ماہر القادری

  1. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری غزل: وہ عربده جُو، معصوم ادا، قاتل بھی ہے اور قاتل بھی نہیں

    وہ عربده جُو، معصوم ادا، قاتل بھی ہے اور قاتل بھی نہیں دل اس کی ادائے سادہ کا بسمل بھی ہے اور بسمل بھی نہیں وعدے پہ نہیں آتا سچ ہے، پر یاد تو اس کو آتی ہے اس جانِ محبت کا وعده باطل بھی ہے اور باطل بھی نہیں دیکھو تو ہر اک سے بیگانہ، سمجھو تو کسی کا دیوانہ دل یار کی بزمِ عشرت میں شامل بھی ہے اور...
  2. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری غزل: خوفِ غم آرزوئے راحت ہے

    خوفِ غم آرزوئے راحت ہے یہ محبت نہیں تجارت ہے آرزوؤں کی اتنی کثرت ہے زندگی کیا ہے اک مصیبت ہے حسن کو عشق کی ضرورت ہے یہ فسانہ نہیں حقیقت ہے تیرے ہوتے ہوئے غمِ جاناں اور کس چیز کی ضرورت ہے کیا خوشی اس کو راس آئے گی دل تو پروردۂ مصیبت ہے دل پہ کیا کیا گزر گئی مت پوچھ جی رہا ہوں یہی غنیمت ہے...
  3. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری غزل: مورکھ اور بٹ مار ہے دنیا

    مورکھ اور بٹ مار ہے دنیا جھوٹوں کا دربار ہے دنیا ہار کو دنیا جیت کہے ہے جواری کی سی ہار ہے دنیا کون کسی کا غم کھاتا ہے کہنے کو غم خوار ہے دنیا لالچ سے من ہر لیتی ہے مطلب کی ہشیار ہے دنیا وقت پڑے تو کام نہ آئے لکڑی کی تلوار ہے دنیا پیتل سونا بن جاتی ہے دھوکے کا بیوپار ہے دنیا دل میں کپٹ اور...
  4. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری نغمۂ حرم: میں حریمِ قدس میں، کعبہ نظر کے سامنے

    میں حریمِ قدس میں، کعبہ نظر کے سامنے موجزن ہے نور کا دریا نظر کے سامنے يا خیالِ دوست ہے تنہا نظر کے سامنے یا مجسم ہو گیا سجدہ نظر کے سامنے کیا کروں سجدہ ضروری ہے کہ نظارہ ہے فرض دل میں شوقِ دید اور جلوہ نظر کے سامنے سنگِ اسود، ملتزم، رکنِ یمانی اور حطیم ایک ہی چکر میں ہے کیا کیا نظر کے سامنے...
  5. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری بہارِ حرم: بہار اور حرم کی بہار کیا کہنا

    بہارِ حرم ٭ بہار اور حرم کی بہار کیا کہنا تمام رحمتِ پروردگار کیا کہنا قدم قدم پہ ہدایت، روش روش پہ نجات نفس نفس کرمِ بےشمار کیا کہنا کثافتیں ہیں کہ سب دور ہوتی جاتی ہیں رہِ حجاز کی گرد و غبار کیا کہنا جگہ جگہ یہ کھجوروں کی دلنواز قطار شعاعِ مہر سرِ شاخسار کیا کہنا بس اس خیال سے پائے طلب نہ...
  6. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: خالق بھی، کارساز بھی، پروردگار بھی

    خالق بھی، کارساز بھی، پروردگار بھی وہ جس کی ذات پردہ کشا، پردہ دار بھی ذکرِ خدائے پاک جو ہے جل شانہٗ تسکینِ روح بھی ہے دلوں کا قرار بھی سب ہیں اسی کے حکم سے دن ہو کہ رات ہو شامِ خزاں بھی اس کی ہے، صبحِ بہار بھی قدرت سے اس کی گرمِ سفر ہیں یہ مہر و ماه موجِ نسیم بھی ہے رواں، آبشار بھی وابستہ...
  7. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: نہاں بھی ہے تو اور عیاں بھی ہے تو

    نہاں بھی ہے تو اور عیاں بھی ہے تو یہاں بھی ہے تو اور وہاں بھی ہے تو نگہبانِ کون و مکاں بھی ہے تو خدائے زمین و زماں بھی ہے تو کرم سے ترے حسن کی گرمیاں محبت کی روحِ رواں بھی ہے تو وہ دوری کہ ہر شے سے ہے ماورا وہ قربت کے نزدیکِ جاں بھی ہے تو ترا نام تسکینِ بے چارگاں قرارِ دلِ قدسیاں بھی ہے تو...
  8. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری نغمۂ حرم: حرم میں اذانِ سحر اللہ اللہ

    نغمۂ حرم ٭ حرم میں اذانِ سحر اللہ اللہ کہ ہیں وجد میں بحر و بر اللہ اللہ مقامِ براہیم پر یہ نمازیں بہ ہر سجدہ معراجِ سر اللہ اللہ دھڑکتے ہوئے دل کا لے کر سہارا مناجات با چشمِ تر اللہ اللہ تصور بھی ہے ایک زندہ حقیقت تخیل بھی ہے معتبر اللہ اللہ تجلی میں دھوئے ہوئے سنگریزے یہاں کے نجوم و قمر...
  9. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: دعائے شام و سحر لا الہ الّا اللہ

    دعائے شام و سحر لا الہ الّا اللہ یہی ہے زادِ سفر لا الہ الّا اللہ سکونِ قلب و جگر لا الہ الّا اللہ کمالِ فکر و نظر لا الہ الّا اللہ نہ کہکشاں نہ قمر لا الہ الّا اللہ نہ کچھ اِدھر نہ اُدھر لا الہ الّا اللہ تمام ملتیں باطل ہیں صرف اک اسلام یہی ہے راہگزر لا الہ الّا اللہ اسی میں دولتِ دنیا، اسی...
  10. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: تری ذات ہی ہے غفور و رحیم

    تری ذات ہی ہے غفور و رحیم نہیں کوئی تیرا شریک و سہیم ترے در کے محتاج خضر و مسیحؑ ترے نام لیوا خلیلؑ و کریمؑ ترے لطف و رحمت کی ادنیٰ جھلک سحر کا تبسم، گلوں کی شمیم ترے حکمِ ”کن“ کا ہے یہ سب ظہور لہکتے گلستاں، مہکتی نسیم کوئی چیز بھی تجھ سے اوجھل نہیں کہ تو ہے خدائے بصیر و علیم ہے ماہرؔ ترا...
  11. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: حاجت روا بھی تو ہے، مشکل کشا بھی تو ہے

    حاجت روا بھی تو ہے، مشکل کشا بھی تو ہے خلّاقِ دو جہاں ہے، سب کا خدا بھی تو ہے روزِ ازل بھی تیرا، شامِ ابد بھی تیری ہر ابتدا بھی تو ہے، ہر انتہا بھی تو ہے دکھ درد میں تجھی کو مولا پکارتے ہیں ٹوٹے ہوئے دلوں کا ہاں آسرا بھی تو ہے تیری تجلیوں سے روشن ہیں ماہ و انجم دنیا کی انجمن میں نور و ضیا بھی...
  12. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: پردہ اٹھ جائے اگر عشق کی زیبائی کا

    پردہ اٹھ جائے اگر عشق کی زیبائی کا حسن پھر نام نہ لے انجمن آرائی کا طور پر برقِ تجلی کی کرم فرمائی ایک غمزه تھا تری شانِ خود آرائی کا پتہ پتہ سے نمودار ہے شانِ وحدت ذره ذره کو یقیں ہے تری یکتائی کا عشق مٹتی ہوئی تصویر تری فطرت کی حسن دھویا ہوا خاکہ تری رعنائی کا سر ہو اور سنگِ درِ ختمِ رسلؐ...
  13. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: حقیقت و مجاز

    مرا وجود ہے خود حاصلِ جبینِ نیاز نفس نفس ہے عبادت، نظر نظر ہے نماز خرد کی راہ میں آئے بہت نشیب و فراز رواں دواں ہی رہا میں، یقیں کی عمر دراز زہے! كمالِ مشیت، خوشا! ظہورِ جمال حقیقوں کو دیا جس نے آب و رنگِ مجاز دل و نظر پہ ہوئی ہیں نوازشیں کیا کیا بہ رنگِ ذوقِ تماشا، بہ نامِ سوز و گداز اسی کے...
  14. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: فکر و دانش کی ہے معراج خدا کا اقرار

    فکر و دانش کی ہے معراج خدا کا اقرار یہی وجدان کی آواز ہے فطرت کی پکار علم کا نقطۂ آخر ہے یقیں کی تنویر اسی تنور سے ہوتے ہیں منور افکار عقل ایمان کے سائے ہی میں پاتی ہے فروغ یہی جذبہ ہے جو کرتا ہے خودی کو بیدار ہے متاعِ دل و جاں نورِ یقیں، حسنِ عمل اسی ماحول میں ہوتے ہیں نمایاں کردار بے یقینی...
  15. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری نعتِ: خاتم الانبیاء، رحمتِ دو جہاں، حامیِ بیکساں، شافعِ عاصیاں

    خاتم الانبیاء، رحمتِ دو جہاں، حامیِ بیکساں، شافعِ عاصیاں نورِ کون و مکاں، نازِ روحانیاں، غیرتِ قدسیاں، فخرِ پیغمبراں جس کے اخلاق کی ہر طرف ہے مہک، جس کے جلووں کی ارض و سما میں چمک جس کا انصاف محکم ہے اور بے لچک، جس کی تعلیم انسانیت کی زباں جس نے صحرا نشینوں کی تہذیب کی، جس نے اوراقِ فطرت کی...
  16. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: ترا ذکر دل کی ہے زندگی، ترا نام راحتِ جاں بھی ہے

    ترا ذکر دل کی ہے زندگی، ترا نام راحتِ جاں بھی ہے ترے نور ہی کی ہے روشنی، تو یہاں بھی ہے، تو وہاں بھی ہے کہیں تذکرے ہیں وجود کے، کہیں سلسلے ہیں سجود کے تری ذاتِ پاک وہ راز ہے، جو عیاں بھی ہے، جو نہاں بھی ہے ترے حکمِ کن فیکون کا ہے ازل کے روز سے سلسلہ کہیں پھول ہے، کہیں خار ہے، یہ بہار بھی ہے،...
  17. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمدِ: تری شانِ تجمل کا وقارِ عرش ہے منظر

    تری شانِ تجمل کا وقارِ عرش ہے منظر ترا نقشِ جلالت ثبت ہے کعبہ کی عظمت پر ضیا افگن ہے تیرا حسن بت خانہ کی دنیا میں ترے انوار کی تابش ہے فانوسِ کلیسا میں کہیں موجود ہے رنگ و بہارِ گلستاں بن کر کہیں ظاہر ہے تو آتش کدے کی گرمیاں بن کر ترے حسنِ تحیّر زا کی کوئی انتہا بھی ہے کہ تو شامل ہے سب میں...
  18. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد: یہ مرا ایمان ہے، میرے خدا تیرے سوا

    یہ مرا ایمان ہے، میرے خدا تیرے سوا کوئی داتا ہے نہ کوئی دوسرا مشکل کشا صرف تیری ذاتِ بے ہمتا ہے علام الغيوب تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے وہ خلا ہو یا مَلا سب ترے بندے ہیں تو معبود اور مسجود ہے سب ترے محتاج ہیں کیا اولیاء، کیا انبیاء ذات تیری ماورائے فہم و ادراک و قياس سوچنا چاہے تو دم گھٹنے لگے...
  19. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری غزل: سفینہ میرا ساحل آشنا معلوم ہوتا ہے

    سفینہ میرا ساحل آشنا معلوم ہوتا ہے مجھے یہ بھی فریبِ ناخدا معلوم ہوتا ہے ترے غم کا جہاں تک سلسلہ معلوم ہوتا ہے وہیں تک میری ہستی کا پتا معلوم ہوتا ہے نہ پوچھ اے دوست! شامِ غم میں کیا معلوم ہوتا ہے مجھے ہر دم قضا کا سامنا معلوم ہوتا ہے بہ ہر لحظہ، بہ ہر ساعت سِوا معلوم ہوتا ہے تمہارا غم طبیعت...
  20. محمد تابش صدیقی

    ماہر القادری حمد ٭ پروردگار بھی ہے، وہ کارساز بھی ہے

    پروردگار بھی ہے، وہ کارساز بھی ہے خلّاقِ دو جہاں ہے، بندہ نواز بھی ہے ہے عالم آشکارا، یہ بات راز بھی ہے اک پرتوِ حقیقت، حسنِ مجاز بھی ہے ہر شے ظہور اس کا، ہر سمت اس کے جلوے یہ کار گاہِ ہستی، اک بزمِ ناز بھی ہے یہ وقت ہے دعا کا، ہاں! نام لے خدا کا آنکھیں بھی شبنمی ہیں، دل میں گداز بھی ہے یہ...
Top