مصطفیٰ زیدی ایک گمنام سپاہی کی قبر پر ۔ مصطفیٰ زیدی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 8, 2016

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ایک گمنام سپاہی کی قبر پر

    تیری محراب پہ اے عصرِ کہن کی تاریخ
    صرف گوتم کے حسیں بت کا تبسم کیوں ہے
    کس ليے کیل سے لٹکی ہے فقط ایک صلیب
    ایک زنجیر کے حلقے کا ترنم کیوں ہے
    ایک ارسطو سے ہے کیوں گوشۂ دانش پرُ نور
    ایک سقراط کے سینے کا تلاطم کیوں ہے

    اسی محراب کے سائے میں کئی ابنِ علی
    کئی خونخوار یزیدوں سے رہے گرمِ ستیز
    تیرے مسلک میں ہوئی نام و نسب کی توقیر
    تیرا ہیرو کوئی خسرو ہے تو کو ئی پرویز
    تو نے اقوام کے انبوہ میں وہ لوگ چنے
    جن میں سے کوئی جہانگیر ہے کوئی چنگیز

    تجھ سے ممکن ہو تو اے ناقدِ ایامِ کہن
    اپنے گمنام خزانوں کو اٹھا کر رکھ لے
    رات بے نام شہیدوں کے ليے روتی ہے
    ان شہیدوں کا لہو دل سے لگا کر رکھ لے
    ماؤں کے میلے دوپٹوں میں ہیں جو آنسو جذب
    ان کو آنکھوں کے چراغوں میں سجا کر رکھ لے

    ہو گئے راکھ جو پر ، چُن انہیں خاکستر سے
    سرخیِ جرأتِ پرو انہ بنے یا نہ بنے
    عام شکلوں میں بھی ہے عارضِ سلمیٰ کا جمال
    ان کو بھی دیکھ، صنم خانہ بنے یا نہ بنے
    زیست کے جو ہرِ نایاب کی تشہیر تو کر
    اس کی تشہیر سے افسانہ بنے یا نہ بنے

    (مصطفیٰ زیدی)​
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 8, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. رومانہ چوہدری

    رومانہ چوہدری محفلین

    مراسلے:
    740
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Sassy
    بہت خوب۔ اچھی شراکت ہے:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر