احمد ندیم قاسمی نظم: کھنڈر

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 25, 2021

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,346
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کھنڈر
    ٭
    یہ میری تاریخ کا کھنڈر ہے
    یہ میرے رہوارِ برق پیکر کی ہڈیاں ہیں
    یہ میری تلوار ہے جو تنکا بنی پڑی ہے
    یہ ڈھال ہے جس پہ پاؤں رکھ دو تو خشک پتے کے ٹوٹنے کی پکار سن لو
    یہ میرے پرچم کی دھجیاں ہیں
    یہ میری قدروں کی کرچیاں ہیں
    یہ میرے معیار ہیں، جو پتھر بنے پڑے ہیں
    یہ میرے افکار ہیں، جنھیں عنکبوت نے اپنے تانے بانے کی
    کھونٹیاں سی بنا لیا ہے
    یہ ٹوٹتی چھت کو سالہا سال سے سنبھالے ہوئے جو اک ناتواں ستون ایستاده ہے
    یہ مری آنا ہے

    ٭٭٭
    احمد ندیم قاسمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. رومی

    رومی لائبریرین

    مراسلے:
    475
    بہت عمدہ
     

اس صفحے کی تشہیر