تازہ غزل برائے اصلاح

محمد فخر سعید نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 9, 2020

  1. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جو تیری بات سنیں ان سے نبھا کیوں نہیں کرتے؟
    جو تجھے چاہتے ہیں ان سے وفا کیوں نہیں کرتے؟

    ہر کسی سے ہے تمہیں ذوق شناسائی مگر سن
    تم کسی ایک ہی چہرے پہ ڈٹا کیوں نہیں کرتے؟

    یہ تمہاری ہے ادا یا کہ جلانا ہمیں مقصود
    تم رقیبوں سے مری جان بچا کیوں نہیں کرتے؟

    ہجر کے دور کی تلخی ہے، بُجھے رہتے ہیں
    تم مرے حق میں مری جان دعا کیوں نہیں کرتے؟

    بارشیں، دھوپ اور شبنم تیرا ہی عکس رکھتے ہیں
    تم اپنی یاد کے پنجرے سے رہا کیوں نہیں کرتے؟

    فخر تم ان کی بے رخی کا گلہ کیوں نہیں کرتے؟
    وصل کے دور میں وہ ہم سے ملا کیوں نہیں کرتے؟
     
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    2,186
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    تقریباً تمام ہی اشعار میں وزن کا مسئلہ ہے۔
    مطلع میں قوافی درست نہیں۔ نبھا کرنا نہیں، نباہ کر کرنا درست املا ہے، اور میرے خیال میں یہاں ہ ساقط نہیں ہوسکتی ۔
    نباہنا کا ایک تلفظ نبھانا تو معروف ہے ۔۔۔ لیکن نبھا کرنا کبھی نظر سے نہیں گزرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ، کرو گے کیسے نباہ ہم سے؟
    ذرا ملاو نگاہ ہم سے ، ہمارے پہلو میں آ کے بیٹھو
    ابن انشاء
     
  4. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    2,186
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    یہ بھی بتا دیجیے کہ انشاءؔ جی کا شعر پیش کرنے سے مقصود کیا ہے؟؟؟
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ درست استعمال ہے نباہ کا، نباہ کرنا درست محاورہ ہے۔ یا تو نباہ کرنا کہا جائے یا 'نبھانا'
     
  6. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جو تیری بات سنیں ان سے نباہ کیوں نہیں کرتے؟
    جو تجھے چاہتے ہیں ان سے وفا کیوں نہیں کرتے؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,352
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    السلام علیکم،
    فخر صاحب،
    راحل بھائی کی اس بات سے متفق ہوں کہ تقریباً تمام اشعار میں ہی وزن کا مسئلہ ہے یعنی مصرع بحر سے خارج ہے۔اس کے علاوہ مطلع میں ہمارے ناقص فہم کے مطابق شتر گربہ ہے یعنی ایک ہی مخاطب کیلیے "تیرے" اور "کَرتے" کا استعمال کیا گیا ہے۔یا تو اول الذکر کو تمہارا کریں یا پھر مؤخرالذکر میں "کرتا" لگایا جائے جو یقیناً ردیف کو تبدیل کر دے گا۔
    یہ سقم دور کر کے اشعار کو کسی ایک بحر میں لائیے اور دوبارہ پوسٹ کیجیے۔والسلام
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 7, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    موضوع اس وقت صرف نباہ اور نبھا کے استعمال کا تھا جس پر میں نے رائے دی تھی، ابن انشاء کا شعر سند کے لیے جو فخر سعید نے پیش کیا تھا۔ اس سے شایف فخر میاں نے یہ سمجھ لیا کہ باقی پوری غزل درست ہے، صرف نبھا کرنے کی غلطی ہے جسے نباہ کرنا سے تبدیل کر کے پھر پوسٹ کیا ہے( پوسٹ کرنے کی وجہ بھی لکھ دیا کریں، اگر واقعی اصلاح کے متمنی ہیں تو چاہئے کہ ہر بار اپنی بات واضح کر کے لکھیں، ابن انشاء کا شعر کیوں پوسٹ کیا یا مذکورہ شعر( اگر اسے شعر کہا جا سکتا ہے تو... ) کیوں، یہ محض گمان کءا ہے میں نے کہ ابن انشاء کو سند کے لئے اور اقتباس شدہ سطور اپنے 'شعر' کی 'تصحیح شدہ' صورت کو مزید اصلاح کے لئے پوست کیا ہے۔ واللہ اعلم ہم نے درست سمجھا یا نہیں۔ بہر حال اگر یہ اصلاح کے لئے ہے تو یہ مطلع نہیں ہو سکتا کہ نباہ اور وفا قافیہ نہیں ہو سکتے۔
    اور بنیادی بات تو وہی ہے کہ شعر کو کسی بحر میں ہونا ضروری ہے، نثری نظم تو کہی جا سکتی ہے لیکن نثری غزل، الحمد للہ، آج تک نہیں کہی گئی اور نہ قبول کی گئی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جو تیری بات سنے اس سے وفا کیوں نہیں کرتا؟
    جو تیری راہ تکے اس سے مِلا کیوں نہیں کرتا؟

    ہر کسی سے ہے تجھے پیار کی امید مگر یار
    تو کسی ایک ہی چہرے پہ ڈٹا کیوں نہیں کرتا؟

    تجھے معلوم ہے نا اصل میں دنیا یہ کیسی ہے؟
    تو رقیبوں سے مری جان بچا کیوں نہیں کرتا؟

    ہجر کے دور کی تلخی ہے، بُجھا رہتا ہوں
    تو مرے حق میں مرے یار دعا کیوں نہیں کرتا؟

    بارشیں، دھوپ اور شبنم تیرا ہی عکس رکھتے ہیں
    تو اپنی یاد کے پنجرے سے رہا کیوں نہیں کرتا؟

    فخر تم اس کی بے رخی کا گلہ کیوں نہیں کرتے؟
    وصل کے دور میں وہ ہم سے ملا کیوں نہیں کرتا؟
     
  10. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    اب دوبارہ پڑھ کر اصلاح کریں استادِ محترم! شکریہ :)
     
  11. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    وعلیکم السلام!
    جناب کچھ مصروفیات کی وجہ سے جواب نہیں دے پاتا، ہاں پڑھ ضرور لیتا ہوں۔ آپ کے جواب کا بے حد شکریہ۔ کچھ تبدیلیاں کی ہیں غزل میں، آپ بھی دیکھ لیں اور مزید اس میں اصلاح کر کے بتاءیں۔ امید ہے آپ مستقبل میں بھی میری اصلاح کرتے رہیں گے۔ ابھی میرا علم بہت کم ہے۔
    دعا گو ہیں آپ کے لیے والسلام۔
     
  12. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آپ سمجھ تو گیے ہوں گے میرا علم بہت کم ہے، تبھی یہاں رجوع کیا تاکہ علم بھی حاصل ہو اور اپنی کی ہوءی غلطیوں سے آگاہی ملے، دوبارہ کچھ تبدیلیاں کی ہیں، آپ دیکھ کر بتاءیں مزید اصلاح کے پہلو۔ جزاک اللہ
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بھائی مستعمل بحور میں شاعری کریں، اپنی بحریں اختراع نہ کریں
    اس کی نزدیک ترین بحر ہو گی
    فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فعلن
    مثال
    مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
    تمہاری غزل کی ردیف اگر کرتا کی جگہ صرف کر ہوتی تو زیادہ تر مصرعے درست بحر میں ہوتے۔
    اب بھی میرا مشورہ ہے کہ اس کو اس بحر کے مطابق ڈھال کر پھر کہو
    جیسے
    جو تیری بات سنے اس سے وفا کیوں نہ کرے
    فی الحال بس یہ مصرع درست ہے
    ہجر کے دور کی تلخی ہے، بُجھا رہتا ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جو تیری بات سنے اس سے وفا کیوں نہ کرے
    جو تیری راہ تکے اس سے مِلا کیوں نہ کرے

    پیار اب تجھ کو تو ہر ایک سے ملنے سے رہا
    تو کسی ایک ہی چہرے پہ ڈٹا کیوں نہ کرے

    میں بتاتا ہوں مگر تو ہے کہ سمجھے ہی نہیں
    تو رقیبوں سے مری جان بچا کیوں نہ کرے

    ہجر کے دور کی تلخی ہے، بُجھا رہتا ہوں
    تو مرے حق میں مرے یار دعا کیوں نہ کرے

    مرے صیاد تجھے ہاتھ جوڑے کہتا ہوں
    تو مجھے یاد کے پنجرے سے رہا کیوں نہ کرے

    فخر تم اس کی بے رخی کا گلہ کیوں نہ کرے
    وصل کے دور میں وہ مجھ سے ملا کیوں نہ کرے

    مزید اصلاح کریں استادِ محترم!
     
  15. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,352
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    السلام علیکم فرخ صاحب،
    آپ خود بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ عروض کے متعلق آپ کا علم زیادہ نہیں ہے۔اس لیے ہمارا مشورہ ہے کہ عروض پڑھیے۔کیونکہ عروض کا بنیادی علم ہونا شعر کہنے کے لیے ضروری ہے۔
    فی الوقت میں صرف اشعار کے وزن کے متعلق(اپنی فہم کے مطابق)گفتگو کروں گا اور کوشش کروں گا کہ کسی اور بات کا ذکر نہ ہو۔

    درست
    مصرع اور میں پیار کی ی کا اسقاط ہو رہا ہے جو ناگوار محسوس ہوتا ہے
    سمجھے ہی نہیں شاید درست محاورہ نہیں ہے یا مستعمل نہیں ہے۔البتہ دونوں مصرع بحر کے حساب سے درست ہیں
    درست
    یہ بھی درست لگ رہا ہے مجھے
    یہاں آپ مقطع کی بجائے ایک اور مطلع لے آئے ہیں۔یا تو اس کو حسنِ مطلع کیجیے یا پھر پہلے مصرع کو تبدیل کیجیے۔
    اس کے علاوہ یہاں شتر گربہ ہے۔اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ فخر تم اس کی بے رخی کا گلہ کیوں نہ کرو،کیا کہتے ہیں؟
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فخر میاں اپنے اشعار کے علاوہ بھی کچھ دوسروں کی باتوں کا جواب دیا کریں،
    میں نے بحر کے مطابق کیوں نہ کرے کا مشورہ دیا تھا، اس مجوزہ مصرعے میں ضمیر حاضر غائب واحد، یعنی تھرڈ پرسن سنگولر ہے۔ اسی غزل کی ردیف بدلنے سے تو مطلب خبط ہو رہا ہے کہ زیادہ تر سیکنڈ پرسن، تم، کے بارے میں اسے استعمال کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے مفہوم کے اعتبار سے سارے اشعار ہی غلط اب بھی ہیں ۔
    عروضی اغلاط بتا دیتا ہوں
    جو تیری بات سنے اس سے وفا کیوں نہ کرے
    جو تیری راہ تکے اس سے مِلا کیوں نہ کرے
    .. 'تری' وزن میں آتا ہے، مکمل تیری نہیں دونوں مصرعوں میں

    پیار اب تجھ کو تو ہر ایک سے ملنے سے رہا
    تو کسی ایک ہی چہرے پہ ڈٹا کیوں نہ کرے
    .. وزن درست ہے، عاطف سے سہو ہوا ہے، لیکن ڈٹا قافیہ ناگوار ہے

    میں بتاتا ہوں مگر تو ہے کہ سمجھے ہی نہیں
    تو رقیبوں سے مری جان بچا کیوں نہ کرے
    .. وزن درست ہے

    ہجر کے دور کی تلخی ہے، بُجھا رہتا ہوں
    تو مرے حق میں مرے یار دعا کیوں نہ کرے
    .. درست ہے وزن، تلخی سے چراغ بجھ جاتا ہے، یہ بڑا عجیب ہے!

    مرے صیاد تجھے ہاتھ جوڑے کہتا ہوں
    تو مجھے یاد کے پنجرے سے رہا کیوں نہ کرے
    .... ہاتھ جُڑے بحر میں آتا ہے، جوڑے نہیں

    فخر تم اس کی بے رخی کا گلہ کیوں نہ کرے
    وصل کے دور میں وہ مجھ سے ملا کیوں نہ کرے
    .. پہلا مصرع بحر سے خارج، اس کو مطلع بنانے کی کوشش اب بھی کر رہے ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    وعلیکم السلام!
    جی میں اعتراف کر چکا ہوں۔ انشاءاللہ میں عروض کا مطالعہ ضرور کرونگا۔ وزن کے بارے آپ کی راءے دینا بہت اچھا لگا ہمیں۔ اللہ آپ کے علم اور رتبے میں اضافہ کریں۔
    مقطع کے بارے میں آپ کی راءے اچھی ہے۔
    فخر تم اس سے بے رخی کا گلہ کیوں نہ کرو
    وصل کے دور میں وہ ہم سے ملا کیوں نہ کرے
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 10, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جی محترم! ابھی جواب دیتے۔
    ہاں آپ کے مشورے سے اشعار کو بحر میں لانے کی کوشش میں یہ ہو گیا۔ میں ایک بار پھر کوشش کرتا ہوں۔ عروضی غلطیوں کو نکالا جاءے تو یوں ہو جاتے نا اشعار۔۔۔
    جو تری بات سنے اس سے وفا کیوں نہ کرے
    جو تری راہ تکے اس سے مِلا کیوں نہ کرے

    پیار اب اس کو تو ہر ایک سے ملنے سے رہا
    پھر بھی وہ ایک ہی چہرے سے وفا کیوں نہ کرے

    میں بتاتا ہوں مگر وہ ہے کہ سمجھے ہی نہیں
    جان کے سب وہ رقیبوں سے بچا کیوں نہ کرے

    ہجر کے دور کی تلخی ہے، بُجھا رہتا ہوں
    وہ مرے حق میں فخر اب بھی دعا کیوں نہ کرے

    مرے صیاد کو میں ہاتھ جڑے کہتا ہوں
    وہ مجھے یاد کے پنجرے سے رہا کیوں نہ کرے

    فخر تم اس کی بے رخی کا گلہ کیوں نہ کرو
    وصل کے دور میں وہ مجھ سے ملا کیوں نہ کرے

    محترم! ایک بار پھر آپ کی نظر سے گزار رہے، بتاءیں مزید
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں تو زیادہ تر اشعار کے مفہوم سمجھنے سے قاصر ہوں
    فخر میں خ ہر جزم ہے جیسا کہ مقطع میں درست برتا گیا ہے مگر یہاں فَخَر، خ پر زبر ہو گیا ہے
    وہ مرے حق میں فخر اب بھی دعا کیوں نہ کرے
    ہاتھ جڑے میں نے صرف املا کے حساب سے لکھا تھا کہ تقطیع میں جڑے آتا ہے، جوڑے نہیں، لیکن اگر ایسا ہی بدل دیا جائے تو مفہوم کچھ نہیں ہوتا!
     
  20. محمد عبدالرؤوف

    محمد عبدالرؤوف لائبریرین

    مراسلے:
    3,048
    فخر سعید بھائی کے مضمون میں کہیں کہیں معمولی سی تبدیلی کے بعد

    ہر بات پہ اے دوست خفا یوں نہ ہوا کر
    جو بات سنیں تیری، تو ان کی بھی سنا کر

    اک بار جو بھٹکا، گیا ایقان سے بھی وہ
    الفت میں بھی توحید سے غافل نہ رہا کر

    ہر آستیں میں سانپ ہے ہونٹوں پہ شہد ہے
    لوگوں سے مری جان تو بچ بچ کے چلا کر
    "مقطع"
    میں ہجر کے اس روگ سے مرتا ہوں نہ جیتا
    اب فخر دوا جو نہ سہی کچھ تو دعا کر
    اک عمر گذاری ہے اسی قید میں میں نے
    اب یاد کی اس قید سے تو مجھ کو رہا کر
    جو موسمِ گل میں بھی رہے دور یوں اے دل
    اس کج ادا کی بے رخی کا کچھ تو گلا کر
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 12, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر