علامہ اقبال

  1. محمد تابش صدیقی

    اقبال عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم

    عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بہ دم آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق شاخِ گل میں جس طرح بادِ سحر گاہی کا نم اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم دل کی آزادی شہنشاہی ، شکم سامانِ موت فیصلہ تیرا...
  2. فرخ منظور

    اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں ۔ ڈاکٹر ساجد علی

    اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں تحریر: ڈاکٹر ساجد علی ناصر کاظمی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے: ہجوم نشہ فکر سخن میں بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی فکر سخن ہی میں نہیں بلکہ بعض اوقات گروہی، سیاسی مذہبی مفادات کے لیے بھی الفاظ کے معنی تبدیل کر لیے جاتے ہیں۔ عظیم فلسفی کارل پوپر نے سائنس کے مورخین کے...
  3. فرخ منظور

    اقبال لاکھوں طرح کے لطف ہیں اس اضطراب میں ۔ علامہ اقبال

    لاکھوں طرح کے لطف ہیں اس اضطراب میں تھوڑی سی دیر اور ہو خط کے جواب میں زلفِ دراز ، حسن پہ یوں طعنہ زن ہوئی تیری طرح سے ہم نہ رہیں گے حجاب میں کیوں وصل کے سوال پہ چپ لگ گئی تمھیں دو چار گالیاں ہی سنا دو جواب میں حسرت بھری نظر کو جو ساقی نے رد کیا ڈوبی غریب شرم سے جا کے شراب میں تابِ نظارۂ رخِ...
  4. فرخ منظور

    اقبال چمن ہے اپنا دلِ داغ دار لالوں کا ۔ علامہ اقبال

    متروکہ غزل علامہ اقبال چمن ہے اپنا دلِ داغ دار لالوں کا بھلا ہو دونوں جہاں میں ستانے والوں کا سنا ہے صورتِ سینا نجف میں بھی اے دل کوئی مقام ہے غش کھا کے گرنے والوں کا نہ پوچھ مجھ سے حقیقت دیارِ لندن کی یہ اک جہان ہے گویا پری جمالوں کا ولی بھی، رند بھی، شاعر بھی، کیا نہیں اقبال حساب ہے کوئی...
  5. مِہر لیاقت گنپال

    اذانِ مَہر

    مجھ کو کعبہ کلیسا میں جانا نہیں مِہر گستاخ کی یہ کہاں آبرو آدھا کافر مسلمان کے بھیس میں جیسے مندر کی دیوی بڑی خوبرو ایسا میکش جو بوتل میں سجدہ کروں روز جام و سبو ھے میرے روبرو کیا تماشا لگا ھے میرے میکدے ھے صراحی میں تو جام میں تو ھی تو ایسے نفرت سے دیکھو نہیں شیخ جی تو ھے محراب میں اور میں کو...
  6. اریب آغا ناشناس

    علامہ اقبال کی پیامِ مشرق سے رباعی بصدائے مرحوم احمد ظاہر

    علامہ اقبالِ لاہوری کی رباعیات پیامِ مشرق سے بہ صدائے مرحوم احمد ظاہر سحر میگفت بلبل باغبان را در ایں باغ جز نہال غم نروید (صبح بلبل باغبان سے کہہ رہی تھی: کہ اس مٹی میں غم کے درخت کے سوا کچھ نہیں اگتا) بہ پیری میرسد خار بیاباں ولے گل چون جواں گردد بمیرد (بیاباں کا کانٹا تو بڑھاپے کو پہنچ...
  7. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نذرانۂ عقیدت --- علامہ اقبالؒ

    بسلسہ صد سالہ یومِ اقبال 1976ء - - - دادا مرحوم محمد عبد الحمید صدیقی (نظر لکھنوی) کا علامہ اقبالؒ کو نذرانۂ عقیدت۔ احبابَ محفل کی خدمت میں یاد تیری لے رہی ہے آج دل میں چٹکیاں ہم تری توصیف میں پھر ہو گئے رطب اللساں افتخارِ آدمیت، نازِ ابنائے زماں ارجمند اقبال اے اقبال تو فخرِ جہاں طائرِ رنگیں...
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    نئی محبت :: از:: محمد خلیل الرحمٰن

    نئی محبت محمد خلیل الرحمٰن (علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ) اک روز یہ کہنے لگے ابّا جو ہمارے ہر روز یہ کِس ڈھنگ سے کالج کو چلا رے کیا جانیے میں کتنے جہاں دیکھ چکا ہوں جو بن کے مٹے ان کے نشاں دیکھ چکا ہوں ہر روز نئے ڈھنگ سے ڈریسنگ ہے تو کرتا اور ناشتہ کرتے ہوئے آہیں بھی ہے بھرتا ’’کہہ ہم سے...
  9. غدیر زھرا

    اقبال علامہ اقبال کی پنجاب سے متعلق شاعری

    پنجاب کے پیر زادوں سے حاضر ہوا مَیں شیخِ مجّددؒ کی لحّد پر وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک ہے مطلعِ انوار اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اصرار گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے جس کے نفّسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار وہ ہند میں سرمایہء ملّت کا نگہباں اللہ نے بروقت کیا جس...
  10. محمد خلیل الرحمٰن

    یا چُناں کُن یا چُنیں ترجمہ از محمد خلیل الرحمٰن

    یا چُناں کُن یا چُنیں (ترجمہ از محمد خلیل الرحمٰن) یا مسلمانوں سے کہہ دے ، جاں ہتھیلی پر نہ لیں ڈال دے یا مردہ تن میں تازہ جانِ آفریں یا چُناں کُن یا چُنیں یا برہمن سے ترشوا اِک نیا اب تو خدا یا تو ہوجا سینہء زنار میں خلوت گزیں یا چُناں کُن یا چُنیں یا نیا آدم بنا، ابلیس سے کمتر ہو جو یا...
  11. آدم

    تعارف عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

    عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں، کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے میں تمام اہلِ محفل کو سلام کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اِس بات کی اُمید اور خواہش رکھتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی اِس محفل میں دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہیں گے۔ میرا نام آدم ہے۔ جی...
  12. ناصر علی مرزا

    شیطان کا چھ نکاتی منشور -علامہ اقبال کی ایک نظم

    ''ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام'' مسلمان قوم کو بگاڑنے کے لئےشیطان کا منشور یہ مسلمان قوم کو بگاڑنے کے لئےشیطان کا منشور ہے کہ کس طرح سے مسلمانوں کو تباہ کیا جائے ، مختلف قوموں کے لئے انہی کے مزاج کے مطابق شیطان نے نسخے بنائے ہیں کہ ان مسلمانوں کو ان کاموں میں لگا دو جس کے نتیجے...
  13. میاں محمد عمر حیدر صابری

    نعت کی سچائی اور رعنائی بات کو آیات تک پہنچا دیتی ہے

    نعت کا لفظ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات گرامی اور صفات حمیدہ و طیبہ کے بیان کے لیے مخصوص ہے‎‎‏ _ دوسری ہستیوں کے لیے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں وصف، مدح، مدحت، منقبت، تعریف، توصیف اور دیگر الفاظ استعمال ہوئے لیکن لفظ نعت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح کے...
  14. محمد خلیل الرحمٰن

    پیامِ مشرِق سے ایک غزل کا ترجمہ

    پیامِ مشرِق سے ایک غزل (علامہ اقبال) ترجمہ : محمد خلیل الرحمٰن فریبِ کشمکشِ عقل دیدنی ٹھہرا ہے میرِ قافلہ ، پر شوق رہزنی ٹھہرا حیات و زیست کا کیا پوچھتے ہو دنیا میں پگھلتی زیست ہے اور موت جانکنی ٹھہرا سرِ مزار ذرا رُک کے سُن ہماری بات سکوت کرتے ہیں پر حرف گفتنی ٹھہرا عرب کے دشت میں پھر...
  15. کاشفی

    کیا آپ کو معلوم ہے ہمارا قومی ترانہ کس نے لکھا ہے؟

    کیا آپ کو معلوم ہے ہمارا قومی ترانہ کس نے لکھا ہے؟ مکمل پڑھنے کے لیئے کلکیں۔۔
  16. طارق شاہ

    اقبال (بچوں کے لیے) پر ندے کی فر یاد -- ( آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہُوا زمانا )

    پر ندے کی فر یاد علامہ اقبال بچو ں کے لیے آتا ہے یاد مجھ کو گزُرا ہُوا زمانا وہ باغ کی بہاریں، وہ سب کا چہچہانا آزادیاں کہاں، وہ اب اپنے گھونسلے کی اپنی خوشی سے آنا، اپنی خوشی سے جانا لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مُسکرانا وہ پیاری پیاری صُورت ، وہ...
  17. طارق شاہ

    اقبال (بچوں کے لیے) ماں کا خواب ( ماخُوذ )

    ماں کا خواب علامہ اقبال (ماخو ذ) بچوں کے لیے میں سوئی جو اِک شب تو دیکھا یہ خواب بڑھا اور جس سے مِرا اِضطراب یہ دیکھا، کہ میں جا رہی ہوں کہیں اندھیرا ہے اور راہ مِلتی نہیں لرزتا تھا ڈر سے مِرا بال بال قدم کا تھا دہشت سے اُٹھنا محال جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی تو دیکھا قطار ایک...
  18. طارق شاہ

    اقبال (بچوں کے لیے) ایک گائے اور بکری ( ماخُوذ )

    ایک گائے اور بکری علامہ اقبال (ماخُوذ ) بچوں کے لیے اِک چراگہ ہری بھری تھی کہیں تھی سراپا بہار جس کی زمیں کیا سماں اُس بہار کا ہو بیاں ہر طرف صاف ندّیاں تھیں رواں تھے اناروں کے بے شُماردرخت اور پیپل کے سایہ دار درخت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں طائروں کی صدائیں آتی تھیں کِسی ندی...
  19. طارق شاہ

    اقبال (بچوں کے لیے) ایک مکڑا اور مکھی، (ماخوذ )

    ایک مکڑا اور مکھی علامہ اقبال (ماخوذ ) بچوں کے لیے اِک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا اِس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت بُھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے! اپنوں سے مگر چاہیے یوں کِھنچ کے نہ رہنا آؤ جو مرے...
  20. طارق شاہ

    اقبال (بچوں کے لیے) ہمد ر د ی، (ماخوذ از ولیم کُوپر)

    ہمد ر د ی علامہ اقبال ( ماخوذ از ولیم کُوپر ) بچوں کے لیے ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بُلبُل تھا کوئی اُداس بیٹھا کہتا تھا کہ، رات سر پہ آئی اُڑنے چگنے میں دن گزارا پُہنچُوں کِس طرح آشیاں تک ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا سُن کر بُلبُل کی آہ و زاری جگنو کوئی پاس ہی سے بولا حاضر ہُوں، مدد...
Top