غزل: ہو روئے حسیں کا جو پرستار کہاں جائے ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 4, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہو روئے حسیں کا جو پرستار کہاں جائے
    اٹھ کر تری محفل سے اے یار کہاں جائے

    تسکین دلِ زار کا سرمایہ تو ہے تو!
    اب لے کے کوئی اپنا دلِ زار کہاں جائے

    زاہد کے لیے باز ہے در بزمِ ہوس کا
    لیکن یہ محبت کا گنہ گار کہاں جائے

    جو دید کا مشتاق ہو پہنچے وہ سرِ بزم
    ہو جس کو محبت تری درکار کہاں جائے

    سنتا ہوں کہ بیمار ہے وہ رشکِ مسیحا
    اب کہیے کہ جو اس کا ہو بیمار کہاں جائے

    ہے کشتۂ انکار کا تو موت مداوا
    لیکن یہ ترا کشتۂ اقرار کہاں جائے

    گلچیں نے کیا گلشنِ سرسبز کو تاراج!
    اب ہو کے رِہا مرغِ گرفتار کہاں جائے

    ٭٭٭
    ملک نصر اللہ خان عزیزؔ
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,321
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    کیا لاجواب غزل ہے۔ اعلی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر