غزل: میں چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی ٹھکانہ ملے

عاطف ملک نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 5, 2020

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,213
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    چند تُک بندیاں اساتذہ اور محفلین کی خدمت میں پیش ہیں۔

    میں چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی ٹھکانہ ملے
    کسی کو ڈھونڈنے پر بھی مرا پتا نہ ملے

    تلاش اب کے ہے ایسے جہان کی کہ جہاں
    بس ایک تُو ہو، مجھے کوئی دوسرا نہ ملے

    خوشی تو خیر ہماری تجھی سے تھی منسوب
    ہمیں تو غم بھی ترے غم کے ماسوا نہ ملے

    تمہارے شہر میں سب کا مزاج تم سا ہے
    کوئی بھی شخص وہاں درد آشنا نہ ملے

    سیاہ بخت ہوں ایسا کہ برق و باراں کو
    اجاڑنے کیلیے میرا آشیانہ ملے

    ہے دل لگی میں بھی اتنا دھیان تو لازم
    کسی کا دل نہ دُکھے، کوئی بد دعا نہ ملے

    خیال آپ کا جائے نہ میرے دل سے کبھی
    مری دعا ہے مجھے کوئی آپ سا نہ ملے

    کسی کو چاہو تو اتنے خلوص سے عاطفؔ
    کہ تم سے بڑھ کے اسے کوئی باوفا نہ ملے


    عاطفؔ ملک
    جولائی ۲۰۲۰​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 6
  2. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    18,712
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    واہ بھیا ،
    کیا کمال کی غزل کہی ،
    مزہ آگیا ،شاندار لاجواب
    اس شعر پر ہم نے دل سے آمین کہا۔
     
    • متفق متفق × 1
  3. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    912
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    واہ بھئی، لگتا ہے لاک ڈاؤن نے آپ کے تخیل کی خوب تیل پالش کی ہے :) ایک کے بعد ایک عمدہ غزل عطا کئے جا رہے ہیں۔۔۔ سبحان اللہ!
     
  4. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    واہ واہ! بہت خوب عاطف بھائی ! بہت اچھی غزل ہے ۔ آپ کے خاص رنگ ڈھنگ کے مضامین ہیں ۔ کئی اشعار پسند آئے ۔

    خوشی تو خیر ہماری تجھی سے تھی منسوب
    ہمیں تو غم بھی ترے غم کے ماسوا نہ ملے

    کیا اچھا کہا ہے! بہت خوب!

    مطلع کا خیال بہت اچھا ہے لیکن دوسرے مصرع میں جو تعقید ہے وہ کچھ گراں گزر رہی ہے ۔ اصولاً تو لفظی ترتیب یوں ہونی چاہئے کہ: ڈھونڈنے پر بھی کسی کو مرا پتہ نہ ملے ۔ "کسی کو" کے بعد اگر سکتہ (،) لگادیں توشاید کچھ بات بن جائے ۔

    سیاہ بخت ہوں ایسا کہ برق و باراں کو
    اجاڑنے کیلیے میرا آشیانہ ملے

    اس شعر میں "میرا ہی آشیانہ ملے" کا محل ہے ۔ "ہی" کے بغیر مضمون ادا نہیں ہورہا ۔ اسے ذرا دیکھ لیجئے ۔

    ایک دفعہ پھر بہت سی داد!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,213
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت شکریہ عدنان بھیا
    :)
    ہاہاہا۔۔۔۔۔۔عید کی تعطیلات کا فیض ہے یہ:D
    بہت شکریہ محترمی:)
    جی یہ یونہی ہے،تعقید کی طرف دھیان نہیں گیا تھا۔

    بالکل،اس بات کا احساس تھا لیکن اس سے بہتر صورت کوئی بن نہیں پائی۔اس پہ غور کرتا ہوں۔اتنی توجہ اور تفصیلی تبصرے کیلیے بہت شکریہ۔اللہ آپ کو بہترین صحت اور عافیت میں رکھے۔آمین
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  6. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    عاطف بھائی ، پہلے مصرع میں سیاہ بختی اور برق و باراں کا ذکر کرنے کے بعد دوسرے مصرع میں اجڑنے کی بات کرنا ضروری نہیں ہے ۔ اس سیاق و سباق میں اجڑنے کے معنی خودبخود پیدا ہورہے ہیں ۔ ایک تجویز یہ ہے:
    سیاہ بخت ہوں ایسا کہ برق و باراں کو
    بھری بہار میں میرا ہی آشیانہ ملے

    دعاؤں کے لئے بہت شکریہ ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ۔
     
  7. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    319
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
  8. صابرہ امین

    صابرہ امین لائبریرین

    مراسلے:
    842
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت خوبصورت اشعار ۔ ۔ بہت سی داد قبول کیجیئے۔ ۔ ۔:)
     
  9. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,114
    بہترین
    بہت خوبصورت اشعار
     
  10. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,213
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہترین تجویز ہے۔اس سے بہتر متبادل شاید ہی ہو سکے۔بہت بہت شکریہ:)
    لیکن مجھے ابھی بھی لگ رہا ہے کہ اجاڑنے کا ذکر کیے بغیر شاید کچھ لوگوں پہ مفہوم نہ کھل سکے(n)
    وایاک:)
    شکریہ شکیل صاحب:)
    بہت شکریہ:)
    محبت ہے آپ کی فاخر بھیا:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر