھر تھر چلے اس قدر پیکِ صبا میں دم کہاں ساتھ اُس آوارہ کے دم بھر چلے لے چلے کیا اس چمن سے غنچہ ساں ہم تو کیسہ اپنا خالی کر...
  17. فرخ منظور

    بہادر شاہ ظفر یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا ۔ بہادر شاہ ظفر

    یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تُو نے کیوں خرد مند بنایا، نہ بنایا ہوتا خاکساری کے لئے گرچہ بنایا تھا مجھے کاش خاکِ درِ جانانہ بنایا ہوتا تشنہء عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا دلِ صد چاک بنایا تو بلا سے...
  18. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر پان کھا کر نہ رقیبوں سے کیا کر باتیں، بہادر شاہ ظفر

    پان کھا کر نہ رقیبوں سے کیا کر باتیں رنگ لائیں نہ تیری کرنی چبا کر باتیں دیکھو تقدیر جو ایک بار ادھر آتے ہیں جاتے ہیں لاکھوں ہی وہ ہم کو سنا کر باتیں ہمدمو انکو میری شکل سے نفرت ہی سہی سن تو جائیں میرے دو کہو آ کر باتیں کیا تماشا ہے نہیں کرتے نگاہ بھی وہ ادھر کرتے ہیں غیر سے کیا...
  19. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر اس در په جو سر بار کے روتا کوئى ہوتا،بہادر شاہ ظفر

    اس در په جو سر بار کے روتا کوئى ہوتا تو بستر راحت پہ نہ سوتا کوئی ہوتا کس کا فلک اول و ہفتم کہ مرا اشک اک آنکھ جھپکتے میں ڈبوتا کوئی ہوتا یہ دل ہی تھا ناداں کہ تیری زلف سے الجھا یوں اپنے لئے خار نہ بوتا کوئی ہوتا بلبل بھی تھی جاں باختہ پروانہ بھی جانباز پر میری طرح جان نہ کھوتا کوئی...
  20. ملائکہ

    بہادر شاہ ظفر تیرا گر ناخن پا تیرا مائل دھو کے پی جاتا،بہادر شاہ ظفر

    تیرا گر ناخن پا تیرا مائل دھو کے پی جاتا تو اس کے ہاتھ پاؤں مل کے کامل دھو کے پی جاتا نہ آتا ہاتھ خوں میرا اگر اس تشنہ خوں کے تو اپنی تیغ پر خوں کو وہ قاتل دھو کے پی جاتا اگلتا زہر پھر کیا کیا وہ تیرا نخت سودائی اگر کوئی تیرے رخسار کا تل دھو کے پی جاتا اگر ہوسکتا عالم میں حصول علم بے محنت تو...
Top