احمد ندیم قاسمی غزل: ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے

ہیں میرے قلب و نظر، لعل اور گہر میرے
سمیٹ لیں مرے ریزوں کو شیشہ گر میرے

وه بول ہوں کہ کہیں نغمہ ہوں، کہیں فریاد
وہ لفظ ہوں کہ معانی، ہیں منتشر میرے

مرے نصیب میں بنجر زمیں کی رکھوالی
کنویں اداس مرے، کھیت بے ثمر میرے

خزاں میں ولولۂ پر کشائی کس نے دیا
بہار آئی تو باندھے ہیں کس نے پر میرے

وہ پھول توڑتے ہیں، اور میں خار چنتا ہوں
بچھڑتے جاتے ہیں یوں مجھ سے ہمسفر میرے

عجیب دور ہے! بے غم بھی اور بے حِس بھی
کہ میرے درد پہ ہنستے ہیں چارہ گر میرے

جو گُل کو دیکھ کے تخلیقِ گُل کا ذکر کیا
تو یہ کھلا کہ ارادے ہیں پُرخطر میرے

مُجھے تلاش ہے اُس عدل گاہ کی جس میں
مرے گناہوں کے الزام آئیں سر میرے

ندیمؔ میرے ہُنر کے وہ لوگ مُنکر ہیں
مرے عیوُب کو کہتے ہیں جو ہُنر میرے

٭٭٭
احمد ندیم قاسمی
 
بہت خوب! اچھا انتخاب ہے تابش بھائی ۔

اس شعر کو پھر سے دیکھ لیجئے ۔ اس میں ولولہ مؤنث باندھا گیا ہے جو درست نہیں ۔
خزاں میں ولولۂ پر کشائی کس نے دی
بہار آئی تو باندھے ہیں کس نے پر میرے
 
بہت خوب! اچھا انتخاب ہے تابش بھائی ۔

اس شعر کو پھر سے دیکھ لیجئے ۔ اس میں ولولہ مؤنث باندھا گیا ہے جو درست نہیں ۔
خزاں میں ولولۂ پر کشائی کس نے دی
بہار آئی تو باندھے ہیں کس نے پر میرے
جزاک اللہ خیر
ٹائپو کی نشاندہی پر شکریہ۔ :)
 
بہت خوب! اچھا انتخاب ہے تابش بھائی ۔

اس شعر کو پھر سے دیکھ لیجئے ۔ اس میں ولولہ مؤنث باندھا گیا ہے جو درست نہیں ۔
خزاں میں ولولۂ پر کشائی کس نے دی
بہار آئی تو باندھے ہیں کس نے پر میرے
شاید یہ یوں ہو : خزاں میں ولولۂ پر کشائی کس نے دیا
 
Top