نیلم

محفلین
ایک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جل گیا پھر دامن دل کو بچائے کیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
نگار منهنجو چمن ۾ جي بي نقاب ٿئي
ته ڇو نه رشک جي آتش سبب گل آب ٿئي
(غلام محمد شاه 'گدا')
میرا نگار چمن میں جو بے نقاب ہو جائے؛ تو کیوں نہ رشک کی آگ کے سبب گل آب ہو جائے؟
 
جب ستارے ہی نہیں مل پائے
لے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے
رائے پہلے سے بنا لی تو نے
دل میں اب ہم تیرے گھر کیا کرتے
پروین شاکر
 

شیزان

لائبریرین
جچتا نہیں ہے کوئی نِگاہوں میں آج کل
بےعکس ہے یہ دیدہء بینا ترے بغیر

کِن کِن بلندیوں کی تمنا تھی عشق میں
طے ہو سکا نہ ایک بھی زِینہ ترے بغیر

تُو آشنائے شدتِ غم ہو تو کچھ کہوں
کِتنا بڑا عذاب ہے جینا ترے بغیر

ساحل پہ کتنے دیدہ و دل فرشِ راہ تھے
اُترا نہ پار دل کا سفینہ ترے بغیر

باقی کسی بھی چیز کا دل پر اثر نہیں
پتھر کا ہو گیا ہے یہ سینہ ترے بغیر​
 

سید عاطف علی

لائبریرین
نگار منهنجو چمن ۾ جي بي نقاب ٿئي
ته ڇو نه رشک جي آتش سبب گل آب ٿئي
(غلام محمد شاه 'گدا')
میرا نگار چمن میں جو بے نقاب ہو جائے؛ تو کیوں نہ رشک کی آگ کے سبب گل آب ہو جائے؟
بہت خوب۔۔۔پہلی بار کوئی سندھی زبان کا شعر یہاں دیکھا ہے۔۔۔۔۔ :) ۔۔۔۔بہت پسند آیا
 

سید عاطف علی

لائبریرین
وہ کھیلا تھا اس کمال سے عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک
محسن بھائی ۔بہت اچھا شعر ہے۔ لیکن پہلے مصرع کا وزن کلمات کی ترتیب کی وجہ سے ذرا ڈگمگا رہا ہے۔صحیح اس طرح ہوگا۔
وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
 
محسن بھائی ۔بہت اچھا شعر ہے۔ لیکن پہلے مصرع کا وزن کلمات کی ترتیب کی وجہ سے ذرا ڈگمگا رہا ہے۔صحیح اس طرح ہوگا۔
وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
ضرور ایسا ہی ہو گا عاطف بھائی(y)
میں نے تو کہیں نیٹ سے پڑھا تھا:unsure:
 
Top