غزل: روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں : اقبال عظیم

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 24, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں
    میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں

    پرسشِ حال کی فرصت تمھیں ممکن ہے نہ ہو
    پرسشِ حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں

    یوں سرِ راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر
    تم نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے پکارا بھی نہیں

    عرضِ احوال کی عادت بھی نہیں ہے ہم کو
    اور حالات کا شاید یہ تقاضا بھی نہیں

    بے نیازانہ گزر جائے گزرنے والا
    میرے پندار کو اب شوقِ تماشا بھی نہیں

    ہاتھ پھیلاؤں میں عیسیٰ نفسوں کے آگے
    درد پہلو میں مرے ہے مگر اتنا بھی نہیں

    اک شکن ماتھے پہ دیکھی تھی تمھارے ہم نے
    پھر کبھی آنکھ اٹھا کر تمھیں دیکھا بھی نہیں

    آخری بار ہنسی آئی تھی کب، یاد نہیں
    اور پھر آئے ہنسی اس کی تمنا بھی نہیں

    میرے حالات نہ بدلے تو نہ بدلیں اقبالؔ
    مجھ کو حالات پہ کچھ ایسا بھروسہ بھی نہیں

    ٭٭٭
    اقبالؔ عظیم
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,982
    مرحوم اقبال عظیم نابینا شاعر تھے اور یہ تصور کر کے مطلع پڑھا جائے تو آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ رب تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • غمناک غمناک × 1

اس صفحے کی تشہیر