غزل

  1. محمد تابش صدیقی

    غزل: عزمؔ خود کو نڈھال مت کرنا ٭ عزمؔ شاکری

    عزمؔ خود کو نڈھال مت کرنا ٹوٹ کر بھی ملال مت کرنا ایک جھوٹی نظیر بن جاؤ کوئی ایسا کمال مت کرنا خار بن کر جو دل میں چبھتے ہوں ایسے رشتے بحال مت کرنا عشق کرنا ہے تو کرو لیکن اپنا جینا محال مت کرنا جس کے بنتے ہو اس کے بن جاؤ تم ہمارا خیال مت کرنا ٭٭٭ عزمؔ شاکری
  2. محمد تابش صدیقی

    غزل: گھر رہ کر یہ جانا ہے ٭ عزمؔ شاکری

    گھر رہ کر یہ جانا ہے گھر بھی مسافر خانہ ہے توبہ ٹوٹ بھی سکتی ہے رستے میں میخانہ ہے غم سے پیار کرو لوگو غم انمول خزانہ ہے کل کا وعدہ مت کیجے کل تک تو مر جانا ہے بھیس بدل کر پی لو یار دنیا پاگل خانہ ہے ٭٭٭ عزمؔ شاکری
  3. محمد تابش صدیقی

    غزل: شاد تھے صیاد نے ناشاد ہم کو کر دیا ٭ عزمؔ شاکری

    شاد تھے صیاد نے ناشاد ہم کو کر دیا قید راس آئی تو پھر آزاد ہم کو کر دیا روز نا کردہ گناہوں کی سزا سہتے ہیں ہم وقت نے کیسا ستم ایجاد ہم کو کر دیا ہم تھے آئینہ ہماری بدنصیبی تھی کہ جو پتھروں کے شہر میں آباد ہم کو کر دیا اور کیا اس سے زیادہ آئے گا فن پر زوال وقت نے کتنا بڑا استاد ہم کو کر دیا...
  4. محمد تابش صدیقی

    غزل: جو پھولوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں ٭ عزمؔ شاکری

    جو پھولوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں وہ خوشبو کا اک حصہ ہو جاتے ہیں رونے والو! ان کو دامن میں رکھ لو ورنہ آنسو آوارہ ہو جاتے ہیں دولت کا نشّہ بھی کیسا نشّہ ہے گونگے بہرے لوگ خدا ہو جاتے ہیں عشق میں اپنی جان لٹانے والے لوگ مر جاتے ہیں، پھر زندہ ہو جاتے ہیں ایسے بھی ہوتے ہیں صحرا جیسے لوگ جب روتے...
  5. محمد تابش صدیقی

    غزل: پہلا سا مرے حال پہ اکرام نہیں ہے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    پہلا سا مرے حال پہ اکرام نہیں ہے یعنی وہ مری صبح نہیں شام نہیں ہے رسوا ہے وہی جو نہیں رسوائے محبت جو عشق میں ناکام ہے ناکام نہیں ہے اے ذوقِ جنوں اور بڑھے جوش جنوں کا دامن ہے مرا جامۂ احرام نہیں ہے ممکن نہیں ابہام نہ ہو عرض و بیاں میں لیکن نگہِ شوق میں ابہام نہیں ہے جب دیکھو عزیزؔ اس کے ہی...
  6. محمد تابش صدیقی

    غزل: یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں ٭ عزمؔ شاکری

    یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں میں آنکھوں کے جنگلوں میں مجھے مت کرو تلاش دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا ہوں میں یوں بے رخی کے ساتھ نہ منہ پھیر کے گزر اے صاحبِ جمال ترا آئنہ ہوں میں یوں بار بار مجھ کو صدائیں نہ دیجیے اب وہ نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں میں...
  7. محمد تابش صدیقی

    غزل: ناز ان کا نیاز ہے میرا ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    ناز ان کا نیاز ہے میرا بندگی امتیاز ہے میرا فکر کیا مجھ کو چارہ سازی کی خود خدا چاره ساز ہے میرا اپنے لطف و کرم میں دیر نہ کر قصۂ غم دراز ہے میرا جس نے صبر و قرار چھینا ہے خود وہی دل نواز ہے میرا میری باتیں وہی سمجھتا ہے جو شناسائے راز ہے میرا میرے لفظوں کے پیرہن پہ نہ جا اک حقیقت مجاز ہے...
  8. محمد تابش صدیقی

    غزل: حسیں ہو اور پھر اس پر حسیں معلوم ہوتے ہو ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    حسیں ہو اور پھر اس پر حسیں معلوم ہوتے ہو تم اپنے حسن میں حسنِ یقیں معلوم ہوتے ہو بہت ہی دور رہتے ہو تم آغوشِ محبت سے مگر پھر بھی مجھے بالکل قریں معلوم ہوتے ہو حیا آلود رخساروں سے کر دیتے ہو راز افشا نگاہِ شوق کی شرحِ مبیں معلوم ہوتے ہو بدل دو گے تم اپنی سب وفاؤں کو جفاؤں میں تم ایسے تو ہمیں...
  9. محمد تابش صدیقی

    غزل: اہلِ دل درد کی املاک سے وابستہ ہیں ٭ عزم شاکری

    اہلِ دل درد کی املاک سے وابستہ ہیں تیرے دیوانے تری خاک سے وابستہ ہیں جو عطا کی تھی بزرگوں نے قبا کی صورت آج تک ہم اسی پوشاک سے وابستہ ہیں آشیاں جلنے پہ بے گھر نہیں سمجھا جائے یہ پرندے خس و خاشاک سے وابستہ ہیں خشک جنگل کی طرح ہو گئے چہرے لیکن آج تک دیدۂ نمناک سے وابستہ ہیں جتنے دیوانے تری بزم...
  10. محمد تابش صدیقی

    غزل: عشق کا ادعا نہیں کرتے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    عشق کا ادعا نہیں کرتے حسن کو ہم خفا نہیں کرتے وہ مبادا کہ ہم سے چھپنے لگیں عرض ہم مدعا نہیں کرتے ”یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں“ جو کسی کا بھلا نہیں کرتے ان کی آزردگی کا پاس رہے شکوہ یوں برملا نہیں کرتے بھرم اہلِ ہوس کا کیسے کھلے وہ کسی پر جفا نہیں کرتے کہیں دیوانہ ہی نہ ہو جاؤں اس قدر بھی وفا...
  11. محمد تابش صدیقی

    غزل: خدا جو سوزِ محبت کو سازگار کرے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    خدا جو سوزِ محبت کو سازگار کرے تو حسن اہلِ تمنا سے خود ہی پیار کرے بڑا ہی فتنۂ صبر آزما ہے وعدۂ دوست جو کر سکے وہ قیامت کا انتظار کرے شبِ فراق مرا دل بھی ساتھ دے نہ سکا اب اس کے بعد کوئی کس کا اعتبار کرے یہ دل تمھارا ہے اس دل کو تم ہی سمجھاؤ کرے یہ پیار مگر اس قدر نہ پیار کرے ٭٭٭ ملک نصر اللہ...
  12. محمد تابش صدیقی

    غزل: دلِ حزیں سے وہی گفتگوئے یار کرے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    دلِ حزیں سے وہی گفتگوئے یار کرے چمن میں غنچوں سے جو آمدِ بہار کرے محبت اس کی اگر ہے گناہ اے واعظ! تو اس گناہ کو انسان بار بار کرے اسی سے کھلتے ہیں اسرار دلنوازی کے خدا تجھے بھی محبت کا راز دار کرے ترے بغیر جسے ایک پل نہ چین آئے وہ کس طرح ترے وعدوں پہ انحصار کرے جو مجھ کو صبر کی تلقین کر رہے...
  13. محمد تابش صدیقی

    غزل: اک نظر بس اک محبت کی نظر میرے لیے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    اک نظر بس اک محبت کی نظر میرے لیے سہل ہے پھر زندگی کا ہر خطر میرے لیے میری جانب آنکھ بھر کر دیکھنا بھی کیا ضرور ایک کافی ہے نگاہِ مختصر میرے لیے غیر پر جس سے نہ افشا ہو سکے رازِ کرم اے حسینو! وہ نگاہِ طُرفہ تر میرے لیے ق آبروئے موج ہے طوفان کے آغوش میں موت ہے یعنی حیاتِ بےخطر میرے لیے وہ بھی...
  14. محمد تابش صدیقی

    غزل: قصۂ غم بیان ہو نہ سکا ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    قصۂ غم بیان ہو نہ سکا ان سے دل بدگمان ہو نہ سکا تیرے حسن و جمال کا ہم سے تیرے شایاں بیان ہو نہ سکا وقت کا جو غلام ہو کے رہا وہ امامِ زمان ہو نہ سکا میرا افسانۂ خلوص و وفا غیر کی داستان ہو نہ سکا میرے سجدوں سے سرفراز عزیزؔ غیر کا آستان ہو نہ سکا ٭٭٭ ملک نصر اللہ خان عزیزؔ
  15. عاطف ملک

    خواہشِ وصل بنی، ہجر کے آزار بنے

    چند تک بندیاں: خواہشِ وصل بنی، ہجر کے آزار بنے راستے عشق میں جتنے بنے دشوار بنے ان کی بیداد کی بھی وجہ کوئی ہو گی ضرور چاہتا کون ہے ورنہ کہ ستم گار بنے پہلے آغاز تا انجام ہوا سب مرقوم پھر کہانی کے سبھی منظر و کردار بنے ذرے ذرے میں ہے جب خالقِ کن جلوہ فگن کیسے ممکن ہے کوئی شے یہاں بے کار بنے...
  16. محمد تابش صدیقی

    غزل: اشاروں ہی اشاروں میں وہ کچھ فرما ہی جاتے ہیں ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    اشاروں ہی اشاروں میں وہ کچھ فرما ہی جاتے ہیں ہمارے اضطرابِ شوق کو بھڑکا ہی جاتے ہیں بہت سے مدعی بزمِ محبت سے نکل آئے تمنا جن کی ناپختہ ہو وہ گھبرا ہی جاتے ہیں معاذ اللہ مجبوری محبت کی بھی کیا شے ہے بھلاتا ہوں ہزار ان کو مگر یاد آ ہی جاتے ہیں دلِ مضطر نے رازِ عشق نادانی سے کہہ ڈالا فریبِ دوست...
  17. محمد تابش صدیقی

    غزل: کسی کا وعدۂ فردا اگرچہ مبہم ہے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    کسی کا وعدۂ فردا اگرچہ مبہم ہے مگر نشاطِ تمنا کو یہ بھی کیا کم ہے وہ مجھ کو دیکھ کے بیگانہ وار ہو جانا خدا کے فضل سے اتنا تو ربطِ باہم ہے عجیب چیز ہے تکمیلِ آرزو لیکن رضائے دوست نہ یہ ہو تو مجھ کو کیا غم ہے الجھ گیا ہے زمانے کا مسئلہ یا رب مزاجِ یار بہ اندازِ زلف برہم ہے عزیزؔ کس سے کہیں...
  18. محمد تابش صدیقی

    غزل: محبت سہل ہے مشکل نہیں ہے ٭ نصراللہ خان عزیز

    محبت سہل ہے مشکل نہیں ہے وہ کیا جانے کہ جس کے دل نہیں ہے حیاتِ جادواں دیتی ہے اے دل رہِ حق کوچۂ قاتل نہیں ہے مرے محبوب اگر تیری رضا ہی نہیں حاصل تو کچھ حاصل نہیں ہے بھرم کھلتا ہے اربابِ ہوس کا جفائے دوست بے حاصل نہیں ہے یہ اہلِ حق کی غفلت کا ہے ثمرہ یہ غلبہ غلبۂ باطل نہیں ہے کہا کس نے کہ...
  19. محمد تابش صدیقی

    غزل: اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں ٭ نعیم صدیقیؒ

    اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں اے چشمِ اشتیاق ترے دن پھرے تو ہیں کچھ اہتمامِ رونقِ میخانہ ہے ضرور ٹھنڈی ہوا چلی تو ہے بادل گھرے تو ہیں لو اب تو آئی منزل جاناں سے بوئے خوش کچھ ٹھوکریں لگی تو ہیں کانٹے چبھے تو ہیں گلشن کی خیر ہو تو گوارا قفس ہمیں اڑتی سی ہے خبر کہ نئے گل کھلے تو ہیں...
  20. محمد تابش صدیقی

    غزل: کیا میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا؟ ٭ نعیم صدیقیؒ

    کیا میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا؟ رنگوں نے لکھنا چھوڑ دیا؟ خوشبو نے مہکنا چھوڑ دیا؟ گلشن کی جنوں انگیز فضا کیا ویسی جنوں انگیز نہیں بلبل نے بغاوت کی لَے میں کیا اب سے چہکنا چھوڑ دیا؟ ظلمت کے خداؤ! کھل کے کہو کیا نور نے گھٹنے ٹیک دیے سُورج نے چمکنا چھوڑ دیا؟ تاروں نے چھٹکنا چھوڑ...
Top