نظم

  1. فہد اشرف

    جاوید اختر نیا حکم نامہ

    کسی کا حکم ہے ساری ہوائیں ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں کہ ان کی سمت کیا ہے؟ ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہوگا چلیں گی جب تو کیا رفتار ہوگی کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں حفاظت ان کی کرناہے ضروری اور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن یہ سب ہی جانتے ہیں ××× کسی...
  2. ظہیراحمدظہیر

    ریت گھڑی

    ریت گھڑی ٹھہری ہے ایک نقطے پہ گزرانِ روز و شب خود اپنی گردشوں میں کہیں کھوگیا ہے وقت گرتا ہے ریزہ ریزہ سا لمحوں کا ریگزار شیشے کے ایک ظرف میں گم ہوگیا ہے وقت اُلٹے گا ریگزار یہ دورانیے کے بعد پھر سے پلٹ کر آئیگا اب جو گیا ہے وقت ظہیر احمد ۔ ۔۔۔۔۔ ۲۰۰۶
  3. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی ایک گمنام سپاہی کی قبر پر ۔ مصطفیٰ زیدی

    ایک گمنام سپاہی کی قبر پر تیری محراب پہ اے عصرِ کہن کی تاریخ صرف گوتم کے حسیں بت کا تبسم کیوں ہے کس ليے کیل سے لٹکی ہے فقط ایک صلیب ایک زنجیر کے حلقے کا ترنم کیوں ہے ایک ارسطو سے ہے کیوں گوشۂ دانش پرُ نور ایک سقراط کے سینے کا تلاطم کیوں ہے اسی محراب کے سائے میں کئی ابنِ علی کئی خونخوار یزیدوں...
  4. فرخ منظور

    مجید امجد پنواڑی (نظم) ۔ مجید امجد

    پنواڑی (مجید امجد) بوڑھا پنواڑی ، اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری نام کی اک ہَٹی کے اندر بوسیدہ الماری آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری پان ، کتھا ، سگرٹ ، تمباکو ، چونا ، لونگ ، سپاری عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری چونا گھولتے ، چھالیا کاٹتے ،...
  5. ظہیراحمدظہیر

    ترکِ وطن

    ترکِ وطن مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو نشتروں کے دھوکے میں وار بھی ہوئے اکثر منزلوں کی لالچ میں راستے گنوا ڈالے رہبروں کی چاہت میں خوار بھی ہوئے اکثر ہر فریب ِتازہ کومسکرا کے دیکھا تھا دل کو عہدِ رفتہ کےطور ابھی نہیں بھولے چشم ِخوش گما ں گرچہ تیرگی میں الجھی تھی خواب دیکھنا لیکن ہم...
  6. فہد اشرف

    نظیر بہاریں جاڑے کی۔ نظیر اکبرآبادی

    جاڑے کی بہاریں جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی اور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی دن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی اور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی چلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی تن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی...
  7. راحیل فاروق

    غم

    ملٹن کی جنتِ گم گشتہ پڑھنے کے بعد بڑا جی چاہتا تھا کہ اردو میں بھی نظمِ معریٰ کی صنف میں کوئی طویل اور عمدہ نظمِ ہونی چاہیے۔ طویل اور عمدہ کا خیال کچھ عرصہ بعد ترک کر دیا۔ لہٰذا نظم پیشِ خدمت ہے: رات ویران ہے، بہت ویران آسماں لاش ہے، جلی ہوئی لاش جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح ایک انبوہ ہے...
  8. محمداحمد

    نظم ۔۔۔ شاعری ۔۔۔ از محمد احمدؔ

    شاعری رات خوشبو کا ترجمہ کرکے میں نے قرطاسِ ساز پر رکھا صبح دم چہچہاتی چڑیا نے مجھ سے آکر کہا یہ نغمہ ہے میں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں چارسو تتلیاں پریشاں ہیں اور دریچے سے جھانکتا اندر لہلاتا گلاب تنہا ہے محمد احمدؔ
  9. ظہیراحمدظہیر

    آئینہ گر کے دُکھ

    آئینہ گر کے دُکھ پتھرہی رہو ، شیشہ نہ بنو شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں اِس شہرمیں خالی چہروں پر آنکھیں تو اُبھرآئی ہیں مگر آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں خاموش رہو ، آواز نہ دو کانوں میں سماعت سوتی ہے سوچوں کو ابھی الفاظ نہ دو احساس کو زحمت ہوتی ہے اظہارِ حقیقت کے لہجے سننےکا ابھی دستور نہیں...
  10. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی سایہ ۔ مصطفیٰ زیدی

    سایہ تمام شہر پہ آسیب سا مُسلط ہے دُھواں دُھواں ہیں دریچے ، ہوا نہیں آتی ہر ایک سمت سے چیخیں سُنائی دیتی ہیں صدائے ہم نَفَس و آشنا نہیں آتی گھنے درخت ، درو بام ، نغمہ و فانُوس تمام سحر و طلسمات و سایہ و کابُوس ہر ایک راہ پر آوازِ پائے نا معلُوم ہر ایک موڑ پہ اَرواحِ زِشت و بَد کا جلوس سفید...
  11. طارق شاہ

    عبدالمجید سالؔک ::::: غم کے ہاتھوں جو مِرے دِل پہ سماں گُذرا ہے ::::: Abdul Majeed Salik

    غزل غم کے ہاتھوں جو مِرے دِل پہ سماں گُذرا ہے حادثہ ایسا ، زمانے میں کہاں گُذرا ہے زندگی کا ہے خُلاصہ، وہی اِک لمحۂ شوق ! جو تِری یاد میں، اے جانِ جہاں ! گُذرا ہے حالِ دِل غم سے ہے جیسے کہ، کسی صحرا میں! ابھی اِ ک قافلۂ نوحہ گراں گُذرا ہے بزمِ دوشیں کو کرو یاد،کہ اُس کا ہر رِند رونقِ بارگۂ...
  12. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نظم: سرکش بیل (عیدِ قرباں 1986ء) ٭ نظرؔ لکھنوی

    یہ نظم اصلی واقعہ پر لکھی گئی ہے جو کہ دادا کے ساتھ عید الاضحی 1986ء کے موقع پر پیش آیا۔ عید الاضحی کے موقع پر احبابِ محفل کی دلچسپی کی نذر: ساتھ میرے عیدِ قرباں پر جو گزرا سانحہ میں سناتا ہوں ذرا تفصیل سے وہ واقعہ تھی جو نیت گاؤ نر میں عید پر قرباں کروں تاکہ حاصل اس طرح خوشنودیِ یزداں کروں...
  13. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی سچّائی ۔ مصطفیٰ زیدی

    سچّائی مشرق کے پنڈت، مغرب کے گرجا والے صبح ہوئی اور سچّائی کے پیچھے بھاگے سچّائی اک قحبہ تھی جو رات کو تھک کر سوئی ہوئی تھی، شور سنا تو خوف کے مارے تھر تھر کانپی، روزِ عدالت سے گھبرائی بھیس بدل کر پیچھے نکلی، آگے آگے مشرق کے پنڈت، مغرب کے گرجا والے (مصطفیٰ زیدی)
  14. محمد تابش صدیقی

    نظم: لمحے

    گذشتہ برس 16 اگست کو صوبائی وزیرِ داخلہ شجاع خانزادہ شہید پر اٹک میں ہونے والے حملہ میں شہید ہونے والے ڈی۔ ایس۔ پی۔ شوکت شاہ گیلانی شہید ماسٹرز ڈگری ہولڈر، شاعر اور 15 کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی ایک نظم احبابِ محفل کے ذوق کی نذر: بظاہرمیں بہت خوش ہوں ہر اک سے ہنس کے ملتا ہوں بہت مصروف میری...
  15. محمد تابش صدیقی

    نظم: رہ گزاروں پہ نہ جانا لوگو

    رہ گزاروں پہ نہ جانا لوگو رہ گزاروں پہ لہو تاباں ہے جاں نثاروں کا لہو جاں نثاروں کا لہو پوچھے گا ہم نے جو شمع فروزاں کی تھی اس پہ کیوں آج دھواں رقصاں ہے گھر سے جو تیغ و کفن لے کے چلا کیوں سرِ کوئے بُتاں رقصاں ہے رہ گزاروں پہ نہ جانا لوگو رہ گزاروں پہ لہو تاباں ہے شہ سواروں کا لہو شہ سواروں کا...
  16. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی صبحِ آزادی

    یومِ آزادی کے موقع پر دادا مرحوم کی ایک نظم جو یومِ آزادی پر لکھی گئی. صبحِ آزادی آفتابِ صبحِ آزادی ہوا پھر ضو فگن مژدہ باد اے ساکنانِ خطّۂ پاکِ وطن مسکراہٹ دل ربا ہے غنچۂ لب بستہ کی رقص میں بادِ سحر ہے آئی پھولوں کو ہنسی چہچہاتے پھر رہے ہیں طائرانِ خوش نوا صحنِ گلشن کی فضا ہے روح پرور دل کشا...
  17. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی نظم: تنظیمِ گلستاں

    دادا مرحوم کی سن 1978ء کی ایک نظم کہ جس میں انہوں نے ایک کرب کا اظہار کیا، آج بھی حالات ویسے ہی ہیں۔ احبابِ محفل کے ذوق کی نذر: تنظیمِ گلستاں تنظیمِ گلستاں کی خاطر کیوں اہلِ گلستاں لڑتے ہیں ہے بات خلافِ ایماں یہ کیوں صاحبِ ایماں لڑتے ہیں ہم کیوں نہ کبیدہ خاطر ہوں جب حاملِ قرآں لڑتے ہیں فرمائے...
  18. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی تعبیر ۔ مصطفیٰ زیدی

    تعبیر مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو تھکے ہوے کھڑکیوں کے چہرے جلی ہوئی آسماں کی رنگت سیاہ آفا‍ق تک بگولے لہو کے آتش فشاں کی ساعت وجود پر ایک بوجھ سا تھا نہ صبح ِوعدہ نہ شامِ فرقت اسی مہیب آتشیں گھڑی میں کسی کی دستک سنی تو دل نے کہا کہ صحرا کی چوٹ کھائے کوئی غریب الدیار ہو گا یہ سچ کہ دل کی ہر ایک...
  19. وقار..

    نئی سوچ

    کتابوں میں رکھے ہوئے خواب دیمک زدہ ہو گئے ہیں زندگی کمپیوٹر کی چِپ میں کہیں کھو گئی ہے اڑانوں کے نوچے ہوئے آسماں سے چرائے ہوئے چاند تارے مری خاک کی تجربہ گاہ میں اب پڑے۔۔ ڈر رہے ہیں زمیں اپنے جوتوں کی ایڑھی کے نیچے انہیں نہ لگا دے کہیں اجالوں کی رحمت بھری دھوپ چمگادڑوں کی نظر میں ملا دی گئی ہے...
  20. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی افتاد ۔ مصطفیٰ زیدی

    اُفتاد اے آتشِ تبسم و اے شبنمِ جمال خاموش آنسووں کی طرح جل رہے ہیں ہم تجھ کو خبر نہ ہو گی کہ دانش کے باوجود برسوں ترے خیال میں پاگل رہے ہیں ہم ہر بزمِ رنگ و رقص میں شرکت کے ساتھ ساتھ تنہا رہے ہیں اور سرِ مقتل رہے ہیں ہم دیکھا ہے تونے ہم کو بہاراں کے روپ میں مجروح قافلے کی طرح چل رہے ہیں ہم سب سے...
Top