اقبال علامہ اقبالؒ :::::: نالہ ہے بُلبُل ِشورِیدہ تِرا خام ابھی :::::: Sir Muhammad Iqbal

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 21, 2016

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm


    علامہ اقبالؒ

    نالہ ہے بُلبُل ِشورِیدہ تِرا خام ابھی
    اپنے سینے میں اِسے، اور ذرا تھام ابھی

    پُختہ ہوتی ہے، اگر مصلحت اندیش ہو عقل!
    عِشق ہو مصلحت اندیش تو ، ہے خام ابھی

    بے خطر کوُد پڑا آتشِ نمرُود میں عِشق
    عقل ہے محو ِتماشائے لبِ بام ابھی

    عِشق فرمُودۂ قاصِد سے سُبک گامِ عَمل
    عقل، سمجھی ہی نہیں معنیِ پیغام ابھی

    شیوۂ عِشق ہے آزادی و دہر آشوبی
    تُو ہے زنّاریِ بُت خانۂ ایّام ابھی

    عُذر ِپرہیز پہ کہتا ہے بِگڑ کر ساقی!
    ہے تِرے دِل میں وہی کاوشِ انجام ابھی

    سعیِ پَیہم ہے ترازُوئے کم و کیف حیات
    تیری مِیزاں ہے شمُار ِسَحَر و شام ابھی

    ابرِ نیساں! یہ تنک بخشیِ شبنم کب تک؟
    میرے کُہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی

    بادَہ گردان ِعَجَم وہ ، عَرَبی میری شراب !
    میرے ساغر سے جھجکتے مئے آشام ابھی

    خبر اقباؔل کی لائی ہے گُلِستاں سے نسِیم
    نَو گرفتار پَھڑکتا ہے تہ ِدام ابھی

    علامہ اقبالؒ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. ظہیر عباس ورک

    ظہیر عباس ورک محفلین

    مراسلے:
    311
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ماشاء اللہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر