نظم

  1. محمد تابش صدیقی

    نظم: چائے کا ارغوانی دور ٭ مولانا ظفر علی خان

    چائے کا ارغوانی دور ٭ چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے جو چلا ہے تو ابھی اور چلے اور چلے چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے نہ ملے چائے، تو خوننابِ جگر کافی ہے بزم میں دور چلا ہے، تو ابھی اور چلے چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے دیکھتے دیکھتے پنجاب کا نقشہ بدلا آنکھوں آنکھوں میں زمانہ کے بدل...
  2. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: نامناسب

    نامناسب ٭ نہیں ہمرہو، یہ مناسب نہیں ہے یہ تہذیب کی ایک ایسی نفی ہے کہ تہذیبِ آئندہ کے پاس بھی اس کے اثبات کا کوئی پہلو نہ ہو گا اصولوں کی لاشوں کو یوں دھوپ میں چھوڑ کر آگے بڑھنا مناسب نہیں ہے یہ ماضی کی سچائیاں ہیں اگر حال ان کی صداقت سے منکر ہوا ہے اگر آج یہ بے حقیقت ہیں بے مایہ ہیں بے اثر ہیں...
  3. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: بھونچال

    بھونچال ٭ کرۂ ارض کی مانند ہے انسان کا وجود سطح پر پھول ہیں، سبزہ ہے، خنک چھاؤں ہے برف ہے، چاندنی ہے، رات ہے، خاموشی ہے اور بادل، جو فضاؤں میں رواں ہیں چپ چاپ دور سے موتیے کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور باطن میں گرجتا ہے وہ لاوا، جس سے زلزلے آتے ہیں، کہسار چٹخ جاتے ہیں کس کو فرصت ہے کہ اک پل کو ٹھٹھک...
  4. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ ٭ اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے جہاں سے پھول ٹوٹا تھا وہیں سے کلی سی اک نمایاں ہو رہی ہے جہاں بجلی گری تھی اب وہی شاخ نئے پتے پہن کر تن گئی ہے خزاں سے رک سکا کب موسمِ گل یہی اصلِ اصولِ زندگی ہے اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں...
  5. محمد تابش صدیقی

    اقبال نظم: تصویرِ درد

    تصویر درد ٭ نہیں منت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری اٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری اڑا لی قمریوں نے، طوطیوں...
  6. محمد تابش صدیقی

    نظم: بِنائے امید ٭ محمد تابش صدیقی

    ایک نظم احباب کے ذوق کی نذر بِنائے امید ٭ کبھی جب زندگی کی تلخیاں مجھ کو ستاتی ہیں کبھی ناکام ہونے پر قدم جب لڑکھڑاتے ہیں کبھی مایوس ہو کر جب میں ہمت ہار جاتا ہوں کبھی جب کوئی غم دل پر اثر اپنا دکھاتا ہے تو ایسے میں کلامِ پاک میں اللہ کا فرماں مجھے پھر یاد آتا ہے مری ہمت بندھاتا ہے امید اک یہ...
  7. بافقیہ

    کہکشاں

    صالح ادب کی تعمیر و تشکیل میں نعت خوانوں ، موسیقاروں اور خوش نواؤں کا حصہ فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج بڑی مشکل سے معیاری کلام سماعت سے ٹکراتا ہے۔ اور اگر معیاری کلام، صحت تلفظ اور خوب صورت لب و لہجے کے ساتھ سماعت کے پردے میں سمائے تو جی بلیوں اچھلنے لگتا ہے۔ اور احساسات، جذبات اور کیفیات کا ایک...
  8. محمد تابش صدیقی

    نظم: در مدحِ آم٭ خالد محمود

    در مدحِ آم ٭ شاہِ اودھ سے فون پر کل میں نے بات کی اسمِ گرامی شاہ کا عبد السلام ہے پوچھا کہ لکھنؤ میں ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں! بولے کہ یہ بتائیے کے دن قیام ہے؟ میں نے کہا کہ آج ہی آیا ہوں یا اخی! یوں تو خلوصِ شاہ میں کس کو کلام ہے لیکن یہ آنے والے سے جانے کا پوچھنا کیا اس میں کوئی راز ہے یا...
  9. محمد تابش صدیقی

    نظم: ٹوٹا ہوا تارا ٭ تابش

    ایک احساس برائے نقد و تبصرہ نظم: ٹوٹا ہوا تارا ٭ رات خاموش ہے، تاریک فضا ہے ہر سو دور افق پر کوئی تارا ہے مگر ٹوٹا ہوا دل یہ کہتا ہے اسے پاس بلا لوں اپنے اور پھر دیر تلک، دیر تلک باتیں کروں باتوں باتوں میں بکھرنے کا سبب پوچھ لوں میں شاید اس دل کے بکھرنے کا سبب مل جائے یا ہمیں غم سے بہلنے کا سبب...
  10. محمد تابش صدیقی

    ابن انشا طویل نظم: دیوارِ گریہ

    طویل نظم: دیوارِ گریہ ٭ ایک دیوار گریہ بناؤ کہیں یا وہ دیوار گریہ ہی لاؤ یہیں اب جو اس پار بیت المقدس میں ہے تاکہ اس سے لپٹ اردن و مصر کے، شام کے ان شہیدوں کو یکبار روئیں ان کے زخموں کو اشکوں سے دھوئیں وہ جو غازہ میں لڑ کر وه جو سینائی کے دشت میں بے اماں وحشی دشمن کی توپوں کا ایندھن بنے جن پہ...
  11. محمد تابش صدیقی

    نظم: دعا اور دوا ٭ ملک نصر اللہ خان عزیزؔ

    دعا اور دوا ٭ کسی اور سے کہوں کیوں غمِ دل کے میں فسانے مجھے کیا خبر ہے اس کی کوئی مانے یا نہ مانے مری جملہ حاجتوں کو کیا اس نے آپ پورا مجھے بے نیاز رکھا درِ غیر سے خدا نے کسی بے نوا پہ کیونکر وہ مثالِ ابر برسے ترا لطف ڈھونڈتا ہے شب و روز یہ بہانے یہ مرا دلِ شکستہ، اسے لے سکا نہ کوئی اسے اپنا...
  12. محمد تابش صدیقی

    نظم: منتظر ہیں مگر قمیصوں کے ٭ محمد یعقوب آسیؔ

    منتظر ہیں مگر قمیصوں کے ٭ کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں جن کی آنکھوں کے گہرے حلقوں میں آس کے دیپ جھلملاتے ہیں جیسے پانی میں چاندنی جھلکے جیسے اشکوں کی تیز بارش میں مسکراہٹ ہو اپنے یوسف کی کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں جن کو شکوہ بھی ہے جدائی کا اور سینوں میں ہول اٹھتے ہیں آندھیاں در پۓ رگِ دم ہیں لیکن...
  13. محمد تابش صدیقی

    عزیز حامد مدنی نظم: آج کی رات کے بعد

    آج کی رات کے بعد آئے گا اور اک نوح کا طوفانِ عظیم کوہساروں کے گراں بار وجود اور یہ بازی گریِ زرد و کبود خواب گاہوں کے یہ شب تاب سبو بزمِ عرفاں کا یہ ہنگامۂ ہُو دم بہ دم ایبک و سوری کی حدیث اور یہ آئینِ جہانِ تثليث سنگ و آہن جو پگھلتے ہی نہیں اپنا عنوان، بدلتے ہی نہیں جس سفینے میں جگہ پائیں گے وہ...
  14. محمد تابش صدیقی

    نظم: برف کو پگھلنے دو ٭ ڈاکٹر افتخار برنی

    دل بہت شکستہ ہے یہ ذرا سنبھل جائے آخرِ زمستاں کی برف بھی پگھل جائے چاک سارے سل جائیں اور زخم بھر جائیں ساعتیں شبِ غم کی اور کچھ گزر جائیں تم یہیں پہ دیکھو گے کہ افق سے آئے گی اک شعاعِ تازہ دم پھر فصیلِ شب کا تم انہدام دیکھو گے اور صبحِ روشن کے ساتھ ہی صبا کو تم خوش خرام دیکھو...
  15. محمد تابش صدیقی

    نظم: جفا و وفا ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    جفا و وفا ٭ میری دعا قبول بھی ان کے کرم سے ہو گئی دستِ طلب مرے ابھی بہرِ دعا اٹھے ہی تھے رحمتِ بے حساب نے اپنی پنہ میں لے لیا بہرِ حساب ہم ابھی روزِ جزا اٹھے ہی تھے نصرتِ حق نے آن کر اُن کی رکاب تھام لی نصرتِ حق کے واسطے اہلِ وفا اٹھے ہی تھے عدل و کرم کے ہاتھ نے ان کو جھٹک کے رکھ دیا اہلِ جفا...
  16. محمد تابش صدیقی

    نظم: دو (2) ٭ ملک نصر اللہ خان عزیز

    دو ٭ اک خدا ایک محمدؐ مرے محبوب ہیں دو طرفہ صورت ہے کہ دل ایک ہے مطلوب ہیں دو جا کے مکے میں رہوں یا کہ مدینے میں بسوں؟ ایک ہستی ہے مری، بستیاں مرغوب ہیں دو دل میں ہو یاد تری، لب پہ بھی ہو نام ترا! مشغلے اہلِ محبت کے یہی خوب ہیں دو جذبۂ شوقِ جہاد اور شہادت کی طلب خس و خاشاکِ غلامی کے یہ جاروب...
  17. میم الف

    فراز میں زندہ ہوں

    میں ابھی زندہ ہوں تم نے سنگباری کی مرے پیکر کو دیواروں کے قالب میں چنا ناگوں سے ڈسوایا صلیبوں پر چڑھایا زہر پلوایا جلایا پھر بھی میں سچ کی طرح پایندہ ہوں میں زندہ ہوں میرا چہرہ‘ میری آنکھیں‘ میرے بازو میرے لب زندہ ہیں سب میں شہابِ شب ہزاروں بار ٹوٹا اور بکھرا پھر بھی میں رخشندہ ہوں میری طاقت...
  18. محمد تابش صدیقی

    نظم: کالی میاؤں ٭ نعیم صدیقیؒ

    کالی میاوں (1) ارے "زینو"! ارے "چھمو"! ارے "جادی" خاموش تم نے اودھم یہ قیامت کا مچا رکھا ہے کہیں "ریں ریں" کہیں "دھپ دھپ" ہے کہیں "بک جھک" ہے گھر کا گھر تم نے تو بس سر پہ اٹھا رکھا ہے کبھی مکا، کبھی تھپڑ، کبھی دھکم دھکا تم نے قالیں پہ اکھاڑہ سا بنا رکھا ہے کوئی اس حال میں کیا سوئے کہ تم لوگوں نے...
  19. محمد تابش صدیقی

    نظم: سنا ہے دانہ انھیں ملے گا ٭ عابی مکھنوی

    سنا ہے دانہ اُنھیں ملے گا قفس میں چہکیں جو پَر نہ کھولیں قفس کو وطنِ عزیز بولیں وہ دیکھو شاہیں بھی پل رہے ہیں یہ دیکھو بازوں کے بازؤوں پر ہے چربی کتنی مگر خبر ہے کہ چند چڑیوں نے طے کیا ہے قفس کے دانے، قفس کے پانی سے لاکھ بہتر ہے اڑتے اڑتے کُھلی فضا میں شکار ہونا ٭٭٭ عابی مکھنوی
  20. محمداحمد

    ہم لوگ (نظم)

    ہم لوگ جب ڈوبنے والی ہستی کو سانسوں کی شکستہ کشتی کو تنکے کا سہارا کافی ہو ساحل سے اشارہ کافی ہو ہم رسموں اور رواجوں کو زنجیر بنا کر پیروں کی ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیتے ہیں! سیدہ نسرین سحرش
Top