غزل

  1. محمد تابش صدیقی

    غزل: اک نظر بس اک محبت کی نظر میرے لیے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    اک نظر بس اک محبت کی نظر میرے لیے سہل ہے پھر زندگی کا ہر خطر میرے لیے میری جانب آنکھ بھر کر دیکھنا بھی کیا ضرور ایک کافی ہے نگاہِ مختصر میرے لیے غیر پر جس سے نہ افشا ہو سکے رازِ کرم اے حسینو! وہ نگاہِ طُرفہ تر میرے لیے ق آبروئے موج ہے طوفان کے آغوش میں موت ہے یعنی حیاتِ بےخطر میرے لیے وہ بھی...
  2. محمد تابش صدیقی

    غزل: قصۂ غم بیان ہو نہ سکا ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    قصۂ غم بیان ہو نہ سکا ان سے دل بدگمان ہو نہ سکا تیرے حسن و جمال کا ہم سے تیرے شایاں بیان ہو نہ سکا وقت کا جو غلام ہو کے رہا وہ امامِ زمان ہو نہ سکا میرا افسانۂ خلوص و وفا غیر کی داستان ہو نہ سکا میرے سجدوں سے سرفراز عزیزؔ غیر کا آستان ہو نہ سکا ٭٭٭ ملک نصر اللہ خان عزیزؔ
  3. عاطف ملک

    خواہشِ وصل بنی، ہجر کے آزار بنے

    چند تک بندیاں: خواہشِ وصل بنی، ہجر کے آزار بنے راستے عشق میں جتنے بنے دشوار بنے ان کی بیداد کی بھی وجہ کوئی ہو گی ضرور چاہتا کون ہے ورنہ کہ ستم گار بنے پہلے آغاز تا انجام ہوا سب مرقوم پھر کہانی کے سبھی منظر و کردار بنے ذرے ذرے میں ہے جب خالقِ کن جلوہ فگن کیسے ممکن ہے کوئی شے یہاں بے کار بنے...
  4. محمد تابش صدیقی

    غزل: اشاروں ہی اشاروں میں وہ کچھ فرما ہی جاتے ہیں ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    اشاروں ہی اشاروں میں وہ کچھ فرما ہی جاتے ہیں ہمارے اضطرابِ شوق کو بھڑکا ہی جاتے ہیں بہت سے مدعی بزمِ محبت سے نکل آئے تمنا جن کی ناپختہ ہو وہ گھبرا ہی جاتے ہیں معاذ اللہ مجبوری محبت کی بھی کیا شے ہے بھلاتا ہوں ہزار ان کو مگر یاد آ ہی جاتے ہیں دلِ مضطر نے رازِ عشق نادانی سے کہہ ڈالا فریبِ دوست...
  5. محمد تابش صدیقی

    غزل: کسی کا وعدۂ فردا اگرچہ مبہم ہے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    کسی کا وعدۂ فردا اگرچہ مبہم ہے مگر نشاطِ تمنا کو یہ بھی کیا کم ہے وہ مجھ کو دیکھ کے بیگانہ وار ہو جانا خدا کے فضل سے اتنا تو ربطِ باہم ہے عجیب چیز ہے تکمیلِ آرزو لیکن رضائے دوست نہ یہ ہو تو مجھ کو کیا غم ہے الجھ گیا ہے زمانے کا مسئلہ یا رب مزاجِ یار بہ اندازِ زلف برہم ہے عزیزؔ کس سے کہیں...
  6. محمد تابش صدیقی

    غزل: محبت سہل ہے مشکل نہیں ہے ٭ نصراللہ خان عزیز

    محبت سہل ہے مشکل نہیں ہے وہ کیا جانے کہ جس کے دل نہیں ہے حیاتِ جادواں دیتی ہے اے دل رہِ حق کوچۂ قاتل نہیں ہے مرے محبوب اگر تیری رضا ہی نہیں حاصل تو کچھ حاصل نہیں ہے بھرم کھلتا ہے اربابِ ہوس کا جفائے دوست بے حاصل نہیں ہے یہ اہلِ حق کی غفلت کا ہے ثمرہ یہ غلبہ غلبۂ باطل نہیں ہے کہا کس نے کہ...
  7. محمد تابش صدیقی

    غزل: اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں ٭ نعیم صدیقیؒ

    اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں اے چشمِ اشتیاق ترے دن پھرے تو ہیں کچھ اہتمامِ رونقِ میخانہ ہے ضرور ٹھنڈی ہوا چلی تو ہے بادل گھرے تو ہیں لو اب تو آئی منزل جاناں سے بوئے خوش کچھ ٹھوکریں لگی تو ہیں کانٹے چبھے تو ہیں گلشن کی خیر ہو تو گوارا قفس ہمیں اڑتی سی ہے خبر کہ نئے گل کھلے تو ہیں...
  8. محمد تابش صدیقی

    غزل: کیا میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا؟ ٭ نعیم صدیقیؒ

    کیا میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا؟ رنگوں نے لکھنا چھوڑ دیا؟ خوشبو نے مہکنا چھوڑ دیا؟ گلشن کی جنوں انگیز فضا کیا ویسی جنوں انگیز نہیں بلبل نے بغاوت کی لَے میں کیا اب سے چہکنا چھوڑ دیا؟ ظلمت کے خداؤ! کھل کے کہو کیا نور نے گھٹنے ٹیک دیے سُورج نے چمکنا چھوڑ دیا؟ تاروں نے چھٹکنا چھوڑ...
  9. محمد تابش صدیقی

    غزل: واقفِ راز کوئی ہے ہی نہیں ٭ نصر اللہ خان عزیز

    واقفِ راز کوئی ہے ہی نہیں موت ڈرنے کی ورنہ شَے ہی نہیں جلوۂ حق ہے ہر طرف پیدا اور کوئی جہاں میں ہے ہی نہیں ہے محبت میں بھی عجیب سرور نشہ آور جہاں میں مَے ہی نہیں کفر کے حق میں جو ہو نغمہ سرا مجھ کو حق سے ملی وہ نَے ہی نہیں چھیڑ اس شوخ سے چلی جائے قصہ یہ مستحقِ طَے ہی نہیں زنده باد اے دعائے...
  10. محمد تابش صدیقی

    غزل: لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا ٭ تابش

    سال کے اختتام پر کچھ خیالات رواں ہو گئے۔ احباب کی بصارتوں کی نذر لوگ خوش ہیں کہ سال بدلے گا کیا ہمارا یہ حال بدلے گا؟ ہو گئے ہر ستم کے ہم عادی اب تو ظالم ہی چال بدلے گا دل بدلتا نہیں ہے کہنے سے اشکِ توبہ میں ڈھال، بدلے گا کون بدلے گا ملک کے حالات؟ کیا کبھی یہ سوال بدلے گا؟ ہم نے بدلی نہیں...
  11. محمد تابش صدیقی

    امجد اسلام امجد غزل: خزاں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں

    خزاں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں شجر مجبوریاں پہنے ہوئے ہیں یہ کیسی فصلِ گل آئی چمن میں پرندے خوف سے سہمے ہوئے ہیں ہواؤں میں عجب سی بےکلی ہے دلوں کے سائباں سمٹے ہوئے ہیں ہمارے خواب ہیں مکڑی کے جالے ہم اپنے آپ میں الجھے ہوئے ہیں دمکتے، گنگناتے موسموں کے لہو میں ذائقے پھیلے ہوئے ہیں مری صورت...
  12. محمد تابش صدیقی

    ریاض مجید غزل: رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں

    رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں شعلۂ مضطر ہوں میں لیکن ابھی پتھر میں ہوں اپنی سوچوں سے نکلنا بھی مجھے دشوار ہے دیکھ میں کس بے کسی کے گنبدِ بے در میں ہوں دیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیں گزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر میں ہوں جرم کرتا ہے کوئی اور شرم آتی ہے مجھے یہ سزا...
  13. عاطف ملک

    تلخیِٔ ایام سے کچھ یوں کنارا ہو گیا

    ایک کاوش احباب کی بصارتوں کی نذر تلخیِٔ ایام سے کچھ یوں کنارا ہو گیا ہم پہ صرف ان کے خیالوں کا اجارہ ہو گیا دل نے کیں وابستہ امیدیں کسی کی ذات سے ڈوبتے کو پھر سے تنکے کا سہارا ہو گیا اک تبسم،اک نظر، بس ایک پل کی بات تھی "مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمھارا ہو گیا" اس تعلق میں سبھی خوشیاں ہوئیں ان...
  14. عبدالقیوم چوہدری

    اُس کی تمام عمر کا ترکہ خرید لے ٭ سید حیدر رضوی

    اُس کی تمام عمر کا ترکہ خرید لے بڑھیا کا دل تھا کوئی تو چرخہ خرید لے بچوں کا رزق دے مجھے قیمت کے طور پر تُو تو میرا خدا ہے نا ، سجدہ خرید لے اک بوڑھا اسپتال میں دیتا تھا یہ صدا ہے کوئی جو غریب کا گُردہ خرید لے ؟ مزدور کی حیات اِسی کوشش میں کٹ گئی اک بار اُس کا بیٹا بھی بستہ خرید لے ہم سر...
  15. عاطف ملک

    خلق میں ایک ہی تو نام نہیں

    ایک کاوش استادِ محترم اور احباب کے ذوق کی نذر: خلق میں ایک ہی تو نام نہیں شاعری اس ہی پر تمام نہیں اب وہ پہلے سے صبح و شام نہیں اس کی گلیوں میں اب قیام نہیں آج ہم ہو گئے خفا اس سے یہ بھی چاہت کا تو مقام نہیں کیوں کریں یاد ہر گھڑی اس کو کیا ہمیں اور کوئی کام نہیں دل کے بدلے میں دل ملے بھی...
  16. محمداحمد

    غزل ۔۔۔ خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے ۔۔۔ خالد ندیم شانی

    غزل خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے اُس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے...
  17. عاطف ملک

    لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی

    لیتا ہے خبریں غیر سے اپنے شکار کی دیکھو مزاج پرسی ذرا میرے یار کی نکلی جو آج آہ دلِ دل فگار کی پہنچے گی گونج عرش تلک اس پکار کی تو پاس ہو تو سال ہے خوشیوں کی اک گھڑی اور دور ہو تو پل ہے صدی اضطرار کی جو بات ناگوار ہو ان کے مزاج کو لگتی ہے ان کو بات وہی انتشار کی پہچان لیں جو حق کو تو دیتے...
  18. طارق شاہ

    عدم عبدالحمید عدمؔ:::::دِل تھا ،کہ پُھول بَن کے بِکھرتا چلا گیا:::::Abdul -Hameed- Adam

    غزل عبدالحمید عدمؔ دِل تھا ،کہ پُھول بَن کے بِکھرتا چلا گیا تصوِیر کا جمال اُبھرتا چلا گیا شام آئی، اور آئی کچھ اِس اہتمام سے! وہ گیسُوئے دراز بِکھرتا چلا گیا غم کی لکیر تھی کہ، خوُشی کا اُداس رنگ ہر نقش آئینے میں اُبھرتا چلا گیا ہر چند، راستے میں تھے کانٹے بچھے ہُوئے جس کو تیری طلب تھی...
  19. طارق شاہ

    آتش خواجہ حیدر علی:::::عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا ::::: Khwaja Haidar Ali Aatish

    غزل خواجہ حیدر علی آتشؔ عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا داغِ دِل خندہ زن، زخمِ جِگر کوئی نہ تھا جوہری کی آنکھ سے دیکھے جواہر بیشتر لعلِ لب سالعل، دنداں سا گُہر کوئی نہ تھا خوب صُورت یُوں تو بہتیرے تھے، لیکن یار سا! نازنیں، نازک بدن، نازک کمر کوئی نہ تھا رہ گئی دِل ہی میں اپنے حسرتِ...
  20. عاطف ملک

    بھروسا جس پہ کِیا تھا اسی نے توڑ دیا

    چند اشعار استادِ محترم اور محفلین کی نذر: بھروسا جس پہ کِیا تھا اسی نے توڑ دیا جو آیا ہم پہ کڑا وقت، اس نے چھوڑ دیا جو میں نے پوچھا بتاؤ مِری خطا کیا ہے؟ مرا سوال مری سمت اس نے موڑ دیا میں بُن رہا تھا حسیں خواب تیری قربت کے ترے فراق نے ہر ایک خواب توڑ دیا اب اپنے رشتہِٕ امید کی بھی کیا...
Top