احمد ندیم قاسمی غزل: کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں

کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں
گنتیاں دب گئیں تاریخ کے طوماروں میں

شہر ہیں یہ، کہ تمدن کے عقوبت خانے
عمر بھر لوگ چنے رہتے ہیں دیواروں میں

دن کو دیکھا غمِ مزدور میں گریاں ان کو
شب کو جو لوگ سجے بیٹھے تھے درباروں میں

آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

آج بھی ملتے ہیں منصور ہزاروں، لیکن
اب انا الحق کی صلابت نہیں کرداروں میں

نہ کرو ظلِ الہی کی برائی کوئی؟
دوستو! کفر نہ پھیلاؤ نمک خواروں میں

وہی ہر دور کے نمرود کے مجرم ہیں، جنھیں
پھول کھلتے نظر آ جاتے ہیں انگاروں میں

٭٭٭
احمد ندیم قاسمی

 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
کتنے سر تھے جو پروئے گئے تلواروں میں
گنتیاں دب گئیں تاریخ کے طوماروں میں

شہر ہیں یہ، کہ تمدن کے عقوبت خانے
عمر بھر لوگ چنے رہتے ہیں دیواروں میں

دن کو دیکھا غمِ مزدور میں گریاں ان کو
شب کو جو لوگ سجے بیٹھے تھے درباروں میں

آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

آج بھی ملتے ہیں منصور ہزاروں، لیکن
اب انا الحق کی صلابت نہیں کرداروں میں

نہ کرو ظلِ الہی کی برائی کوئی؟
دوستو! کفر نہ پھیلاؤ نمک خواروں میں

وہی ہر دور کے نمرود کے مجرم ہیں، جنھیں
پھول کھلتے نظر آ جاتے ہیں انگاروں میں
احمد ندیم قاسمی صاحب کی بہت خوبصورت غزل ہے یہ۔ شریک محفل کرنے کا بہت شکریہ تابش بھائی۔
 
آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

کیا بات ہے ، کیا بات ہے ! خوبصورت اور لطیف طنز!
 
Top