محمداحمد

  1. محمداحمد

    مہربانی ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ محمد احمدؔ

    مہربانی از : محمداحمدؔ آج میں نے پوری سترہ گیندیں بیچیں۔ ایک دو نہیں ۔ پوری سترہ۔ جب سے اسکولوں کی چھٹیاں ہوئی ہیں آٹھ دس گیندیں بیچنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ لیکن آج ہم گھومتے گھومتے ایک بڑے سے پارک تک پہنچ گئے۔ اب پتہ چلا کہ اسکول بند ہو تو بچے کہاں جاتے ہیں۔ میں اور مُنی پارک کے دروازے پر ہی...
  2. محمداحمد

    غزل ۔ سڑکوں پر اِک سیلِ بلا تھا لوگوں کا ۔ محمد احمدؔ

    -غزل- سڑکوں پر اِک سیلِ بلا تھا لوگوں کا میں تنہا تھا، اِس میں کیا تھا لوگوں کا دنیا تھی بے فیض رِفاقت کی بستی جیون کیا تھا ،اِک صحرا تھا لوگوں کا سود و زیاں کے مشکیزے پر لڑتے تھے دل کا دریا سوکھ گیا تھا لوگوں کا میں پہنچا تو میرا نام فضا میں تھا ہنستے ہنستے رنگ اُڑا تھا لوگوں کا نفرت کی...
  3. محمداحمد

    احوالِ ملاقات ۔۔۔۔ فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ۔‎ (تضمین)

    احوالِ ملاقات فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ وہ تو کچھ چُپ چُپ رہی پر اُس کے پیارے بھائی نے‎ چار چھ مکے بھی مارے، آٹھ دس لاتوں کے بعد‎ اُس نے اپنے بھائی سے پوچھا یہ حضرت کون تھے؟ "ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد" تضمین از محمد احمدؔ
  4. محمداحمد

    غزل ۔ اک عجب ہی سلسلہ تھا،میں نہ تھا ۔ محمد احمدؔ

    غزل اک عجب ہی سلسلہ تھا، میں نہ تھا مجھ میں کوئی رہ رہا تھا ، میں نہ تھا میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کُھلا آئینے کا آئینہ تھا ، میں نہ تھا میں تمھارا مسئلہ ہرگز نہ تھا یہ تمھارا مسئلہ تھا، میں نہ تھا پھر کُھلا میں دونوں کے مابین ہوں اِک ذرا سا فاصلہ تھا ، میں نہ تھا ایک زینے پر قدم جیسے...
  5. محمداحمد

    کھانے کے رسیّا بدتمیز پردیسی کا منظوم تعارف [بچپن کی ایک یاد]

    کھانے کے رسیّا بدتمیز پردیسی کا منظوم تعارف (بچپن کی ایک یاد) از محمد احمد بچپن میں جب ہماری اشعار سے کچھ مُڈ بھیڑ ہوئی تو اُن میں زیادہ تر ظریفانہ کلام ہی تھا اور چونکہ انسان ، حیوانِ ظریف واقع ہوا ہے سو ہم نے بھی خوب خوب اپنی حیوانی ظرافت سے حظ اُٹھایا۔ خیال رہے کہ ظریفانہ کلام سے آپ کا...
  6. محمداحمد

    بھتہ خور اور دوکان دار

    بھتہ خور اور دوکان دار یہ بھتہ خور نے بولا ، دوکان دار سے کل ترے علاقے کے غنڈوں کو دی ہے ہم نے مات یہ ایک بھتہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار بھتوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات از ۔ محمد احمدؔ
  7. محمداحمد

    مفت ہوئے بدنام ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ محمد احمدؔ

    مفت ہوئے بدنام محمد احمد پہلی بار جب یہ بات میڈیا پر نشر ہوئی تو میں بھی دہل کر رہ گیا کہ اب نہ جانے کیا ہوگا ۔ مجھے تو یہ بھی خوف ہو گیا تھا کہ طفیل صاحب سارا معاملہ میرے ہی سر نہ تھوپ دیں ۔ اُن سے بعید بھی نہیں تھی بعد میں شاید وہ مجھ سے اکیلے میں معافی مانگ لیتے لیکن تب تک ہونی ہو چکی ہوتی۔...
  8. محمداحمد

    غزل - نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے ۔ محمد احمدؔ

    غزل نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے تَو پھرتُو اپنے اندر جھانک پیارے طلاطم خیز ہے جو دل کا دریا سفالِ دشتِ وحشت پھانک پیارے اگر مَہتاب دل کا بجھ گیا ہے سرِ مژگاں ستارے ٹانک پیارے ہے اُلفت سے دگر اظہارِ اُلفت نہ اک لاٹھی سے سب کو ہانک پیارے محمد احمدؔ
  9. محمداحمد

    غزل ۔ کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے ۔ محمد احمدؔ

    غزل کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے ساتھ والا مکان روشن ہے یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟ چاندنی ہے سفیر سورج کی چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے آگ ہے کوہسار کے نیچے برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے دائمی زندگی کی ہے ضامن یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے یاد تارِ نفس پہ چڑیا ہے وحشتوں کا شمار...
  10. محمداحمد

    غزل ۔ ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا ۔ محمد احمدؔ

    غزل ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا اُس پر مری زُباں کو حدِّ ادب میں رکھا کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ پھر کس نے لاکے کاسہ دستِ طلب میں رکھا مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچّے پھولوں کو لا کے کس نے چشمِ غضب میں رکھا پروردگار نے تو تقویٰ کی بات کی تھی تم نے فضیلتوں کو نام و نسب...
  11. محمداحمد

    مختصر نظم ۔۔۔| نیا دور، نئے طور |۔۔۔ محمد احمدؔ

    نیا دور، نئے طور یہ نیا زمانہ ہے اس نئے زمانے میں اب وہ سب نہیں ہوتا وہ جو پہلے ہوتا تھا پہلے دو فریقوں میں ایک جھوٹا ہوتا تھا محمد احمدؔ
  12. محمداحمد

    نظم - دوکان رمضان -------- (تضمین از محمد احمدؔ)

    دوکان رمضان (تضمین) تحائف شو میں رمضاں کے، بلا تمہید ہی برسے بڑھا کر ہاتھ جھپٹو، مانگ لو کچھ التجا کرکے "لیاقت" کا تو کوئی کام ہی کیا شو میں "عامر" کے کوئز شو ہے مگر تحفہ ملے گا رقص بھی کرکے یہ دل میں ٹھان لو کہ لے مریں گے اک نہ اک بائک "فہد" کے شو سے مل جائے، بھلے "جمشید "کے در سے...
  13. محمداحمد

    چھوٹی بحر میں چھوٹی سی غزل -از - محمد احمد

    غزل یاد آتے رہنا بس دل دُکھاتے رہنا بس اور کام کیا تم کو آزماتے رہنا بس دل پہ گرد کتنی ہو چمچماتے رہنا بس زندگی یہی تو ہے مسکراتے رہنا بس حالِ دل رہے دل میں گنگناتے رہنا بس سیکھنا ہر اچھی بات اور سکھاتے رہنا بس بات بات پر ہنسنا اور ہنساتے رہنا بس دل شکستہ کوئی ہو دل بڑھاتے رہنا بس دل...
  14. محمداحمد

    غزل ۔۔۔ اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر ۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر آنکھ میں سپنا سلونا ہو تو پھر کب تلک بخیہ گری کا شوق بھی عمر بھر سینا پرونا ہو تو پھر دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو ! اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر وہ مری دلجوئی کو حاضر مگر اُس کا ہونا بھی نہ ہونا ہو تو پھر اُس کو پانے کی طلب!پر سوچ لو اُس کو پا نا ، اُس...
  15. محمداحمد

    غزل ۔ یہ جو شعروں میں جان پڑتی ہے ۔ محمد احمدؔ

    غزل یہ جو شعروں میں جان پڑتی ہے کوئی اُفتاد آن پڑتی ہے ڈانٹ پڑتی ہے دل کو اکثر ہی اور کبھی بے تکان پڑتی ہے آنا چاہتا ہے مجھ سے ملنے وہ راہ میں آن بان پڑتی ہے خود سے کیوں کر کھنچا کھنچا ہوں میں تھی کوئی بات، دھیان پڑتی ہے شور ایسا کہ کچھ نہ سُن پاؤں اک صدا یوں تو کان پڑتی ہے بد گُمانی،...
  16. محمداحمد

    غزل ۔ الگ تھلگ رہے کبھی، کبھی سبھی کے ہو گئے ۔ محمد احمدؔ

    غزل الگ تھلگ رہے کبھی، کبھی سبھی کے ہو گئے جنوں کا ہاتھ چُھٹ گیا تو بے حسی کے ہو گئے طلب کی آنچ کیا بجھی، بدن ہی راکھ ہو گیا ہوا کے ہاتھ کیا لگے، گلی گلی کے ہو گئے بہت دنوں بسی رہی تری مہک خیال میں بہت دنوں تلک ترے خیال ہی کے ہوگئے چراغِ شام بجھ گیا تو دل کے داغ جل اُٹھے پھر ایسی روشنی ہوئی...
  17. محمداحمد

    جامِ سفال ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ محمد احمدؔ

    جامِ سفال محمد احمدؔ شاید کوئی اور دن ہوتا تو حنیف بس میں بیٹھا سو رہا ہوتا۔لیکن قسمت سے دو چھٹیاں ایک ساتھ آ گئیں تھیں ۔ پہلا دن تو کچھ گھومنے پھرنے میں گزر گیا ، دوسرا پورا دن اُس نے تقریباً سوتے جاگتے گزارا ۔ آج بس میں وہ ہشاش بشاش بیٹھا تھا اور بس کی کھڑکی سے لگا باہر کے نظارے...
  18. محمداحمد

    میٹر شارٹ

    آج کی صبح بڑی خوشگوار تھی، مطلع ابر آلود تھا اور ہلکی ہلکی پھوار دھرتی کے دکھتے سینے پر پھائے رکھ رہی تھی۔ جب میں دفتر جانے کے لئے نکلا تو ایک بہت خوبصورت گیت لبوں پر تھا۔ ہوا میں رقص کرتی بارش کی چھوٹی چھوٹی سی بوندوں میں بلا کا ترنم تھا بالکل ایسے ہی جیسے گیتوں میں نغمگی ہوتی ہے۔ الفاظ...
  19. محمداحمد

    ناصح ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ محمد احمدؔ

    ناصح محمداحمدؔ بات مولوی صاحب کی بھی ٹھیک تھی۔ واقعی کم از کم ایک بار تو سمجھانا چاہیے ایسے لوگوں کو جو دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں یا دوسروں کا مال ناحق کھاتے ہیں۔ لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ مولوی صاحب یہ بات خطبے میں کبھی نہیں کہتے تھے ہاں جب کبھی بیٹھے بیٹھے کسی چوری چکاری کا ذکر آئے تب...
  20. محمداحمد

    نظم ۔۔۔۔ منظر سے پس منظر تک ۔۔۔ از : محمد احمدؔ

    منظر سے پس منظر تک (نظم) کھڑکی پر مہتاب ٹکا تھا رات سنہری تھی اور دیوار پہ ساعت گنتی سَوئی سَوئی گھڑی کی سُوئی چلتے چلتے سمت گنوا کر غلطاں پیچاں تھی میں بھی خود سے آنکھ چُرا کر اپنے حال سے ہاتھ چھڑا کر برسوں کو فرسنگ بنا کر جانے کتنی دور چلا تھا جانے کس کو ڈھونڈ رہا تھا دھندلے دھندلے چہرے...
Top