ایک کاوش: دل مرا اس سے اٹھ گیا ہوتا

عاطف ملک نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 9, 2020

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,213
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    ویسے تو آج کل مصروفیت کے باعث شعر کہنا کارِ دشوار ہے لیکن بقول مظفرؔ وارثی "کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن"،سو تقریباً زبردستی کی ایک کاوش پیش ہے۔احباب کی رائے کا منتظر۔

    دل مرا اس سے اٹھ گیا ہوتا
    کاش وہ شخص بے وفا ہوتا

    لمحہ لمحہ خیال آتا ہے
    یوں نہ ہوتا اگر تو کیا ہوتا

    اس کے غم سے گزر رہا ہوں ابھی
    ورنہ شاید گزر چکا ہوتا

    عشق بے موت مار دیتا ہے
    کاش پہلے سے جانتا ہوتا

    تُو بھی ہو جاتا خود پہ وارفتہ
    میں اگر آئنہ ترا ہوتا

    کچھ نہیں چاہیے مجھے عاطفؔ
    ہاں مگر کاش وہ مِرا ہوتا

    عاطفؔ ملک
    جولائی ۲۰۲۰
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    912
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    کیا کہنے! اگر زبردستی بھی کہا ہے تو خوب کہا ہے :)
    کسی زمانے میں کراچی میں ساکنان شہر قائد کے زیر اہتمام عالمی مشاعرہ ہوا کرتا تھا (شاید اب بھی ہوتا ہو). اسٹیج پر ایک بزرگ کو (جو لال رنگ کی ترکی ٹوپی قسم کی کوئی تو ٹوپی پہنے ہوتے تھے نام ان کا یاد نہیں) محض اس لیے بٹھایا جاتا تھا کہ وہ بڑھ بڑھ کر "واہ واہ، کیا کہنے" کے نعرے لگاتے رہیں.
    آپ شعر پڑھ ہم نے زیر لب اسی جوش و جذبے سے "کیا کہنے" کہا :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,213
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    :redheart:
    شکریہ ادا کرنے کیلیے الفاظ نہیں ہیں مرے پاس
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر