اقبال عظیم غزل: تم سے کس نے کہا، میں نے شکوہ کیا؟ خیر جس نے کہا اور جو بھی کہا، کہنے والا غلط فہم و نادان ہے

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 17, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,847
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    تم سے کس نے کہا، میں نے شکوہ کیا؟ خیر جس نے کہا اور جو بھی کہا، کہنے والا غلط فہم و نادان ہے
    ہاں کبھی ازرہِ تذکرہ بے خیالی میں ضمناً کوئی بات کہہ دوں یونہی، وہ بھی احباب میں اس کا امکان ہے

    ہم جو بھولے سے بھی مسکرائے کبھی، ان کے ماتھے پہ بل پڑ گئے سینکڑوں، جیسے خوشیاں فقط ان کی میراث ہیں
    یوں بظاہر ملاقات برسوں کی ہے، دل نوازی بھی ہے غمگساری بھی ہے، یعنی اچھی طرح جان پہچان ہے

    آگ شعلوں پہ شعلے اگلتی رہی، باغ چیخا کیا، پھول روتے رہے، لوگ دیکھا کیے اور ہنستے رہے
    کوئی سوچے ذرا خود ہی انصاف سے، ایسے حالات میں، ایسے ماحول میں، حفظِ ناموسِ گلشن کا امکان ہے؟

    عمر بھر کی وفاؤں کی قیمت ہے یہ؟ یا خلوص و محبت کا انعام ہے؟ ایک چھوٹی سی لغزش پہ برہم ہو تم!
    ایک شکوے پہ اتنے خفا ہو گئے؟ یہ نہ سمجھا مرے دل کا عالم ہے کیا، یہ نہ سوچا کہ انسان انسان ہے

    اے مرے دوستو! اے مرے مشفقو! بے زبانی کا مفہوم یہ کب ہوا، تلخ و شیریں کا احساس مجھ کو نہیں؟
    یہ الگ بات ہے باوجودِ ستم اپنے دشمن کو بھی میں نہ دشمن کہوں، مجھ کو اپنے پرائے کی پہچان ہے

    روٹھے روٹھے سے تم، سہمے سہمے سے ہم، اجنبی اجنبی سے ملے جس طرح، ایسے ملنے سے اچھا نہ ملنا ہی تھا
    خیر یہ بھی بہت ہے ہمارے لیے کم سے کم باریابی تو حاصل ہوئی، آپ کی یہ نوازش ہے احسان ہے

    کس کی محفل ہے یہ ہم کہاں آ گئے؟ ان میں اقبالؔ کوئی شناسا بھی ہے؟ کس سے باتیں کریں کس کو آواز دیں
    ان کے چہرے پہ شاید نقابیں بھی ہیں، آستینوں کے اندر چمکتا ہے کچھ، ایسی محفل میں اندیشۂ جان ہے

    ٭٭٭
    اقبال عظیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر