بہادر شاہ ظفر ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں

عاطف ملک نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 5, 2017

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    غزل

    ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں
    یہ لعل موتیوں کے پروئے ہیں ہار میں

    قطرے نہیں پسینہ کے ہیں زلفِ یار میں
    دُرّانی آگئے ہیں یہ مُلکِ تَتار میں

    سُرمہ نہیں لگا ہوا مژگانِ یار میں
    ہے زنگ سا لگا ہوا خنجر کی دھار میں

    ساقی شتاب دے مجھے تو بھر کے جامِ مے
    بیٹھا ہوں بے حواس نشہ کے اُتار میں

    ہم حُسنِ گندمی پہ ترے ہو کے شیفتہ
    کیا کیا ذلیل و خوار ہیں قرب و جوار میں

    بعد از فنا بھی کم نہ ہوئی سوزشِ جگر
    گرمی ہے اب تلک مرے خاکِ مزار میں

    سایہ میں زلف کے ہے کہاں روئے تابناک
    ہے چاند سا چھپا ہوا ابر بہار میں

    مثلِ غبار اُٹھ کے جو تیری گلی سے جائے
    طاقت کہا ں ہے اتنی ترے خاکسار میں

    اُس ر شکِ گل کو اب تو دیا ہم نے دل ظفرؔ
    کہہ دیں گے ہم زبان سے سو میں ہزار میں​

    محمد وارث
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر