احمد ندیم قاسمی غزل: کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 25, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,360
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں
    گنتیاں دب گئیں تاریخ کے طوماروں میں

    شہر ہیں یہ، کہ تمدن کے عقوبت خانے
    عمر بھر لوگ چنے رہتے ہیں دیواروں میں

    دن کو دیکھا غمِ مزدور میں گریاں ان کو
    شب کو جو لوگ سجے بیٹھے تھے درباروں میں

    آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
    لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

    آج بھی ملتے ہیں منصور ہزاروں، لیکن
    اب انا الحق کی صلابت نہیں کرداروں میں

    نہ کرو ظلِ الہی کی برائی کوئی؟
    دوستو! کفر نہ پھیلاؤ نمک خواروں میں

    وہی ہر دور کے نمرود کے مجرم ہیں، جنھیں
    پھول کھلتے نظر آ جاتے ہیں انگاروں میں

    ٭٭٭
    احمد ندیم قاسمی

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ایس ایس ساگر

    ایس ایس ساگر لائبریرین

    مراسلے:
    560
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    احمد ندیم قاسمی صاحب کی بہت خوبصورت غزل ہے یہ۔ شریک محفل کرنے کا بہت شکریہ تابش بھائی۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,746
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
    لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

    کیا بات ہے ، کیا بات ہے ! خوبصورت اور لطیف طنز!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر