نظم

  1. محمد تابش صدیقی

    نظم: کمشنر کا کتا ٭ از الیاس بابر اعوان

    کمشنر کا کتا ٭ تراشیدہ زلفیں ، نشہ آور آنکھیں لہریہ تبسم ، جمال آفریں وُف تو گردن میں مالک کے عہدے کا سریہ چلا جارہا ہے خراماں خراماں کمشنر کا کُتا اِدھر دیکھیے! یہ ہیں گلیوں کے کُتے نہ وُف میں کوئی جاں نہ تازہ تبسم ، غُبار ان کی قمست کہیں نالیوں میں بسیرا ہے ان کا سڑک کے کنارے پڑی لاشیں...
  2. منہاج علی

    عزیز حامد مدنی زلف کی رات

    پشتِ عریاں پہ کُھلی زلف کی جب موجِ سیاہ رَو میں اک سرّ ِ بیاباں سا لیے محوِ خرام نیند کا نشّہ سی، جنگل کی ندی سی سرِ شام جال سا پھینک کے اک خواب کا بُنتی ہوئی دام دُور اَن دیکھے نشیبوں میں سماتی ہوئی زلف خواب نا دیدہ کناروں کا دکھاتی ہوئی زلف زلف کے مَس سے بدن اپنے فسوں میں مسحور ہر نفَس ذوقِ...
  3. محمد تابش صدیقی

    نظم: الفاظ ٭ علی صہیب قرنی

    الفاظ ٭ گر لفظ ملائم ہوں۔۔۔ اور ان میں محبت ہو، الفت ہو، مروت ہو لہجے میں نفاست ہو، پھولوں سی لطافت ہو پھر لفظ جگاتے ہیں، سوتے ہوئے جذبوں کو پھر لفظ دکھاتے ہیں، جنت کی بہاروں کو پھر لفظ سناتے ہیں، دل جوئی کے نغموں کو معصوم سی پلکوں میں، کچھ خواب سے بھرتے ہیں حالات بدلتے ہیں، دن رات بدلتے ہیں گر...
  4. نیرنگ خیال

    سمیتا پاٹل (غلام محمد قاصر)

    سمیتا پاٹل دل کے مندر میں خوشبو ہے لوبان کی، گھنٹیاں بج اٹھیں، دیو داسی تھی وہ کتنے سرکش اندھیروں میں جلتی رہی دیکھنے میں تو مشعل ذرا سی تھی وہ نور و نغمہ کی رم جھم پھواروں تلے مسکراتی ہوئی اک اداسی تھی وہ پانیوں کی فراوانیوں میں رواں اس کی حیرانیاں کتنی پیاسی تھی وہ حسن انساں سے فطرت کی...
  5. محمد تابش صدیقی

    نظم: شعلۂ غم ٭ نعیم صدیقیؒ

    شعلۂ غم ٭ اک داغِ نہاں چمک رہا ہے اک زخمِ جگر مہک رہا ہے اک جامِ الم چھلک رہا ہے اک شعلۂ غم بھڑک رہا ہے ہر موجِ ہوا کی سانس رکتی ہر ذرے کا دل دھڑک رہا ہے اک قافلۂ بہارِ فردا صحرا میں کہیں بھٹک رہا ہے میرے قلمِ ہنر کے دل میں نشتر سا کوئی کھٹک رہا ہے پھر آنکھ کا بھر گیا کٹورا پھر بادہ چھلک...
  6. منہاج علی

    عزیز حامد مدنی کی ایک نظم

    مدنی صاحب کی ایک نظم سے منتخب اشعار برٹرینڈ رَسل (Bertrand Russell) (کراچی ایئر پورٹ پر مختصر قیام کا ایک تاثر) اُتر کے ساتھ ہی آئی ہے اُس کے روحِ خرد ورق کتاب کے زیرِ قبا چھپائے ہوئے سفید مُو میں لیے دانشِ قدیم کے راز فضا کی زلفِ توہُّم زدہ جلائے ہوئے حسابِ سود و زیاں میں وہ اک ریاضی داں...
  7. محمد تابش صدیقی

    اقبال نظم: سیاست

    سیاست ٭ اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری شاطر کی عنایت سے تُو فرزیں، مَیں پیادہ بے چارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ ناچیز فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ! ٭٭٭ علامہ اقبالؒ
  8. محمداحمد

    نظم: افشوا السلام (سلام کو عام کرو) ٭ محمد تابش صدیقی

    السلام علیکم، سلام عام کرنے کی ترغیب لیے تابش بھائی کی خوبصورت نظم آپ سب کی خدمت میں پیش ہے۔ اُمید ہے آپ کو پسند آئے گی۔ نظم: اَفشُوا السَّلام جب بھی مِلو کسی سے تو یہ اہتمام ہو ملتے ہی السلامُ علیکم کہا کرو اَفشُوا السَّلام قولِ رسولِ کریمؐ ہے یعنی سلام کو تم باہم رواج دو دراصل السلامُ...
  9. محمد تابش صدیقی

    امجد اسلام امجد نظم: آخری بات

    آخری بات ٭ طلوعِ شمسِ مفارقت ہے، پرانی کرنیں نئے مکانوں کے آنگنوں میں لرز رہی ہیں فصیلِ شہرِ وفا کے روزن چمکتے ذروں سے بھر گئے ہیں، چمکتے ذرے! گئے دنوں کی عزیز باتیں نگار صبحیں، گلاب راتیں بساطِ دل بھی عجیب شے ہے ہزار جیتیں، ہزار ماتیں جدائیوں کی ہوائیں لمحوں کی خشک مٹی اڑا رہی ہیں گئی رتوں کا...
  10. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: دن آ گئے

    نظم: دن آ گئے ٭ دب کے رہنے کے دن جا چکے کچھ نہ کہنے کے دن جا چکے وار کرنے کے دن آ گئے وار سہنے کے دن جا چکے اب تو قدریں پگھلنے لگیں اور معیار گلنے لگے جو جواہر لہو سے ڈھلے مٹھیوں سے پھسلنے لگے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے اب وہی ہاتھ ملنے لگے اب تو سورج اترنے لگا اور سائے تو ڈھلنے لگے اب تو...
  11. محمد تابش صدیقی

    حفیظ جالندھری نظم: زندگی

    زندگی ٭ جز بلب بستن نہیں تابِ بیانِ زندگی ہے فنا تمہیدِ شرحِ داستانِ زندگی جستجو سے یہ ملا آخر نشانِ زندگی چند قبریں نقشِ پائے رہروانِ زندگی اے مصور! ایک تصویر اس طرح سے کھینچ دے بارِ دوشِ بے کسی کوہِ گرانِ زندگی ہیں خیالی صورتیں ہنگامہ آرائے وجود محشرستانِ توہم ہے جہانِ زندگی ہے مثالِ دود...
  12. محمد تابش صدیقی

    حفیظ جالندھری نظم: جزیرے

    جزیرے ٭ قافلے برباد ہو کر رہ گئے تو کیا ہوا مطمئن ہیں قافلہ سالار اپنے کام سے عہدہ و منصب کی بازی جیت کر گھڑ دوڑ میں تھان پر ہیں درشنی گھوڑے بڑے آرام سے قافلے برباد ہو کر رہ گئے تو کیا ہوا رہنماؤں کو سجا کر منزلِ مقصود پر ٹھوکریں کھاتا ہے تاریکی میں امت کا جلوس جن بہشتی مقبروں پر ہو گئے روشن...
  13. محمداحمد

    نظم ۔۔۔آنگن۔۔۔از محمد احمدؔ

    آنگن یہ میرا گھر ہے یہ میرا کمرہ کہ جس میں بیٹھا میں اپنے آنگن کو دیکھتا ہوں کشادہ آنگن کہ جس میں مٹی کی سُرخ اینٹیں بچھی ہوئی ہیں کیاریوں میں سجیلے گُل ہیں حسین بیلیں قطار اندر قطار دیوار پر چڑھی ہیں بسیط آنگن کے ایک کونے میں اک شجر ہے شجر کے پتے ہوا کے ہمراہ جھومتے ہیں میں اپنے کمرے سے دیکھتا...
  14. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: کھنڈر

    کھنڈر ٭ یہ میری تاریخ کا کھنڈر ہے یہ میرے رہوارِ برق پیکر کی ہڈیاں ہیں یہ میری تلوار ہے جو تنکا بنی پڑی ہے یہ ڈھال ہے جس پہ پاؤں رکھ دو تو خشک پتے کے ٹوٹنے کی پکار سن لو یہ میرے پرچم کی دھجیاں ہیں یہ میری قدروں کی کرچیاں ہیں یہ میرے معیار ہیں، جو پتھر بنے پڑے ہیں یہ میرے افکار ہیں، جنھیں عنکبوت...
  15. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: صدائے بے صدا

    صدائے بے صدا ٭ اظہارِ مدعا کی اجازت کا شکریہ لیکن میری زبان تو واپس دلائیے الفاظ سے صدا کی صفت کس نے چھین لی اس رہزنی کا کھوج تو پہلے لگائیے جب مل گیا مجھے مری آواز کا سراغ جنباں رہیں گے کنجِ لحد میں بھی میرے لب یوں بولنے کو بول تو دوں آج بھی، مگر تاروں کے ٹوٹنے سے نہ ٹوٹا سکوت شب ٭٭٭ احمد ندیم...
  16. فہد اشرف

    میرا جی مجھ کو تینوں یکساں ہیں

    مجھ کو تینوں یکساں ہیں جب ہو مجھ کو عشق کسی سے ماہِ سیمیں، مہرِ زریں اور روئے دلدار مجھ کو تینوں یکساں ہیں عشق میں جب کامل ہو جاؤں آتشِ سوزاں، خارِ مغیلاں اور ہجرِ دلدار مجھ کو تینوں یکساں ہیں عشق میں جب بے خود ہو جاؤں شاہِ جہاں، علامۂ دوراں اور گدائے خوار مجھ کو تینوں یکساں ہیں جب میں اس کے...
  17. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نظم: سقوطِ ڈھاکہ

    سقوطِ ڈھاکہ کے وقت لکھی گئی دادا مرحوم کی ایک طویل نظم، جس میں غم و حزن کے جذبات کے ساتھ ساتھ اسباب کا جائزہ بھی لیا گیا ہے. سقوطِ ڈھاکہ ٭ دل آج ہے رنجور زِ نیرنگیِ حالات آنکھوں سے رواں اشک ہیں مجروح ہیں جذبات مسلم پہ ہے کیسی مرے اللہ یہ افتاد؟ مائل بہ ستم اس پہ ہے چرخِ ستم ایجاد بربادیِ...
  18. محمد تابش صدیقی

    احمد ندیم قاسمی نظم: کارواں بہاروں کا

    کارواں بہاروں کا ٭ فضا سے ابر برستا رہا شراروں کا مگر رواں ہی رہا کارواں بہاروں کا وہیں سے پھوٹ رہا ہے طلوعِ صبح کا نور جہاں شہید ہوا اک ہجوم تاروں کا کھلے ہوئے ہیں جہاں پھول سے نقوشِ قدم وہیں سے قافلہ گزرا ہے میرے پیاروں کا رکے ہوے ہیں جو دریا، انھیں رکا نہ سمجھ کلیجہ کاٹ کے نکلیں گے...
  19. ام اویس

    اسمِ تصغیر ۔ ام عبد منیب

    پنکھا بڑا ہے پنکھی چھوٹی دور انہیں سے گرمی ہوگی در کا مطلب ہے دروازہ اور دریچہ در سے چھوٹا دیواروں میں طاق بنے ہیں خیر کے ان میں دیے رکھے ہیں لیکن طاق جو چھوٹا ہوگا طاقچہ اس کا نام پھر ہوگا باغ میں بچے بازی لگائیں ہاریں، جیتیں، شور مچائیں باغ سے چھوٹا ہے باغیچہ کھیل بچوں کا ہے بازیچہ بند...
  20. محمد تابش صدیقی

    سلیم احمد نظم: کھیل

    کھیل ٭ شام کو دفتر کے بعد واپسی پر گھر کی سمت میں نے دیکھا میرے بچے کھیل میں مصروف ہیں اتنے سنجیدہ کہ جیسے کھیل ہی ہو زندگی کھیل ہی میں سارے غم ہوں کھیل ہی ساری خوشی اے خدا! میرے فن میں دے مجھے تو میرے بچوں کی طرح کھیل کی سنجیدگی ٭٭٭ سلیم احمد
Top