اقبال عظیم غزل: کچھ ایسے زخم بھی ہم دل پہ کھائے بیٹھے ہیں

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 26, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,847
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کچھ ایسے زخم بھی ہم دل پہ کھائے بیٹھے ہیں
    جو چارہ سازوں کی زد سے بچائے بیٹھے ہیں

    نہ جانے کون سا آنسو کسی سے کیا کہہ دے
    ہم اس خیال سے نظریں جھکائے بیٹھے ہیں

    نہ خوفِ بادِ مخالف، نہ انتظارِ سحر
    ہم اپنے گھر کے دیے خود بجھائے بیٹھے ہیں

    ہمارا ذوق جدا، وقت کا مزاج جدا
    ہم ایک گوشے میں خود کو چھپائے بیٹھے ہیں

    ہمارے دل میں ہیں محفوظ چند تاج محل
    جنھیں ہم اپنا مقدر بنائے بیٹھے ہیں

    زمانہ دیکھا ہے ہم نے ہماری قدر کرو
    ہم اپنی آنکھوں میں دنیا بسائے بیٹھے ہیں

    ہم اپنی ذات سے اک عہد ہیں مگر اقبالؔ
    ہم اپنے آپ کو قصداً بھلائے بیٹھے ہیں

    ٭٭٭
    اقبالؔ عظیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت اعلیٰ!
    ہمارا ذوق جدا، وقت کا مزاج جدا
    ہم ایک گوشے میں خود کو چھپائے بیٹھے ہیں
    کیا بات ہے ! واہ!
    اقبال عظیم کی غزل عموماً روایت اور غنایت سے بھرپور ہوتی ہے ! اقبال عظیم میرے ایک قریبی ڈاکٹر دوست کے ماموں تھے اور وہ ان کے واقعات اکثر سنایا کرتا تھا ۔نابینا ہونے کے باعث وہ اکثر قریبی لوگوں کو ان کی "خوشبو" سے پہچان لیا کرتے تھے ۔

    مقطع کو ایک نظر پھر سے دیکھ لیجئے گا تابش بھائی ! ٹائپو لگ رہا ہے ۔ ذات میں عہد ہونا تو معروف ہے لیکن ذات سے عہد ہونا غالباً درست نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,847
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جس کتاب سے ٹائپ کیا ہے، اس میں ایسے ہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر