بہادر شاہ ظفر جو دل میں ہو، سو کہو تم، نہ گفتگو سے ہٹو ( بہادرشاہ ظفر )

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 27, 2012

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,642
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزلِ
    بہادرشاہ ظفر
    جو دل میں ہو، سو کہو تم، نہ گفتگُو سے ہٹو
    رہو، پر آنکھ کے آگے، نہ رُوبرُو سے ہٹو
    میں آپ پھیرتا ہُوں، اپنے حلْق پر خنجر
    چھُری اُٹھالو تم اپنی، مِرے گلُو سے ہٹو
    شہیدِ ناز کے، ہرزخْم سے ہے خُوں جاری
    تمھارا، تر نہ ہو دامن کہیں لہُو سے، ہٹو
    جو پیش آئے وہ مستو، کرم ہے ساقی کا
    نہ پھیروجام سے منہ، اور نہ تم سبُو سے ہٹو
    بہادرشاہ ظفر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,828
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اگر ناگوارِ خاطر نہ گذرے تو دوسرے مصرع کو دوبارہ دیکھ لیں۔ پھرو کی جگہ شاید "پھیرو" ہونا چاہیے۔​
    جو پیش آئے وہ مستو، کرم ہے ساقی کا
    نہ پھروجام سے منہ، اور نہ تم سبُو سے ہٹو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  3. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,642
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تشکّر فرخ صاحب !
    جی یہ میری ٹائپنگ اور کوتاہ نظری کا شاخسانہ ہے

    نہ پھیروجام سے منہ، اور نہ تم سبُو سے ہٹو
    ہی درست ہے

    تشکّر ایک بار پھر سے نشاندہی کے لئے
    بہت خوش رہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    عمدہ انتخاب شاہ جی
     
  5. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,613
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    بہت خوب ۔
     

اس صفحے کی تشہیر