1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

احسان دانش غزل- وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن - احسان دانش

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 27, 2010

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غزل

    وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن
    گیسو مرے دالان میں لہراؤ کسی دن

    سن سن کے حریفوں کے تراشے ہوئے الزام
    معیارِ حریفاں پہ نہ آ جاؤ کسی دن

    یارو! مجھے منظور ، تغافل بھی جفا بھی
    لیکن کوئی اس کو تو منا لاؤ کسی دن

    کیوں ہم کو سمجھتا ہے وہ دو قالب و یکجاں
    خوش فہم زمانے کو تو سمجھاؤ کسی دن

    گتھی طلب و ترک کی کھلتی ہی رہے گی
    اس عقدہء ہستی کو تو سلجھاؤ کسی دن

    کچھ سوچ کے آپس کی شکایت کو بڑھاؤ
    دنیا میں اکیلے ہی نہ رہ جاؤ کسی دن

    بیکار پڑے ہیں نگہِ شوق کے بجرے
    اس بحر میں طوفان بھی لاؤ کسی دن

    ہیں جبکہ مہ و مہرِضیا خواہ تمہیں سے
    لو میرے دئیے کی بھی تو اکساؤ کسی دن

    یہ خشک جزیرے کہیں پتھر ہی نہ بن جائیں
    آنکھیں جو عطا کی ہیں نظر آؤ کسی دن

    یہ زخمِ طلب ، کاوشِ ناخن پہ نہ آجائے
    اس گھاؤ کو مرہم سے بھی سلگاؤ کسی دن

    دانش ہی کے اشعار ہیں دانش ہی کے افکار
    ایسا نہ ہو دانش ہی کے ہو جاؤ کسی دن

    احسان دانش​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,633
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت عمدہ غزل انتخاب کی ہے پیاسا صحرا صاحب۔ بہت شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    یہ خشک جزیرے کہیں پتھر ہی نہ بن جائیں
    آنکھیں جو عطا کی ہیں نظر آؤ کسی دن

    بہت عمدہ انتخاب ہے جناب کا۔۔شکریہ بیحد ۔۔شریک محفل کرنے کے لیئے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر