آج کا شعر - 5

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 26, 2011

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    عیدِ آئندہ تک رہے گا گلِا
    ہو چکی عید تو گلے نہ مِلا
    (میر محمد تقی میر)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 3
    • متفق متفق × 1
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    میرے سنگِ مزار پر فرہاد
    رکھ کے تیشہ کہے ہے یا اُستاد
    (میر محمد تقی میر)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    مرے آگو نہ شاعر نام پاویں
    قیامت کو مگر عرصہ میں آویں
    (میر محمد تقی میر)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    عاشق ہے یا مریض ہے پوچھو تو میر سے
    پاتا ہوں زرد روزبروز اس جوان کو میں
    (میر محمد تقی میر)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  5. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    کیا میر تجھ کو نامہ سیاہی کی فکر ہے
    ختمِ رُسُل سا شخص ہے، ضامن نجات کا
    (میر تقی میر)
     
    • زبردست زبردست × 7
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
    (شاعر: مجھے معلوم نہیں)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
  7. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    وہ کون تھا جو گیا ہے اداس کرکے مجھے
    وہ کون ہے جو مجھ میں اداس رہتا ہے
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  8. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    تم سے نہیں ہے کوئی شکایت، مگر یہ بات
    تم نے بڑھا دیئے ہیں خیالوں کے سلسلے
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  9. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    ہم وہ برباد حقائق ہیں کہ جینے کے لیئے
    خواب کو خواب کی تعبیر سمجھ لیتے ہیں
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 2
  10. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    ساتھ کچھ دور چلا دولت دنیا کی طرح
    پھر مجھے چھوڑ گیا نقشِ کفا پا کی طرح
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  11. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    گزرتے وقت کی ہر چاپ سے میں ڈرتا ہوں
    نہ جانے کون سا لمحہ اُداس کر جائے
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  12. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    اسی لیئے نہ کیا تلخیء جہاں کا گلہ
    ترا خیال پسِ پردہ مُسکراتا تھا
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 1
  13. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    ہزار بار خود اپنے مکاں پہ دستک دی
    اس احتمال میں جیسے کہ میں ہی اندر تھا
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  14. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    ہم نے چاہا تھا کہ دنیا سے کنارہ کر لیں
    ہم نے دیکھا تو ہمیں رونقِ دُنیا نکلے
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 2
  15. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    کمالِ بے ہنری بھی ہنر سے کم تو نہیں
    مرا شمار کہیں ہو مجھے یہ غم تو نہیں
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  16. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    جو پاسکا نہ تجھے میں تو کھو دیا خود کو
    یہ میرا عجز ہنر بھی مرا کمال بھی ہے
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    گزر گئے ہیں جو دن ان کو یاد کرنا کیا
    یہ زندگی کے لیئے روز روز مرنا کیا
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  18. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    مری نظر میں گئے موسموں کے رنگ بھی ہیں
    جو آنے والے ہیں ان موسموں سے ڈرنا کیا
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  19. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    گزر رہی ہے، غنیمت ہے زندگی، مانا
    مگر یہ ایک ہی انداز میں گزرنا کیا
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
  20. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    غم ہی لے دے کے مری دولتِ بیدار نہیں
    یہ خوشی بھی ہے میسر، کوئی غم خوار نہیں
    (مشفق خواجہ - عبدالحئی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر