حفیظ جالندھری نظم: جزیرے

جزیرے
٭
قافلے برباد ہو کر رہ گئے تو کیا ہوا
مطمئن ہیں قافلہ سالار اپنے کام سے
عہدہ و منصب کی بازی جیت کر گھڑ دوڑ میں
تھان پر ہیں درشنی گھوڑے بڑے آرام سے
قافلے برباد ہو کر رہ گئے تو کیا ہوا

رہنماؤں کو سجا کر منزلِ مقصود پر
ٹھوکریں کھاتا ہے تاریکی میں امت کا جلوس
جن بہشتی مقبروں پر ہو گئے روشن چراغ
ملتِ بیضا یہی تھے چند گنتی کے نفوس
قافلے برباد ہو کر رہ گئے تو کیا ہوا

چند تقریروں، بیانوں اور تصویروں کے ساتھ
عیش و عشرت ہے بپا ہر قصر، ہر ایوان میں
رتبۂ عالی پہ ناچیں کیوں نہ ایسے مومنین
آ چکا ہے ”انتم الاعلون“ جن کی شان میں
قافلے برباد ہو کر رہ گئے تو کیا ہوا

کیوں گروہِ عام کی ذلت کا غم کھائیں خواص
جن کو اس ذلت میں لذت کے ذخیرے مل گئے
کشتیاں گرداب میں چھوڑو خدا حافظ کہو
ناخداؤ! خوش رہو تم کو جزیرے مل گئے
قافلے برباد ہو کر رہ گئے تو کیا ہوا

٭٭٭
حفیظ جالندھری
 
چند تقریروں، بیانوں اور تصویروں کے ساتھ
عیش و عشرت ہے بپا ہر قصر، ہر ایوان میں
رتبۂ عالی پہ ناچیں کیوں نہ ایسے مومنین
آ چکا ہے ”انتم الاعلون“ جن کی شان میں
---
واہ کیا بات ہے ابولاثر کی ۔ اعلیٰ ۔
 
Top