علامہ اقبال

  1. فرقان احمد

    اقبال مسجد قرطبہ

    سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات سِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات سِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات سِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں جس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکنات تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ سِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائنات تُو ہو اگر کم...
  2. فرخ منظور

    مکمل باقیاتِ شعر اقبال (متروک اردو کلام) از علامہ محمد اقبال ۔ مرتبہ ڈاکٹر صابر کلوری

    باقیاتِ شعر اقبال (متروک اردو کلام ) مرتبہ ڈاکٹر صابر کلورُوی اقبال اکادمی پاکستان انتساب اپنے والد شاہ میر خان (متوفٰی :۷ دسمبر ۱۹۹۰ئ) کے نام جنہیں اس کام کی تکمیل کی بڑی حسرت تھی انتباہ زیر نظر مجموعے میں شامل اشعار کا تقریباً ۹۰فیصد حصہ ایسا ہے جسے اقبال نے شعوری طور پر ترک...
  3. حسان خان

    علامہ اقبال کی فارسی نظم 'محاورہ مابینِ خدا و انسان' کا منظوم تُرکی ترجمہ

    (تانرې و اینسان) تانرې: من سویلا تۏرپاق‌دان عالم یاراتدېم، سن فارس ایله زنجی، تۆرک ایله تاتار. من میسی، دمیری قارشېنا آتدېم، سن یاپدېن دمیر‌دن قېلېنج زهرمار. من قوش‌لار یاراتدېم، نغمه‌کار، آزاد، سن درحال دۆزه‌لتدین دمیر‌دن قفس. من اۏرمان گؤیه‌رتدیم، آچدې قۏل-قاناد، سن بالتا گؤتۆرۆب دۏغرادېن...
  4. فرخ منظور

    مکمل صد شعر اقبال ۔ شارح: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

    صد شعر اقبال فارسی شارح صوفی غلام مصطفی تبسم مرتب: پروفیسر صوفی گلزار احمد اقبال اکادمی پاکستان کچھ صد اشعار فارسی کے بارے میں اس سے قبل 1977ء میں استاذ مرحوم صوفی تبسم صاحب کے نشر کردہ علامہ اقبال مرحوم و مغفور کے سو شعر اور ان کی تشریحات اشاعت کی منزل سے گذر کر اہل علم و دانش سے شرف قبولیت...
  5. فہد اشرف

    تنہائی از پیامِ مشرق

    تنہائی بہ بحر رفتم و گفتم بہ موج بیتابی ہمیشہ در طلب استی چہ مشکلی داری؟ ہزار لولوی لالاست در گریبانت درون سینہ چو من گوہر دلی داری؟ تپید و از لب ساحل رمید و ہیچ نگفت بہ کوہ رفتم و پرسیدم این چہ بیدردیست؟ رسد بگوش تو آہ و فغان غم زدہ ئی اگر بہ سنگ تو لعلی ز قطرۂ خونست یکی در آبہ سخن با من...
  6. لاریب مرزا

    اقبال کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے

    کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے مدام گوش بہ دل رہ یہ ساز ہے ایسا جو ہو شکستہ تو پیدا نواے راز کرے کوئی یہ پوچھے...
  7. حسان خان

    فارسی شاعری تاریخِ وفاتِ اقبالِ لاہوری - نظمی تبریزی

    همانا در سِپِهرِ فضل و دانش فروزان آفتابی بود اقبال به «لاهور» این‌چنین آتش‌زبانی نیارد بعد از این دورِ مه و سال نمیرد این‌چنین شاعر که شعرش سراسر درسِ اخلاق است و اعمال تو گویی: جز مرادِ مردُم او را، نبود از شاعری مقصود و آمال ولی در قیدِ هستی داشت حالی که مُرغانِ قفس را نیست آن حال گُشود از...
  8. فرحان محمد خان

    اقبال ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق-علامہ اقبال

    ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردِ خلیق علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا غریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق اسی...
  9. عاطف ملک

    اقبال سے معذرت:دیارِ نقل میں اپنا مقام پیدا کر

    میٹرک یا شاید انٹر میں لکھی گئی یہ کاوش چند تبدیلیوں کے ساتھ پیشِ نظر ہے۔ (اقبال سے معذرت) دیارِ نقل میں اپنا مقام پیدا کر تو میری قوم میں ذہنی غلام پیدا کر تجھے قسم ہے جو رشوت کا تو نے سوچا بھی! سفارشوں سے ہی رزقِ حرام پیدا کر تُو اپنی روح کو خود ہی سلا دے موت کی نیند شعورِ نفس کی مرگِ دوام...
  10. حسان خان

    علامہ اقبال کی فارسی میں مہارت - ایرانی ادبیات شناس اسماعیل حاکمی

    ایرانی ادبیات شناس اسماعیل حاکمی اپنی کتاب 'طَیَرانِ آدمیّت' (۲۰۰۳ء) میں شامل مضمون 'شیوهٔ غزل‌سرایی اقبال' میں لکھتے ہیں: "اقبال بر اثر ممارست و تتبّع در دواوین شاعران پارسی‌گوی چنان در زبان فارسی مهارت یافت که توانست دقیق‌ترین افکار عرفانی و مشکل‌ترین معانی فلسفی و علمی و اخلاقی را در قالب...
  11. محمد تابش صدیقی

    اقبال نظم: دین و تعلیم

    دین و تعلیم ٭ مجھ کو معلوم ہیں پیرانِ حرم کے انداز ہو نہ اخلاص تو دعوائے نظر لاف و گزاف اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں...
  12. فرخ منظور

    اقبال چمن ہے اپنا دلِ داغ دار لالوں کا ۔ علامہ اقبال

    متروکہ غزل علامہ اقبال چمن ہے اپنا دلِ داغ دار لالوں کا بھلا ہو دونوں جہاں میں ستانے والوں کا سنا ہے صورتِ سینا نجف میں بھی اے دل کوئی مقام ہے غش کھا کے گرنے والوں کا نہ پوچھ مجھ سے حقیقت دیارِ لندن کی یہ اک جہان ہے گویا پری جمالوں کا ولی بھی، رند بھی، شاعر بھی، کیا نہیں اقبال حساب ہے کوئی...
  13. فرخ منظور

    اقبال نصیحت ۔ علامہ اقبال

    نصیحت میں نے اقبال سے ازراہِ نصیحت یہ کہا عاملِ روزہ ہے تو اور نہ پابندِ نماز تو بھی ہے شیوۂ اربابِ ریا میں کامل دل میں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے تیرا انداز تملق بھی سراپا اعجاز ختم تقریر تری مدحتِ سرکار پہ ہے فکر روشن ہے ترا موجدِ آئینِ نیاز درِ حکام...
  14. حسان خان

    فارسی شاعری بر مزارِ اقبال - سعید نفیسی (مع ترجمہ)

    [بر مزارِ اقبال] به خاکِ پاکِ تو آمد غباری از ایران گُشای چشم و سر از خواب یک زمان بردار ز خاکِ سعدی و فردوسی آمدم برخیز پیامِ حافظ آورده‌ام، بشو بیدار به دستِ من گلی از بوستانِ مولاناست به پای خیز که تا بر سرت کنیم نثار هزار بار مرا آرزویِ دیدن بود چه می‌شود که ببینم جمالِ تو یک بار کنون که...
  15. طارق شاہ

    اقبال علامہ اقبالؒ :::::: نالہ ہے بُلبُل ِشورِیدہ تِرا خام ابھی :::::: Sir Muhammad Iqbal

    علامہ اقبالؒ نالہ ہے بُلبُل ِشورِیدہ تِرا خام ابھی اپنے سینے میں اِسے، اور ذرا تھام ابھی پُختہ ہوتی ہے، اگر مصلحت اندیش ہو عقل! عِشق ہو مصلحت اندیش تو ، ہے خام ابھی بے خطر کوُد پڑا آتشِ نمرُود میں عِشق عقل ہے محو ِتماشائے لبِ بام ابھی عِشق فرمُودۂ قاصِد سے سُبک گامِ عَمل عقل، سمجھی ہی...
  16. حسان خان

    فارسی شاعری علامہ اقبال کی نظم 'زہد اور رندی' کا فارسی ترجمہ - افغان شاعر محمد افسر رہبین

    (زهد و رندی) گویم قصهٔ مولوی صاحب خودِمانی شوخی نه، بوَد مقصدِ من طبع عیانی مشهور به صوفی‌منِشی بود جنابش بس محترم او نزدِ اعالی و ادانی می‌گفت که بنهفته طریقت به شریعت طوری که در الفاظ نهان اند معانی جامِ دلش از بادهٔ زهد آمده لبریز اندر تهٔ آن دُردِ خیالِ همه‌دانی تا باز به تعدادِ مریدان...
  17. فہیم ملک جوگی

    اقبال ایک آرزو (نظم)۔علامہ اقبال

    دُنیا کی محفِلوں سے اُکتا گیا ہُوں یا رب۔ کیا لُطف انجمن کا جب دِل ہی بُجھ گیا ہو۔ شورش سے بھاگتا ہُوں ، دِل ڈھونڈتا ہے میرا۔ ایسا سکوُت جس پر تقریر بھی فِدا ہو۔ مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے میری ۔ دامن میں کوہ کے اِک چھوٹا سا جھونپڑا ہو۔ آزاد فکر سے ہوں ، عُزلت میں دِن گُزاروں۔...
  18. حسان خان

    فارسی شاعری اقبال - علامہ علی اکبر دہخدا (مع ترجمہ)

    اقبال در روز اول اردیبهشت ماه/ ۱۳۳۰ در مجلس جشنی که به عنوان بزرگداشت اقبال لاهوری شاعر و اندیشه‌ور نامی پاکستان در سفارت آن کشور تشکیل شده بود، هیأت فرهنگی پاکستان رباعی زیر را به حضور دهخدا تقدیم می‌دارد: "صد شکر که یارِ آشنا را دیدیم / سرحلقهٔ زمرهٔ وفا را دیدیم - سرمستِ تجلّیِ الاهی گشتیم /...
  19. کاشفی

    خیز که در کوه و دشت خیمه زد ابر بهار

    فصل بهار (علامہ اقبال) خیز که در کوه و دشت خیمه زد ابر بهار مست ترنم هزارطوطی و دراج و سار
  20. کاشفی

    فصل بهار - علامہ اقبال

    فصل بهار (علامہ اقبال) خیز که در کوه و دشت خیمه زد ابر بهار مست ترنم هزارطوطی و دراج و سار
Top