غزل: سکوں ہے، ملنے ملانے سے جان چھوٹ گئی ٭ عثمان جامعی

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 16, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    سکوں ہے، ملنے ملانے سے جان چھوٹ گئی
    وبا چلی وہ، زمانے سے جان چھوٹ گئی

    فراق و ہجر کے صدمے اٹھا رہے ہیں سبھی
    سو اپنا حال بتانے سے جان چھوٹ گئی

    ہو جس سے ملنا اسے حالِ دل سنا دینا
    یوں دل کا درد لٹانے سے جان چھوٹ گئی

    تعلقات نبھانے کو ملنا پڑتا تھا
    تعلقات نبھانے سے جان چھوٹ گئی

    میں جس سے ملتا تھا زیادہ اسے گنواتا تھا
    وبا کی خیر، گنوانے سے جان چھوٹ گئی

    وبا کا کرکے بہانہ تجھے بھی چھوڑ دیا
    بہانے روز بنانے سے جان چھوٹ گئی

    ٭٭٭
    محمد عثمان جامعی
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. Majzoob

    Majzoob محفلین

    مراسلے:
    9
    بہت خوب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد اسامہ علی

    محمد اسامہ علی محفلین

    مراسلے:
    47
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    کمال
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر