احمد ندیم قاسمی

  1. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: مجھے بھی مژدۂ کیفیتِ دوامی دے

    مجھے بھی مژدۂ کیفیتِ دوامی دے مرے خدا! مجھے اعزازِ ناتمامی دے میں تیرے چشمۂ رحمت سے شاد کام تو ہوں کبھی کبھی مجھے احساسِ تشنہ کامی دے مجھے کسی بھی معزز کا ہمرکاب نہ کر میں خود کماؤں جسے، بس وہ نیک نامی دے وہ لوگ جو کئی صدیوں سے ہیں نشیب نشیں بلند ہوں، تو مجھے بھی بلند بامی دے تری زمین، یہ...
  2. سیما علی

    احمد ندیم قاسمی ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار

    ریت سے بُت نہ بنا اے مرے اچھے فنکار ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتّھر لا دوں میں ترے سامنے انبار لگا دوں لیکن کون سے رنگ کا پتّھر ترے کام آئے گا؟ سرخ پتّھر جسے دل کہتی ہے دنیا یا وہ پتّھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتّھر جس میں صدیوں کے تحیّر کے پڑے ہوں ڈورے کیا تجھے روح کے پتّھر کی ضرورت ہو گی؟...
  3. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: دن آ گئے

    نظم: دن آ گئے ٭ دب کے رہنے کے دن جا چکے کچھ نہ کہنے کے دن جا چکے وار کرنے کے دن آ گئے وار سہنے کے دن جا چکے اب تو قدریں پگھلنے لگیں اور معیار گلنے لگے جو جواہر لہو سے ڈھلے مٹھیوں سے پھسلنے لگے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے اب وہی ہاتھ ملنے لگے اب تو سورج اترنے لگا اور سائے تو ڈھلنے لگے اب تو...
  4. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: کھنڈر

    کھنڈر ٭ یہ میری تاریخ کا کھنڈر ہے یہ میرے رہوارِ برق پیکر کی ہڈیاں ہیں یہ میری تلوار ہے جو تنکا بنی پڑی ہے یہ ڈھال ہے جس پہ پاؤں رکھ دو تو خشک پتے کے ٹوٹنے کی پکار سن لو یہ میرے پرچم کی دھجیاں ہیں یہ میری قدروں کی کرچیاں ہیں یہ میرے معیار ہیں، جو پتھر بنے پڑے ہیں یہ میرے افکار ہیں، جنھیں عنکبوت...
  5. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: خوئے اظہار نہیں بدلیں گے

    خوئے اظہار نہیں بدلیں گے ہم تو کردار نہیں بدلیں گے غم نہیں بدلیں گے یارو، جب تک غم کے معیار نہیں بدلیں گے لوگ آئینے بدلتے ہیں، مگر اپنے اطوار نہیں بدلیں گے تم نہ بدلو گے، تو زندانوں کے در و دیوار نہیں بدلیں گے قافلے راہ بدلنے پہ مصر اور سالار نہیں بدلیں گے چاہیں تو راہنما سستا لیں ہم تو...
  6. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: صدائے بے صدا

    صدائے بے صدا ٭ اظہارِ مدعا کی اجازت کا شکریہ لیکن میری زبان تو واپس دلائیے الفاظ سے صدا کی صفت کس نے چھین لی اس رہزنی کا کھوج تو پہلے لگائیے جب مل گیا مجھے مری آواز کا سراغ جنباں رہیں گے کنجِ لحد میں بھی میرے لب یوں بولنے کو بول تو دوں آج بھی، مگر تاروں کے ٹوٹنے سے نہ ٹوٹا سکوت شب ٭٭٭ احمد ندیم...
  7. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے

    ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے سمیٹ لیں مرے ریزوں کو شیشہ گر میرے وه بول ہوں کہ کہیں نغمہ ہوں، کہیں فریاد وہ لفظ ہوں کہ معانی، ہیں منتشر میرے مرے نصیب میں بنجر زمیں کی رکھوالی کنویں اداس مرے، کھیت بے ثمر میرے خزاں میں ولولۂ پر کشائی کس نے دیا بہار آئی تو باندھے ہیں کس نے پر میرے وہ...
  8. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: کارواں بہاروں کا

    کارواں بہاروں کا ٭ فضا سے ابر برستا رہا شراروں کا مگر رواں ہی رہا کارواں بہاروں کا وہیں سے پھوٹ رہا ہے طلوعِ صبح کا نور جہاں شہید ہوا اک ہجوم تاروں کا کھلے ہوئے ہیں جہاں پھول سے نقوشِ قدم وہیں سے قافلہ گزرا ہے میرے پیاروں کا رکے ہوے ہیں جو دریا، انھیں رکا نہ سمجھ کلیجہ کاٹ کے نکلیں گے...
  9. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: کسے معلوم تھا، اس شے کی بھی تجھ میں کمی ہو گی

    کسے معلوم تھا، اس شے کی بھی تجھ میں کمی ہو گی گماں تھا، تیرے طرزِ جبر میں شائستگی ہو گی مجھے تسلیم ہے، تو نے محبت مجھ سے کی ہو گی مگر حالات نے اظہار کی مہلت نہ دی ہو گی میں اپنے آپ کو سلگا رہا ہوں اس توقع پر کبھی تو آگ بھڑکے گی، کبھی تو روشنی ہو گی شفق کا رنگ کتنے والہانہ پن سے بکھرا ہے زمیں...
  10. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: درگزر کرنے کی عادت سیکھو

    درگزر کرنے کی عادت سیکھو اے فرشتو! بشریت سیکھو ربِّ واحد کے پجاری ہو اگر تم جو کثرت میں ہو، وحدت سیکھو دشت، جو ابر کے محتاج نہیں ان سے پیرایۂ غیرت سیکھو ریزه ریزه ہی اگر رہنا ہے اپنے صحراؤں سے وسعت سیکھو صرف حیرت ہی نہیں آئنوں میں ان سے اظہارِ حقیقت سیکھو صرف رنگت ہی نہیں پھولوں میں ان سے...
  11. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں

    کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں گنتیاں دب گئیں تاریخ کے طوماروں میں شہر ہیں یہ، کہ تمدن کے عقوبت خانے عمر بھر لوگ چنے رہتے ہیں دیواروں میں دن کو دیکھا غمِ مزدور میں گریاں ان کو شب کو جو لوگ سجے بیٹھے تھے درباروں میں آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں...
  12. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا

    اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا میں بشر تھا، بشر کے کام آیا میری قسمت میں شب تھی لیکن میں شمع بن کر سحر کے کام آیا روح میری، شجر کی چھاؤں بنی جسم، گرد و سفر کے کام آیا ق جبر کو بھی زوال ہے، جیسے آہن، آئینہ گر کے کام آیا عجز کو بھی عروج ہے، جیسے ایک قطره، گہر کے کام آیا ۔ زندگی، اہلِ شر کے گھر کی...
  13. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: نہ ظلمتِ شب میں کچھ کمی ہے، نہ کوئی آثار ہیں سحر کے

    نہ ظلمتِ شب میں کچھ کمی ہے، نہ کوئی آثار ہیں سحر کے مگر مسافر رواں دواں ہیں ہتھیلیوں پر چراغ دھر کے حصارِ دیوار و در سے میں نے نکل کے دیکھا کہ اس جہاں میں ستارے جب تک چمک رہے ہیں، چراغ روشن ہیں میرے گھر کے میں دل کا جامِ شکستہ لاؤں کہ روح کی کرچیاں دکھاؤں میں کس زباں میں تمھیں سناؤں، جو مجھ پر...
  14. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: نامناسب

    نامناسب ٭ نہیں ہمرہو، یہ مناسب نہیں ہے یہ تہذیب کی ایک ایسی نفی ہے کہ تہذیبِ آئندہ کے پاس بھی اس کے اثبات کا کوئی پہلو نہ ہو گا اصولوں کی لاشوں کو یوں دھوپ میں چھوڑ کر آگے بڑھنا مناسب نہیں ہے یہ ماضی کی سچائیاں ہیں اگر حال ان کی صداقت سے منکر ہوا ہے اگر آج یہ بے حقیقت ہیں بے مایہ ہیں بے اثر ہیں...
  15. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: بھونچال

    بھونچال ٭ کرۂ ارض کی مانند ہے انسان کا وجود سطح پر پھول ہیں، سبزہ ہے، خنک چھاؤں ہے برف ہے، چاندنی ہے، رات ہے، خاموشی ہے اور بادل، جو فضاؤں میں رواں ہیں چپ چاپ دور سے موتیے کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور باطن میں گرجتا ہے وہ لاوا، جس سے زلزلے آتے ہیں، کہسار چٹخ جاتے ہیں کس کو فرصت ہے کہ اک پل کو ٹھٹھک...
  16. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیں

    میں حقائق میں گرفتار ہوں، وہموں میں نہیں کوئی نغمہ مری زنجیر کی کڑیوں میں نہیں ٹخنوں ٹخنوں میں پتاور میں کھڑا سوچتا ہوں جتنے پتّے ہیں یہاں، اُتنے درختوں میں نہیں شہر والو! یہ گھروندے ہیں، یہ گلیاں ہیں، یہ کھیت گاؤں والوں کی جو پوچھو تو وہ گاؤں میں نہیں غیر محسوس بہاروں کا وہ دَور آیا ہے رنگ...
  17. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی غزل: برہنہ پا میں سوئے دشتِ درد چلتا ہوں

    برہنہ پا میں سوئے دشتِ درد چلتا ہوں میں اپنی آگ میں اپنی رضا سے جلتا ہوں مرے مزاج کی چارہ گری کرے گا کون چمن کی راہ سے، صحرا میں جا نکلتا ہوں اگر جلا نہ سکا مجھ کو آفتاب کوئی میں رنگ و بو کی تمازت میں کیوں پگھلتا ہوں مجھے تو پیکرِ محسوس سے محبت ہے میں صرف ایک تصور سے کب بہلتا ہوں سمیٹ لیتا...
  18. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ ٭ اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے جہاں سے پھول ٹوٹا تھا وہیں سے کلی سی اک نمایاں ہو رہی ہے جہاں بجلی گری تھی اب وہی شاخ نئے پتے پہن کر تن گئی ہے خزاں سے رک سکا کب موسمِ گل یہی اصلِ اصولِ زندگی ہے اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں...
  19. حسن محمود جماعتی

    احمد ندیم قاسمی ہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سہانے سہانے لگے

    ہم کو چاند اور تاروں سے بڑھ کر، یہ منظر سہانے سہانے لگے آنسوؤں سے ہو بھیگا ہوا جس کا چہرہ، وہی مسکرانے لگے رات بھر ہم نے تیرے کھلے گیسوؤں میں تری چاند صورت کو ڈھونڈا صبح کو تیرے جاتے ہی، ہر سو، تیرے خال و خد جگمگانے لگے موسم گل جب آیا تو گلزار و صحرا کی ساری تمیز اٹھ گئی خشک شاخو‎ں سے ٹوٹے...
  20. فرحان محمد خان

    احمد ندیم قاسمی سپردگی کا بھی معیار ہونا چاہیے تھا - احمد ندیمؔ قاسمی

    سپردگی کا بھی معیار ہونا چاہیے تھا تری انا کو خبردار ہونا چاہیے تھا مزاجِ تُند کی تلوار کُند کرنے کو تجھے کسی کا پرستار ہونا چاہیے تھا وفورِ عشق نے اس کو بھی موم کر ڈالا جسے مزاج میں کہسار ہونا چاہیے تھا وہ جس کے سر میں شعورِ جمال بھی ہوتا اُسی کو صاحبِ دستار ہونا چاہیے تھا بہار میں بھی...
Top