احسان دانش

  1. سیما علی

    معروف شاعر ”#احسان_دانشؔ صاحب“ کا یومِ وفات....22۔3۔2022

    - 22؍مارچ 1982 بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائیوں کے مقبول ترین شاعروں میں شامل، فیض احمد فیضؔ کے ہم عصر اور معروف شاعر ”#احسان_دانشؔ صاحب“ کا یومِ وفات.... نام #احسان_الحق*٪، تخلص #احسانؔ اور #دانشؔ تھا۔ 15؍فروری 1914ء میں کاندھلہ ، ضلع مظفر نگر میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن قصبہ باغپت...
  2. سیما علی

    احسان دانش یہ بجا کہ حسن ہی حسن ہے مرے گرد و پیش مگر نہیں

    یہ بجا کہ حسن ہی حسن ہے مرے گرد و پیش مگر نہیں تری آرزو کی حُدود میں کسی آرزو کا گزر نہیں وہ کلیم تھے! جو بہل گئے تری برق زیرِ نقاب سے جو تجلیوں سے ہو مطمئن وہ مرا مزاجِ نظر نہیں یہ خیالِ خام نہ کر کبھی کہ غلامِ وقت ہے آدمی تری زندگی کی بلندیاں یہ نظامِ شمس و قمر نہیں یہ بجا کہ دِیر و حرم میں...
  3. سیما علی

    احسان دانش دیکھوں، دیکھوں، کیا عجوبہ ہے، ذرا دینا اِدھر

    دیکھوں، دیکھوں، کیا عجوبہ ہے، ذرا دینا اِدھر قائدِ اعظمؒ کی ہے تصویر سو کے نوٹ پر ذہن بھٹکا ہے یہ کس کا، یہ ستم کس نے کیا؟ میری خوش طبعی میں شامل زہرِ غم کس نے کیا؟ مصلحت، کہہ کر زبانِ حال سی دی جائے گی؟ کیا اسی تصویر سے رشوت بھی لی، دی جائے گی؟ دل لرز اٹھے، نہ کیوں اِس خواب کی تعبیر سے؟ رات...
  4. سید عاطف علی

    احسان دانش غزل ۔کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا

    ایک غزل ۔احسان دانش۔ مجھے بہت پسند آئی ۔ کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا میں جس کو ڈھونڈھتا تھا مرے آئنے میں تھا جس کی نگاہ میں تھیں ستاروں کی منزلیں وہ میر کائنات اسی قافلے میں تھا رہ گیر سن رہے تھے یہ کس جشن‌ نو کا شور کل رات میرا ذکر یہ کس سلسلے میں تھا رقصاں تھے رند جیسے بھنور...
  5. منہاج علی

    پسندیدہ اشعار از غزلیاتِ احسان دانشؔ

    یہ کون ہنس کے صحنِ چمن سے گزر گیا اب تک ہیں پھول چاک گریباں کیے ہوئے زنجیر کی صدا تھی نہ مَوجِ شمیمِ زلف یہ کیا طِلسم ’ اُن کے مِرے ‘ فاصلے میں تھا خِضر مشہور ہو اِلیاس بنے پھرتے ہو کب سے ہم گُم ہیں، ہمارا تو پتہ دو ہم کو شورشِ عشق میں ہے حُسن برابر کا شریک سوچ کر جرمِ تمنّا کی سزا دو ہم کو...
  6. فرخ منظور

    احسان دانش لطف و سجود ہوچکا کیف کہاں نماز میں۔ احسان دانش

    لُطف و سجود ہوچکا کیف کہاں نماز میں ہو گئی گُم نِگاہِ شوق جلوہِ کعبہ ساز میں راہِ حرم سے بیخودی کھینچ ہی لائی سُوئے دیر لے تو چلی تھی بےدِلی دام گہہِ نیاز میں پِھر وہی قلبِ عِشق میں ذوقِ کلیم جاگ اُٹھا کوند رہی ہیں بِجلیاں چشمِ نظارہ باز میں دِل پہ برس برس پڑا ابرِ شرابِ ارغواں ہائے وہ سُرخ سے...
  7. فہد اشرف

    احسان دانش یہ بجا کہ حسن ہی حسن ہے مرے گرد و پیش

    غزل یہ بجا کہ حسن ہی حسن ہے مرے گرد و پیش مگر نہیں تری آرزو کی حُدود میں کسی آرزو کا گزر نہیں وہ کلیم تھے! جو بہل گئے تری برق زیرِ نقاب سے جو تجلیوں سے ہو مطمئن وہ مرا مزاجِ نظر نہیں یہ خیالِ خام نہ کر کبھی کہ غلامِ وقت ہے آدمی تری زندگی کی بلندیاں یہ نظامِ شمس و قمر نہیں یہ بجا کہ دِیر و...
  8. محمد تابش صدیقی

    احسان دانش غزل: نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا؟

    نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا؟ حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا؟ بزعمِ ہوش تجلی کی جستجو بے سود جنوں کی زد پہ خرد آ گئی تو کیا ہوگا؟ نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر نئی سحر بھی جو کجلا گئی تو کیا ہوگا؟ نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھ کو میں بے ادب ہوں ہنسی آ گئی تو کیا ہوگا؟ شبابِ...
  9. محمد تابش صدیقی

    احسان دانش نظم: سو کا نوٹ

    1969ء میں احسان دانش نے سو روپے کے کرنسی نوٹ پر قائد اعظمؒ کی تصویر چھاپے جانے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔ :) دیکھوں، دیکھوں، کیا عجوبہ ہے، ذرا دینا اِدھر قائدِ اعظمؒ کی ہے تصویر سو کے نوٹ پر ذہن بھٹکا ہے یہ کس کا، یہ ستم کس نے کیا؟ میری خوش طبعی میں شامل زہرِ غم کس نے...
  10. محمد تابش صدیقی

    احسان دانش جشنِ بےچارگی

    جشنِ بےچارگی ہے داغِ دل اک شام سیہ پوش کا منظر تھا ظلمتِ خاموش میں شہزادۂ خاور عالم میں مچلنے ہی کو تھے رات کے گیسو انوار کے شانوں پہ تھے ظلمات کے گیسو یہ وقت اور اک دخترِ مزدور کی رخصت واللہ قیامت تھی قیامت تھی قیامت نوشاہ کہ جو سر پہ تھا باندھے ہوئے سہرا بھرپور جوانی میں تھا اترا ہوا چہرا...
  11. فرخ منظور

    احسان دانش اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا ۔ احسان دانش

    اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا مگر خدا کی قسم ایک خواب ہے دنیا سحر پیامِ تبسم ہے ، شام اذنِ سکوت شگوفہ زار کا فانی شباب ہے دنیا لرز رہی ہے فضا میں صدائے غم پرور ترنماتِ فنا کا رباب ہے دنیا جہاں کی عشرتِ فانی پہ اعتبار نہ کر شبِ بہار کا مستانہ خواب ہے دنیا یہاں کی شام ہے اک پردۂ سیہ کاری...
  12. ملک عدنان احمد

    یکم مئی ؛ یومِ مزدور کے حوالے سے دانشور ، شاعر ، ادیب اور مزدور جناب احسان دانش کا ایک اقتباس

    ایک دن صوفی عبدالغفور صاحب کہیں سے جلے پھننکے آئے اور آتے ہی ڈارھی کو پھٹکارپھٹکار کر برسنے لگے "مزدور کو سرمایہ دار اس لیے برا بتاتا ہے کہ اس کے پاس دولت ہوتی ہے، اور مزدور ضرورت مند ہوتا ہے۔ خدا شاید ہماری طرف اس لیے متوجہ نہیں ہوتا کہ اسے اپنے دولت مند بندوں کے کاروبار سنبھالنے سے فرصت نہیں...
  13. محمد وارث

    احسان دانش عکسِ جاناں ہم، شہیدِ جلوہٴ جانانہ ہم - احسان دانش

    عکسِ جاناں ہم، شہیدِ جلوہٴ جانانہ ہم آشنا سے آشنا، بیگانہ سے بیگانہ ہم تجھ کو کیا معلوم گزری کس طرح فرقت کی رات کہہ پھرے اک اک ستارے سے ترا افسانہ ہم بند ہیں شیشوں میں لاکھوں بجلیاں پگھلی ہوئیں کب ہیں محتاجِ شرابِ مجلسِ میخانہ ہم ہے دمِ آخر، سرھانے لوریاں دیتی ہے موت سنتے سنتے کاش سو جائیں...
  14. عاطف سعد

    وفا کا عہد تھا - احسان دانش

    السلام علیکم
  15. فرحت کیانی

    احسان دانش غزل۔ سب کو ادراکِ زیاں گِر کے سنبھلنے سے ہُوا۔ احسان دانش

    سب کو ادراکِ زیاں گِر کے سنبھلنے سے ہُوا مجھ کو احساس ترے در سے نکلنے سے ہُوا کوئی زنجیر کا حلقہ نہیں دیتا جھنکار حال زنداں کا یہ اک میرے نکلنے سے ہُوا کوئی رازِ دل ِ کہسار نہ کُھلنے پایا! روز اعلان تو چشموں کے اُبلنے سے ہُوا یہ مری فکر کہ آنکھوں کی خطا کہتا ہوں گرچہ زخمی مرا سر...
  16. پ

    احسان دانش غزل- وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن - احسان دانش

    غزل وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن گیسو مرے دالان میں لہراؤ کسی دن سن سن کے حریفوں کے تراشے ہوئے الزام معیارِ حریفاں پہ نہ آ جاؤ کسی دن یارو! مجھے منظور ، تغافل بھی جفا بھی لیکن کوئی اس کو تو منا لاؤ کسی دن کیوں ہم کو سمجھتا ہے وہ دو قالب و یکجاں خوش فہم زمانے کو تو سمجھاؤ...
  17. سارہ خان

    احسان دانش اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا

    اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا مگر خدا کی قسم ایک خواب ہے دنیا سحر پیامِ تبسم ہے ، شام اذنِ سکوت شگوفہ زار کا فانی شباب ہے دنیا لرز رہی ہے فضا میں صدائے غم پرور ترنماتِ فنا کا رباب ہے دنیا جہاں کی عشرتِ فانی پہ اعتبار نہ کر شبِ بہار کا مستانہ خواب ہے دنیا یہاں کی شام ہے اک پردۂ سیہ کاری...
  18. پ

    احسان دانش نہ سیو ھونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ھم کو (احسان دانش)

    نہ سیو ھونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ھم کو مصلحت کا یہ تقاضا ھے ، بھلا دو ھم کو جرم سقراط سے ھٹ کر نہ سزا دو ھم کو زہر رکھا ھے تو یہ آب بقا دو ھم کو بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیں ھم اگر سوئے ھوئے ھیں جگا دو ھم کو ھم حقیقت ھیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب ؟ ہاں اگر حرف غلط ھیں تو...
  19. پ

    احسان دانش جبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گا (احسان دانش)

    جبیں کی دھول ، جگر کی جلن چھپائے گا شروع عشق ھے وہ فطرتاً چھپائے گا دمک رھا ھے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ تیرا پیراھن چھپائے گا ترا علاج شفاگاہ عصر نو میں نہیں خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا حصار ضبط ھے ابر رواں کی پرچھائیں ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا نظر کا فرد...
  20. پ

    احسان دانش یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا (احسان دانش)

    یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا جیسے کوئی سورج کی تپش میں گل تر تھا اٹھتی تھیں دریچوں میں ھماری بھی نگاھیں اپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزرتھا ھم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھے آنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ھوئے رخسار آنکھوں پہ کبھی میری ترا...
Top