غزل

  1. محمد تابش صدیقی

    غزل: خیر سے آج وہ آئے ہیں منانے کے لیے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    خیر سے آج وہ آئے ہیں منانے کے لیے آزمانے کے لیے ہو کہ بنانے کے لیے کتنی مدت سے ہیں بے تاب خبر ہے کہ نہیں ہاتھ میرے تمھیں آغوش میں لانے کے لیے وضع داریِّ محبت کو نباہیں کب تک دلِ بے تاب چلو ان کو منانے کے لیے سرخیِ روئے حیادار نے خود بخشا ہے اک نیا رنگ محبت کے فسانے کے لیے ان کے کوچے میں بڑے...
  2. محمد تابش صدیقی

    غزل: شکوۂ جورِ یار کیا کرتے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    شکوۂ جورِ یار کیا کرتے دل کا ہم اعتبار کیا کرتے جان دے دی کہ تھی رضائے دوست موت کا انتظار کیا کرتے چل دیے بے قرار ہو کے ادھر ہوگئے بے قرار کیا کرتے عشق کا کاروبار کر ہی چکے اور ہم کاروبار کیا کرتے یاد ہیں سب کرشمہ ہائے کرم داغِ دل کا شمار کیا کرتے اس کی رحمت نہ ساتھ اگر دیتی لوگ روزِ شمار...
  3. محمد تابش صدیقی

    غزل: یہ اضطراب کا عالم کہاں سے آتا ہے؟ ٭ احمد حاطب صدیقی

    یہ اضطراب کا عالم کہاں سے آتا ہے؟ خوشی ہے جاتی کہاں، غم کہاں سے آتا ہے؟ سوال کرتی ہیں رو رو کہ مجھ سے یہ آنکھیں کہ دل میں گریہ پیہم کہاں سے آتا ہے؟ گر اپنے خوں سے شگوفے کھلاتی ہیں شاخیں تو زرد پتوں کا موسم کہاں سے آتا ہے؟ شجر جو خاک سے افلاک کو لپکتے ہیں یہ خاک زادوں میں دم خم کہاں سے آتا ہے؟...
  4. محمد تابش صدیقی

    غزل: دن تو سب ہی گزر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں ٭ احمد حاطب صدیقی

    دن تو سب ہی گزر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں جان سے پیارے مر جاتے ہیں ، یادیں باقی رہ جاتی ہیں ان کا ملنا، ان سے بچھڑنا، یاروں کے اغیار کے طعنے زخم تو سارے بھر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں ماضی کی ہر بزم سے ہم نے، مستقبل کے خواب سمیٹے لیکن خواب بکھر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں...
  5. طارق شاہ

    اکبر الہ آبادی :::::دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں::::::::::Akbar -Allahabadi

    غزل اکبؔر الٰہ آبادی دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں سینے پہ نَفَس بار ہے، معلُوم نہیں کیوں اِقرارِ وَفا یار نے ہر اِک سے کِیا ہے مُجھ سے ہی بس اِنکار ہے، معلُوم نہیں کیوں ہنگامۂ محشر کا تو مقصوُد ہے معلُوم دہلی میں یہ دربار ہے، معلوم نہیں کیوں جِس سے دِلِ رنجُور کو ،پہونچی ہے اذِیّت...
  6. عاطف ملک

    لغو، بے ذائقہ، دل گیر بھی ہو سکتی ہے

    بہت عرصے سے ایک غزل ہماری پوٹلی میں پڑی ہوئی ہے۔آج ہمت کر کے پیش کر رہے ہیں۔تمام محفلین بالخصوص اساتذہ کی رائے کا انتظار رہے گا۔ لغو، بے ذائقہ، دل گیر بھی ہو سکتی ہے زندگی جبر سے تعبیر بھی ہو سکتی ہے ہو بھی سکتے ہیں کبھی شارحِ راحت آنسو اور ہنسی درد کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے نقش بر آب بھی بن...
  7. محمد تابش صدیقی

    غزل: خداوندا ہلالِ نو مہِ کامل نہ بن جائے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    ”پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے“ خداوندا ہلالِ نو مہِ کامل نہ بن جائے وفائے دوست محرومِ شکیبائی نہ کر ڈالے مسيحا جس کو بننا ہے، وہی قاتل نہ بن جائے بڑی مشکل سے میں نے کائناتِ دل کو بدلا تھا مگر یہ ہو کے محرومِ سکوں پھر دل نہ بن جائے میں تیرے شوق کی قوت کا منکر تو نہیں لیکن محبت کے...
  8. محمد تابش صدیقی

    غزل: اپنی جانب ان کی رفتارِ خراماں دیکھیے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    اپنی جانب ان کی رفتارِ خراماں دیکھیے ان کی جانب دل کے ہر ذرے کو رقصاں دیکھیے خطہ خطہ پائیے دل کا ہلاکِ آرزو! گوشہ گوشہ آرزو کا گل بداماں دیکھیے سب سے چھپ کر دیکھیے، سب سے چھپا کر دیکھیے یعنی وہ روئے حسیں تا حدِ امکاں دیکھیے دیکھیے کیوں خارج از خود جلوۂ روئے حبیب اپنی ہی لوحِ جبیں میں روئے...
  9. محمد تابش صدیقی

    غزل: سمجھتے ہیں مگر سمجھائیں یہ اسرار کیسے ٭ جلیل عالیؔ

    سمجھتے ہیں مگر سمجھائیں یہ اسرار کیسے کہ اپنے راستے ہونے لگے ہموار کیسے جہاں مضبوط بیڑے بھی نہ بچ پائیں بھنور سے شکستہ ناؤ کر جاتی ہے دریا پار کیسے خبر کس کو کرشمہ ہے دوا کا یا دعا کا دنوں میں دُور اپنے ہو گئے آزار کیسے کبھی سرگوشیاں اندر کی سن پائیں تو جانیں کہ آنکھیں دیکھ سکتی ہیں پسِ...
  10. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::: طَلَب تھی جِس کی، وہ صُورت مِلی یہاں بھی نہیں:::::Shafiq-Khalish

    غزل طَلَب تھی جِس کی، وہ صُورت مِلی یہاں بھی نہیں مُدافعت کوغموں کی مَیں وہ جَواں بھی نہیں بَدیسی زِیست کو حاصِل مِزاج داں بھی نہیں دروغ گوئی ہو، کہہ دُوں جو رائیگاں بھی نہیں ثباتِ دِل کو ہی پُہنچے تھے ہم وطن سے یہاں کہیں جو راست، تو حاصِل ہُوا یہاں بھی نہیں غموں کی دُھوپ سے بچ لیں کِس ایک...
  11. کاشفی

    اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے - جلیل مانک پوری

    غزل (جلیلؔ مانک پوری) اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے یہ قفس یہ آشیانا اور ہے موت کا آنا بھی دیکھا بارہا پر کسی پر دل کا آنا اور ہے ناز اٹھانے کو اٹھاتے ہیں سبھی اپنے دل کا ناز اٹھانا اور ہے درد دل سن کر تمہیں نیند آ چکی بندہ پرور یہ فسانا اور ہے رات بھر میں شمع محفل جل بجھی عاشقوں کا...
  12. محمد تابش صدیقی

    غزل: آج تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے ٭ عزمؔ شاکری

    آج تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے رات ٹوٹے ہوئے تاروں کا سبب پوچھتی ہے تو اگر چھوڑ کے جانے پہ تُلا ہے تو جا جان بھی جسم سے جاتی ہے تو کب پوچھتی ہے کل مرے سر پہ مرا تاج تھا تو سب تھے مرے آج دنیا یہ مرا نام و نسب پوچھتی ہے میں چراغوں کی لویں تھام کے سو جاتا ہوں رات جب مجھ سے مرا حسنِ طلب...
  13. محمد تابش صدیقی

    غزل: کچھ ایسے نظر صاحبِ کردار بھی آئے ٭ عزمؔ شاکری

    کچھ ایسے نظر صاحبِ کردار بھی آئے تعظیم کو جن کی در و دیوار بھی آئے تاریکیِ شب نے مرا دامن نہیں چھوڑا حالانکہ نظر صبح کے آثار بھی آئے اے وعدہ فروشو! ہمیں حیرت سے نہ دیکھو ہم اہلِ وفا تھے تو سرِ دار بھی آئے ٹھہرے نہ کبھی تیشہ بدستوں کے مقابل کہنے کو بہت راہ میں کہسار بھی آئے ہر روز مرے جسم کو...
  14. محمد تابش صدیقی

    غزل: ہمارے دل میں جو آتش فشاں ہے ٭ عزمؔ شاکری

    ہمارے دل میں جو آتش فشاں ہے جہنم میں بھی وہ گرمی کہاں ہے میں اپنی حد میں داخل ہو رہا ہوں مرے قدموں کے نیچے آسماں ہے بہت دن سے پڑی ہیں خشک آنکھیں مگر سینے میں اک دریا رواں ہے تھا جس کا ذکر کل تک چہرہ چہره نہ اب وہ ہے نہ اس کی داستاں ہے پناہیں لے رہے ہیں جس میں سورج ہمارے سر پہ ایسا سائباں ہے...
  15. محمد تابش صدیقی

    غزل: یوں اپنی محبت کو پُر کیف بنانا ہے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    یوں اپنی محبت کو پُر کیف بنانا ہے اک بار خفا کرنا، سو بار منانا ہے اسرارِ محبت کو اے دوست چھپانا ہے ہے شوق بہت سادہ پُرکار زمانا ہے جو داغِ گنہ سارے اک بار مٹا ڈالے اے چشمِ ندامت اب وہ اشک بہانا ہے جلووں کے تقاضے پر وہ عذرِ شباب ان کا کیا خوب تقاضا تھا، کیا خوب بہانا ہے افسانۂ غم ان کا کیا...
  16. طارق شاہ

    آتش خواجہ حیدر علی::::: چمن میں رہنے دے کون آشیاں، نہیں معلوم ::::: Khwaja Haidar Ali Aatish

    غزل خواجہ حیدر علی آتشؔ چمن میں رہنے دے کون آشیاں، نہیں معلُوم نہال کِس کو کرے باغباں، نہیں معلوم مِرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلُوم خُدا کا نام سُنا ہے، نشاں نہیں معلُوم اخیر ہوگئے غفلت میں دِن جوانی کے! بہار عمر ہُوئی کب خزاں نہیں معلُوم سُنا جو ذکرِ الٰہی، تو اُس صنم نے کہا عیاں کو جانتے...
  17. محمد تابش صدیقی

    غزل: محبت کے دریا بہا دینے والے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

    محبت کے دریا بہا دینے والے جفاؤں کے طوفاں اٹھا دینے والے محبت کی پینگیں بڑھا دینے والے عنایت کی رسمیں گھٹا دینے والے محبت کے بدلے سزا دینے والے وفاؤں کے بدلے دغا دینے والے یہ نازک دماغی، یہ ناز آفرینی بگڑ جانے والے، بنا دینے والے جگہ دینے والے مجھے اپنے دل میں نگاہوں سے اپنی گرا دینے والے...
  18. محمد تابش صدیقی

    غزل: کسی چراغ کی آنکھوں میں ڈر نہیں آئے ٭ عزمؔ شاکری

    کسی چراغ کی آنکھوں میں ڈر نہیں آئے وہ رات ہی نہ ہو جس کی سحر نہیں آئے میں کائنات کا وہ کمتر و حقیر چراغ کہ جس کی لو بھی کسی کو نظر نہیں آئے یہی ہے عشق میں جاناں خراشِ دل کا علاج اسی کی راہ تکو جو نظر نہیں آئے محبتوں کے امیں تھے صداقتوں کے سفیر وہ لوگ ایسے گئے لوٹ کر نہیں آئے دیارِ نوحہ گراں...
  19. محمد تابش صدیقی

    غزل: عزمؔ خود کو نڈھال مت کرنا ٭ عزمؔ شاکری

    عزمؔ خود کو نڈھال مت کرنا ٹوٹ کر بھی ملال مت کرنا ایک جھوٹی نظیر بن جاؤ کوئی ایسا کمال مت کرنا خار بن کر جو دل میں چبھتے ہوں ایسے رشتے بحال مت کرنا عشق کرنا ہے تو کرو لیکن اپنا جینا محال مت کرنا جس کے بنتے ہو اس کے بن جاؤ تم ہمارا خیال مت کرنا ٭٭٭ عزمؔ شاکری
  20. محمد تابش صدیقی

    غزل: گھر رہ کر یہ جانا ہے ٭ عزمؔ شاکری

    گھر رہ کر یہ جانا ہے گھر بھی مسافر خانہ ہے توبہ ٹوٹ بھی سکتی ہے رستے میں میخانہ ہے غم سے پیار کرو لوگو غم انمول خزانہ ہے کل کا وعدہ مت کیجے کل تک تو مر جانا ہے بھیس بدل کر پی لو یار دنیا پاگل خانہ ہے ٭٭٭ عزمؔ شاکری
Top