صائمہ شاہ

محفلین
وہ اس کمال سے کھيلا تھا عشق کي بازي کہ
ميں خود کو فاتح سمجھتا رہا مات ہونے تک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ھونے تک
تاجدار عادل
 

محمد ساجد

محفلین
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہے لگا دو در کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
فیض احمد فیض
 

کاشفی

محفلین
ہوشیاری ہے فریبِ عاشقی کھانے کا نام
عاشقی ہے بند آنکھیں کر کے لُٹ جانے کا نام
قیس اور فرہاد نے تعظیم کا سجدہ کیا
بزمِ وحشت میں جو آیا تیرے دیوانے کا نام
سرفروشی عاشقی میں کامیابی کا ہے راز
شمع کل روتی رہی سُن سُن کے پروانے کا نام
خام کارِ عشق ہیں دلدادہء شہرت ریاض
عاشقی ہے بندہ پرور گھُٹ کے مرجانے کا نام
(ریاض خیرآبادی)
 

کاشفی

محفلین
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے اکبر
یہی وہ در ہے کہ ذلّت نہیں سوال کے بعد
(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
جُوش اُس کو کہتے ہیں کہ جو پیری میں بھی رہے
تقویٰ وہ ہے کہ جس کا اثر ہو جوان پر
(اکبر الہ آبادی)
 

زبیر مرزا

محفلین

کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ ان کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
فیض احمد فیض
 

کاشفی

محفلین
مذہب کا ہو کیونکر علم و عمل، دل ہی نہیں بھائی ایک طرف
کرکٹ کی کھلائی ایک طرف، کالج کی پڑھائی ایک طرف
کیا ذوقِ عبادت ہو اُن کو، جو مس کے لبوں کے شیدا ہیں
حلوائے بہشتی ایک طرف، ہوٹل کی مٹھائی ایک طرف
(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
کیا کہیں اوروں کو یہ ایسے ہیں وہ ایسے ہیں
سچ جو پوچھو تو ہمیں کون بہت اچھے ہیں
جانتے ہیں کہ اجل سر پہ کھڑی ہے لیکن
محو ہیں انجمنِ دہر میں خوش بیٹھے ہیں
عقل حیران ہے پروانوں کی اس حالت پر
شمع کو حس نہیں یہ جان دئے دیتے ہیں
(اکبر الہ آبادی)
 

حسن

محفلین
رموزِ عشق و محبت سے میں نہیں واقف

رہی ہے اُس کی ضرورت مجھے ہوا کی طرح

(اختر حسین شیخ)
 

کاشفی

محفلین
میں جو کہتا ہوں کہ مرتا ہوں تو فرماتے ہیں
کارِ دنیا نہ رُکے گا ترے مرجانے سے
(اکبر الہ آبادی)
 
Top