اصلاح طلب غزل ۔۔۔

محمد فخر سعید نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 9, 2020

  1. محمد فخر سعید

    محمد فخر سعید محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ہجر میں ہم نے صنم جتنے زخم جھیلے ہیں
    پوچھیے مت! سبھی یہ آپ کے وسیلے ہیں

    کبھی چاہو، تو آ جانا! ہمارے پاس کہ اب بھی
    تمہارے بن، قسم تیری! بہت زیادہ اکیلے ہیں

    بھلے ہی عشق سننے میں بہت بے کار لگتا ہے
    سبھی گلشن کے رنگ و ڈھنگ اسی سے ہی سجیلے ہیں

    ہمیں تو یاد ہے اب بھی تمہارا روٹھ کر کہنا
    چلے جاؤ کہ تم بن سب یہاں پر بہت اچھے ہیں

    ہے دہرا پن نفس ہر میں، خلوص اب کون رکھتا ہے
    محبت منہ تلک ہوتی ہے دل میں سب کے کینے ہیں

    بلانا ہم کو ساقی جب تو لہجہ سخت رکھنا کہ
    ترے غصے بھرے سب لفظ بے حد ہی رسیلے ہیں

    انہی کو یاد کرتا ہے، فخرؔ اور کر کیا سکتا ہے؟
    ابھی اک عمر باقی ہے اور یوں ہی زہر پینے ہیں
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,251
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    زیادہ تر اشعار مفاعیلن چار بار کے افاعیل پر ہیں اس لئے اسی کو بحر مان کر چلتے ہیں۔
    تلفظ کی اغلاط زیادہ ہیں غزل میں،
    کہ اور نہ کو یک حرفی باندھا جاتا ہے، کے اور نا کے طور پر نہیں
    زیادہ کی ی نہیں گرائی جاتی کہ اسے زادہ کی طرح باندھیں، اسے لبادہ کے وزن پر باندھا جاتا ہے
    بہت میں ہ ساکن ہے
    فخر میں خ ساکن ہے
    ہر نفس میں کی بجائے نفس ہر میں درست نہیں
    وغیرہ
    ان کو سدھار لیں پھر دیکھتا ہوں
     
    آخری تدوین: ‏اگست 13, 2020
  3. محمد عبدالرؤوف

    محمد عبدالرؤوف لائبریرین

    مراسلے:
    3,048
    محترم محمد فخر سعید صاحب آپ سب سے پہلے محترم اسامہ سرسری کی کتاب آؤ شاعری سیکھیں کا مطالعہ کر لیں اور پھر قافیہ بندی کے لیے ہم نئے سیکھنے والوں کے لیے کچھ دوستوں نے ایک موبائل ایپلیکیشن قافیہ ایکسپرٹ بنائی ہے اس میں سے کچھ قافیے چھانٹ لیں پھر جب کچھ شعر ہو جائیں تو عروض پر جا کر اسے کسی مناسب بحر میں لے آئیں پھر اساتذہ کی خدمت میں پیش کریں ورنہ میرے بھائی اساتذہ مصروفیت کی وجہ اپ کی زیادہ رہنمائی سے قاصر رہیں گے
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر