نظم

  1. محمد تابش صدیقی

    قابل اجمیری نظم: آواز

    حسنِ آغاز دے رہا ہے مجھے لذتِ ساز دے رہا ہے مجھے شوقِ پرواز دے رہا ہے مجھے کوئی آواز دے رہا ہے مجھے دامنِ انتظار پھیلا کر وقت کے گیسوؤں کو لہرا کر دلِ بیتاب کے قریب آ کر کوئی آواز دے رہا ہے مجھے ظلمت و ماہ سے گزر جاؤں رہبر و راہ سے گزر جاؤں نغمہ و آہ سے گزر جاؤں کوئی آواز دے رہا ہے مجھے محفلِ...
  2. محمد تابش صدیقی

    نظم: مجھے انجان رہنے دو ٭ محمد تابش صدیقی

    مجھے انجان رہنے دو ٭ مجھے خاموش رہنے دو ذرا کچھ دن مجھے مدہوش رہنے دو ابھی تو کچھ نہیں بگڑا ابھی تو میرے گھر آنگن کا ہر موسم سہانا ہے ابھی احساس دنیا کی حسیں بانہوں میں سوتا ہے مجھے کچھ دیر رہنے دو طرب انگیز خوابوں میں مجھے منزل نظر آتی ہے صحرا کے سرابوں میں مجھے لاعلم رہنے دو ابھی تو کچھ...
  3. محمد تابش صدیقی

    قتیل شفائی نظم: بتاؤ کیا خریدو گے؟

    بتاؤ کیا خریدو گے؟ جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگاہیں، مرمریں بانہیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ بھرے بازو، گٹھیلے جسم، چوڑے آہنی سینے بلکتے پیٹ، روتی غیرتیں، سہمی ہوئی آہیں یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟ زبانیں، دل، ارادے،...
  4. محمد تابش صدیقی

    نظم: غالبؔ دلی میں ٭ ساغر خیامی

    غالبؔ نے کی یہ عرض، خداوندِ ذو الجلال جنت سے کچھ دنوں کے لیے کر مجھے بحال مہ وش مرے کلام کو سازوں پہ گائے ہیں قسمت نے بعد مرنے کے کیا دن دکھائے ہیں شاعر جو منحرف تھے وہ مرعوب ہو گئے ایواں جو میرے نام سے منسوب ہو گئے خادم کا اس ادارے سے رشتہ ہے باہمی اک بار میں بھی دیکھ لوں غالب اکادمی ہر شخص...
  5. محمد تابش صدیقی

    مختصر نظم: خواب

    ذرا مختلف تجربہ کی خاطر ایک مختصر نظم احباب کے ذوق کی نذر: خواب ٭ زندگی کے کینوس پر خواہشوں کے رنگوں سے خواب کچھ بکھیرے تھے وقت کے اریزر نے تلخیوں کی پت جھڑ میں سب کو ہی مٹا ڈالا ٭٭٭ محمد تابش صدیقی
  6. ظہیراحمدظہیر

    قطبی رات ۔ ایک نظم

    سالوں پہلے مشی گن کے انتہائی شمالی اور سرد علاقے میں سرما کی چند راتیں ایک کیبن میں گزارنے کا اتفاق ہوا ۔ قطبی روشنیاں دیکھنے اور ویرانے میں کچھ دن گزارنے کا شوق وہاں لے گیا تھا ۔ شمالی مشی گن اور شمالی وسکانسن کا سرما شدید اور طویل ہوتا ہے ۔ یہ نظم اس قیام کی یادگار ہے ۔ اس میں ایک عروضی...
  7. طارق شاہ

    فراز احمد فرازؔ ::::::شاعر ::::::Ahmad Faraz

    شاعر جس آگ سے جل اُٹّھا ہے جی آج اچانک پہلے بھی مرے سینے میں بیدار ہُوئی تھی جس کرب کی شدّت سے مری رُوح ہے بےکل پہلے بھی مرے ذہن سے دوچار ہُوئی تھی جس سوچ سے میں آج لہو تُھوک رہا ہُوں پہلے بھی مرے حق میں یہ تلوار ہُوئی تھی وہ غم، غَمِ دُنیا جسے کہتا ہے زمانہ وہ غم! مجھے جس غم سے سروکار نہیں تھا...
  8. عینی مروت

    سفیرِخوشبو۔۔۔۔۔۔۔ایک نظم نذر پروین شاکر

    ‎پروین کے یوم وفات پر ایک تازہ نظم خوشبو کی شاعرہ کی نذر۔۔۔۔۔ سفیرِخوشبو ‎وہ پرستارِفصل ِگل ۔۔۔۔دلپذیر تتلی ‎جس نے صحنِ چمن سے چن کر ‎سارےچنچل حسین رنگوں کی دلنشینی ‎اپنی فکر و خیال کے بال وپر پہ ‎کتنی ہی جاں گسل خواہشوں کے خوں میں ڈبو ڈبو کر۔۔۔۔سجا رکھی تھی ‎*خوشبوؤں کی سفیر۔۔ کلیوں کی گود...
  9. طارق شاہ

    شاذ تمکنت شاؔذ تمکنت :::::: زمِیں کا قرض ہے ہم سب کے دوش و گردن پر:::::: Shaz Tamkanat

    "زمِیں کا قرض" زمیں کا قرض ہے ہم سب کے دوش و گردن پر عجیب قرض ہے یہ ،قرضِ بے طَلب کی طرح ہَمِیں ہیں سبزۂ خود رَو ، ہَمِیں ہیں نقشِ قَدم کہ زندگی ہے یہاں موت کے سَبب کی طرح ہر ایک چیز نُمایاں ، ہر ایک شے پِنہاں کہ نیم روز کا منظر ہے نیم شب کی طرح تماشہ گاہِ جہاں عِبرَتِ نظارہ ہے زِیاں...
  10. ردا فاطمہ

    نظم از رِدا فاطمہ

    چلو میں مان لیتی ہوں کہ میں ناداں سی لڑکی تھی مگر تم تو بڑے تھے تم نے تو دیکھی تھی دنیا کیوں نہیں سنبھلے؟ بتاؤ کیوں نہیں سنبھلے۔۔۔؟؟ ردا فاطمہ
  11. ردا فاطمہ

    جی کرتا ہے تمہیں پکاروں

    کبھی کبھی دل اتنی زیادہ ضد کرتا ہے جی کرتا ہے تمہیں پکاروں اور تم دنیا چھوڑ کہ میری گود میں سر رکھ کر رو دو لیکن ایسا ممکن کب ہے اور مجھے ڈر بھی لگتا ہے تم نے گر آواز سنی اور سن کر بھی تم نا آئے تو پاگل دل کا کیا ہو گا سو ایسے میں پھر دل کو ضد کرنے دیتی ہوں اور اداسی سہہ لیتی ہوں ردا فاطمہ
  12. ردا فاطمہ

    وہ دل کی اچھی معصوم لڑکی

    وہ دل کی اچھی معصوم لڑکی عداوتوں کے ثقیل موسم بڑی خاموشی سے سہہ گئی تھی یہ وہ محبت تھی، جو کسی شب تمہاری آنکھوں سے بہہ گئی تھی اسے پتہ تھا کہ جیت جانے میں ہار جو ہے وہ نہتے، بے آسرا سے موسم کی جاں پہ گہرا وبال ہو گا کمال ہو گا کہ جب وہ ہارے تو مسکراہٹ کسی کے ہونٹوں کی جان ٹھہرے ایمان ٹھہرے کہ...
  13. ردا فاطمہ

    ادھوری شام رہنے دو

    محبت غرض سے آگے بہت آگے کا جذبہ ہے سو ممکن ہی نہیں تم کو محبت ہو گئی ہو گی یہ جو وقتی سا جذبہ ہے اسے تم عام رہنے دو جو تھم جانے سے ڈر جائے ادھوری شام رہنے دو ضرورت کو ضرورت تک اگر محدود کر پاؤ تمہیں جو وہم لاحق ہے اسے کافور کر پاؤ تو میرے اور تمہارے درمیاں جو ایک پردہ ہے جھجک کا چاک ہو جائے یہ...
  14. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز ::::::مَیں اور تُو ::::::Ahmad Faraz

    " مَیں اور تُو " روز جب دُھوپ پہاڑوں سے اُترنے لگتی کوئی گھٹتا ہُوا بڑھتا ہُوا بیکل سایہ ایک دِیوار سے کہتا کہ مِرے ساتھ چلو اور زنجیرِ رفاقت سے گُریزاں دِیوار اپنے پندار کے نشے میں سدا اِستادہ خواہشِ ہمدمِ دِیرِینہ پہ ہنس دیتی تھی کون دِیوار، کسی سائے کے ہمراہ چلی کون دِیوار، ہمیشہ مگر...
  15. محمد تابش صدیقی

    نظم: کاغذی پیرہن ٭ خلیل الرحمٰن اعظمی

    کاغذی پیرہن کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے موسم بدل رہا ہے اٹھوں اور اب اٹھ کے کیوں نہ اس گھر کے سارے دروازے کھول ہی دوں مرے دریچوں پہ جانے کب سے دبیز پردے لٹک رہے ہیں میں کیوں نہ ان کو الگ ہی کر دوں مرا یہ تاریک و سرد کمرہ بہت دنوں سے سنہری دھوپ اور نئی ہوا کو ترس رہا ہے جگہ جگہ جیسے اس کی...
  16. محمد تابش صدیقی

    نظم: استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ٭ احمد حاطب صدیقی

    استادِ محترم کو میرا سلام کہنا کتنی محبتوں سے پہلا سبق پڑھایا میں کچھ نہ جانتا تھا، سب کچھ مجھے سکھایا اَن پڑھ تھا اور جاہل ، قابل مجھے بنایا دنیا ئے علم و دانش کا راستہ دکھایا اے دوستو ملیں تو بس ایک پیام کہنا استادِ محترم کو میرا سلام کہنا مجھ کو خبر نہیں تھی، آیاہوں میں کہاں سے ماں باپ اس...
  17. محمد تابش صدیقی

    نظم: ایک مجبور مسلمان کی مناجات ٭ محمد تابش صدیقی

    ایک مجبور مسلمان کی مناجات ٭ یا الٰہی! ترے خام بندے ہیں ہم نفس ہی میں مگن اپنے رہتے ہیں ہم تیری مخلوق محکوم بنتی رہے ظلم جابر کا برما میں سہتی رہے پڑھ کے احوال مغموم ہو جاتے ہیں پھر سے ہنسنے ہنسانے میں کھو جاتے ہیں ظلم کو روکنے ہاتھ اٹھتے ہیں کب؟ بس دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے ہیں اب حکمران اپنے،...
  18. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نظم: سفرنامۂ حج ٭ نظرؔ لکھنوی

    سفرنامۂ حج سرگذشتِ مختصر ہے حجِ بیت اللہ کی یعنی رودادِ سفر ہے حجِ بیت اللہ کی سایہ افگن ہو گئی جب مجھ پہ شامِ زندگی آرزوئے حجِ بیت اللہ دل میں جاگ اٹھی اپنے خالق سے دعاجُو روز و شب رہتا تھا میں سننے والا ہے جو سب کی، اس سے بس کہتا تھا میں قرعہ اندازی میں فضلِ رب سے نام آیا نکل ہو گیا سجدہ...
  19. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نظم: انقلاب 1947ء ٭ نظرؔ لکھنوی

    دادا مرحوم نے آزادی کے موقع پر ہونے والی خونریزی پر اپنے کرب کا اظہار یوں کیا۔ انقلاب 1947ء زخمِ دل ہونے لگا پھر خوں چکاں پھر چمک اٹھا مرا دردِ نہاں آ سنائیں ہم تجھے اے مہرباں بن گئی ناسورِ دل جو داستاں انقلابِ کشورِ ہندوستاں دل گداز و روح فرسا خوں چکاں بن گیا جب کشورِ عالی نشاں کافر و مشرک...
  20. فہد اشرف

    جوش نظم: تقاضائے سرد مہری

    جوش ملیح آبادی "یادوں کی برات' میں اس نظم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ— ”اب میں اپنی انوکھی نظم پیش کر رہا ہوں جس کی دنیائے شاعری میں کوئی نظیر ہی نہیں ملتی اور میں دعوے کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ جب سے اس کرۂ ارض پر شاعری کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے لے کر آج کی تاریخ کی تاریخ تک کا ایک مصرع بھی دنیا کی...
Top