احمد ندیم قاسمی نظم: کارواں بہاروں کا

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 11, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,346
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کارواں بہاروں کا
    ٭
    فضا سے ابر برستا رہا شراروں کا
    مگر رواں ہی رہا کارواں بہاروں کا

    وہیں سے پھوٹ رہا ہے طلوعِ صبح کا نور
    جہاں شہید ہوا اک ہجوم تاروں کا

    کھلے ہوئے ہیں جہاں پھول سے نقوشِ قدم
    وہیں سے قافلہ گزرا ہے میرے پیاروں کا

    رکے ہوے ہیں جو دریا، انھیں رکا نہ سمجھ
    کلیجہ کاٹ کے نکلیں گے کوہساروں کا

    اسی کو کہتے ہیں تاریخ داں شعورِ وطن
    جو آج ایک میں ہے ولولہ ہزاروں کا

    مجھے تو پھول کھلانے ہیں، وہ لہو کے سہی
    مجھے تو قرض چکانا ہے شاخساروں کا

    یہ جی میں ہے کہ شہیدوں کی طرح زندہ ہوں
    میں اپنے فن کو بنا لوں دیا مزاروں کا

    ٭٭٭
    احمد ندیم قاسمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر