احمد ندیم قاسمی نظم: اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 20, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,346
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ
    ٭
    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ
    تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے
    جہاں سے پھول ٹوٹا تھا وہیں سے
    کلی سی اک نمایاں ہو رہی ہے
    جہاں بجلی گری تھی اب وہی شاخ
    نئے پتے پہن کر تن گئی ہے
    خزاں سے رک سکا کب موسمِ گل
    یہی اصلِ اصولِ زندگی ہے
    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ
    تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے

    کھنڈر سے کل جہاں بکھرے پڑے تھے
    وہیں سے آج ایواں اٹھ رہے ہیں
    جہاں کل زندگی مبہوت سی تھی
    وہیں پر آج نغمے گونجتے ہیں
    یہ سناٹے سے لَے کی سمت ہجرت
    یہی اصلِ اصولِ زندگی ہے
    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ
    تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے

    رہے یخ بستگی کا خوف جب تک
    شعاعیں برف پر لرزاں رہیں گی
    اندھیرے جم نہیں پائیں گے جب تک
    چراغوں کی لویں رقصاں رہیں گی
    بشر کی اپنی ہی تقدیر سے جنگ
    یہی اصلِ اصولِ زندگی ہے
    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ
    تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے

    ٭٭٭
    احمد ندیم قاسمی
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    16,460
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت شکریہ شئیرنگ کے لیے تابش میآں
    ہمارے پسندیدہ شاعر کی عمدہ نظم :):):):):)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. لاريب اخلاص

    لاريب اخلاص محفلین

    مراسلے:
    23,352
    پسندیدہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2

اس صفحے کی تشہیر