احمد ندیم قاسمی غزل: نہ ظلمتِ شب میں کچھ کمی ہے، نہ کوئی آثار ہیں سحر کے

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 23, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,346
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    نہ ظلمتِ شب میں کچھ کمی ہے، نہ کوئی آثار ہیں سحر کے
    مگر مسافر رواں دواں ہیں ہتھیلیوں پر چراغ دھر کے

    حصارِ دیوار و در سے میں نے نکل کے دیکھا کہ اس جہاں میں
    ستارے جب تک چمک رہے ہیں، چراغ روشن ہیں میرے گھر کے

    میں دل کا جامِ شکستہ لاؤں کہ روح کی کرچیاں دکھاؤں
    میں کس زباں میں تمھیں سناؤں، جو مجھ پر احساں ہیں شیشہ گر کے

    نئی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی تاریخ خود لکھے گا
    بس اب عجائب گھروں میں رکھ دو قدیم معیار خیر و شر کے

    بہشت کی نعمتیں ابھی تک ندیمؔ کے انتظار میں ہیں
    کہ اب بھی ذرے چمک رہے ہیں فلک پر آدم کی رہگزر کے

    ٭٭٭
    احمد ندیم قاسمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. Ahmad400

    Ahmad400 محفلین

    مراسلے:
    2
    یہ خالد احمد کہ غزل ہے، ان کی کتاب ٗہتیھلیوں پہ چراغٗ سے. شاعر کے نام کی درستگی کر لیجئے.
     
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,346
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہ غزل میں نے سنگ میل پبلشررز کی شائع کردہ احمد ندیم قاسمی کے مجموعۂ کلام محیط سے دیکھ کر ٹائپ کی ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ احمد ندیم قاسمی کی غزل ہے۔
     
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,346
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    مقطع میں تخلص بھی ندیم ہی استعمال ہوا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. Ahmad400

    Ahmad400 محفلین

    مراسلے:
    2
    میں نے دوبارہ دیکھا ہے، آپ درست فرما رہے ہیں. تصحیح کا شکریہ.
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,423
    اسٹائل بھی انہی کا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر