احمد ندیم قاسمی غزل: اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 24, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,346
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا
    میں بشر تھا، بشر کے کام آیا

    میری قسمت میں شب تھی لیکن میں
    شمع بن کر سحر کے کام آیا

    روح میری، شجر کی چھاؤں بنی
    جسم، گرد و سفر کے کام آیا
    ق
    جبر کو بھی زوال ہے، جیسے
    آہن، آئینہ گر کے کام آیا

    عجز کو بھی عروج ہے، جیسے
    ایک قطره، گہر کے کام آیا
    ۔
    زندگی، اہلِ شر کے گھر کی کنیز
    خیر کا کام، مر کے کام آیا

    تاجِ زریں پہ کچھ نہیں موقوف
    سنگِ طفلاں بھی سر کے کام آیا

    سیم و زر آدمی کے چاکر تھے
    آدمی سیم و زر کے کام آیا

    فقر و فاقہ میں مر گیا شاعر
    شعر، اہلِ نظر کے کام آیا

    کاش سن لوں کہ میرا شہپرِ فن
    کسی بے بال و پر کے کام آیا

    ٭
    احمد ندیم قاسمی
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,101
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    واہ واہ واہ

    خوبصورت غزل! لاجواب انتخاب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. ایس ایس ساگر

    ایس ایس ساگر لائبریرین

    مراسلے:
    547
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    عمدہ۔ بہترین۔ اتنی خوبصورت غزل شیئر کرنے کا شکریہ تابش بھائی۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر