نظر لکھنوی نظم: جنگِ ستمبر 1965ء ٭ نظرؔ لکھنوی

وہ موسمِ گرما، وہ شبِ ماہِ ستمبر
دشمن کے خطرناک عزائم کا وہ منظر
جب سرحدِ لاہور میں در آئے تھے چھپ کر
مکار و جفا کار و سیہ کار و ستمگر

سب بسترِ راحت سے ہم آغوش پڑے تھے
دن بھر کے تھکے خواب میں مدہوش پڑے تھے
مہتاب جبیں گھر میں ردا پوش پڑے تھے
طفلانِ حسیں گود میں خاموش پڑے تھے

ناگاہ فضا میں تھے جگر دوز دھماکے
دشمن کے ہوا باز تھے شانوں پہ ہوا کے
تھے شعلہ فشاں پردۂ تاریک فضا کے
گھبرا کے اٹھے لوگ مرے شہرِ وفا کے

بد بختیِ روباہ کہ شیروں کو جگایا
کج فہمیِ کنجشک کہ بازوں کے جگایا
زاغوں کی سفاہت کے عقابوں کو جگایا
کفار نے اللہ کے بندوں کو جگایا

ہر فوج لے آئے تھے وہ میدانِ وغا میں
برّی تھی زمیں پر، تو فضائی تھی ہوا میں
توپوں کی گرج، بم کے دھماکے تھے فضا میں
گھیرا تھا مرے شہر کو گردابِ بلا میں

فی الفور اٹھے دیکھ کے یہ فتنہ طرازی
یہ پیروِ اسلام، یہ اللہ کے غازی
جنگاہ میں جا پہنچے غلامانِ حجازی
جا پہنچے لگانے کے لیے جان کی بازی

جھپٹے صفتِ شیر صفِ دشمنِ دیں پر
کڑکے صفتِ برق فضاؤں میں، زمیں پر
گرجے صفتِ رعد جگر پاش کہیں پر
دشمن تھے جہاں کشتوں کے پشتے تھے وہیں پر

دشمن کی ہر اک ضرب، ہر اک وار تھا خالی
تھے سارے زمیں بوس محل ان کے خیالی
تھے موت کے چنگل میں تو یہ راہ نکالی
تھا امن طلب ہم سے اماں کا تھا سوالی

ہم شورشِ دشمن کے لیے صرصر و طوفاں
ہم صلح کے خواہاں کے لیے امن بہ داماں
ہم تابعِ فرمانِ نبیؐ، تابعِ قرآں
یہ شانِ مسلماں ہے، یہی شیوۂ ایماں

آخر کو چھٹیں جنگ کی تاریک گھٹائیں
ضو پاش ہوئیں نور سے محروم فضائیں
چلنے لگیں پھر امن کی معصوم ہوائیں
آنے لگیں ہر سو سے طرب خیز صدائیں

گلشن نظرؔ اپنا یونہی آباد رہے گا
بد خواہ جو اس کا ہے وہ برباد رہے گا
واللہ کہ یہ ملکِ خداداد رہے گا
آزاد تھا آزاد ہے آزاد رہے گا

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 

الف نظامی

لائبریرین
گلشن نظرؔ اپنا یونہی آباد رہے گا
بد خواہ جو اس کا ہے وہ برباد رہے گا
واللہ کہ یہ ملکِ خداداد رہے گا
آزاد تھا آزاد ہے آزاد رہے گا
 
گلشن نظرؔ اپنا یونہی آباد رہے گا
بد خواہ جو اس کا ہے وہ برباد رہے گا
واللہ کہ یہ ملکِ خدا داد رہے گا
آزاد تھا آزاد ہے آزاد رہے گا

آمین یارب!
 
Top