سلسلہ تکّلم کا ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد احمدؔ

محمداحمد نے 'افسانے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 7, 2016

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سلسلہ تکّلم کا
    محمد احمدؔ
    کِسی کی آواز پر اُس نے چونک کر دیکھا ۔
    اُسے بھلا کون آواز دے سکتا ہے، وہ بھی اِ س محلے میں جہاں اُسے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔
    اُسے دور دور تک کوئی شناسا چہرہ نظر نہیں آیا ۔ ایک جگہ کچھ بچے بیٹھے ہنس رہے تھے اور اس سے کچھ آگے ہوٹل پر لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ پھر اُسے اس بات کا بھی یقین نہیں تھا کہ پکارنے والے نے اُسی کا نام پکارا ہے۔
    یہ سوچتے ہوئے کہ شاید پکارنے والے نے اُس کے بجائے کسی اور کو پکارا ہے وہ آگے بڑھ گیا۔
    باتوں کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہاں سے تو نہیں جُڑ سکا کہ اس صوتی مداخلت نے اُس کے ذہن کی کئی پرتیں اُلٹ پلٹ کر رکھ دیں اور وہ باوجود کوشش کے یہ یاد نہ کر سکا کہ اس بے جا مداخلت سے پیشتر کیا بات ہو رہی تھی۔ تاہم چار چھ قدم آگے بڑھاتے ہی ذہن کے کسی گوشے سے ایک اور تصفیہ طلب معاملہ گفتگو کے دائرے میں آ دھمکا اور وہ اُس نئے موضوع کے ساتھ جھوجنے لگا۔

    گفتگو کا یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری تھا ۔ گفتگو کے اس سلسلے کا صدا کار بھی وہی تھا اور سامع بھی خود ہی تھا۔ یعنی گفتگو کے مخاطب اور خطیب کم از کم دو کرداروں کی شرط بھی پوری نہیں کرتے تھے۔ باہر کی دنیا شاید اس سلسلے کو خود کلامی پر محمول کرتی تاہم اُسے خود کلامی کی اصطلاح کچھ زیادہ پسند نہیں تھی۔

    خود سے بات کرنے کی عادت اُسے کب پڑی اُسے یاد بھی نہیں تھا۔ ایک زمانے تک یہ عادت خود اُس سے بھی حجاب میں رہی لیکن پھر رفتہ رفتہ فطرتِ ثانی کی طرح عیاں ہونے لگی اور اُس نے جان لیا کہ اب اس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔

    وہ کوئی الگ تھلگ رہنے والا آدمی نہیں تھا ۔ مجلسی طبیعت کا نہ سہی لیکن دوست احباب میں اُس کی موجودگی بہت اہم گردانی جاتی تھی۔ وہ ہر طرح کے موضوع پر بات کر سکتا تھا۔ ہنسی مذاق سے لے کر سنجیدہ مذاکرے تک وہ کئی ایک موضوع پر ٹھیک ٹھاک درک رکھتا تھا اور بوقت ضرورت گفتگو میں شریک بھی رہتا تھا۔ جب تک یہ گفتگو مذہب سے سیاست اور حالاتِ حاضرہ سے کھیل کے میدانوں میں فراٹے بھرتی رہتی اُس کی ہر بات میں ایک رنگ ہوتا اور ہر تاثر بھرپور ہوتا ۔ تاہم گفتگو کے یہ رنگ اچانک ہی پھیکے پڑ جاتے جب موضوعات کے سیارچے اپنے مدار سے ہٹ کر اُس کی ذات کے مرکزے میں گھسنے کی کوشش کرتے۔اپنی ذات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وہ ایک دم عربی سے عجمی ہو جاتا۔

    ایسا بھی نہیں تھا کہ اُس کی ذات کی گپھا میں اندھیرے ہی اندھیرے ہوں یا ہمہ وقت کربناک ماضی کی چمگادڑیں یہاں سے وہاں اُڑتی اور ٹکراتی پھرتی ہوں۔ تاہم وہ اپنے من کی باتیں ہر کسی سے نہیں کر سکتا تھا۔ اِ سے آپ اُس کی عادت کہیں یا کچھ اور لیکن وہ اپنے قریب ترین دوستوں سے بھی اپنی ذات سے متعلق بہت کم ہی باتیں کرتا اور اُس کے قریب ترین لوگ بھی اُس کے احساسات سے بہت کم ہی واقف ہو پاتے۔

    یوں تو وہ شروع ہی سے اپنے دل کی باتیں اپنے تک ہی رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن جلد ہی وہ جان گیا کہ چڑھے ہوئے نالوں کو راستہ نہ ملے تو وہ آبادی میں در آتے ہیں اور پھر وہ تباہی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ اُس کے احساسات اور اُس کے غم جب اُسے اندر ہی اندر جلانے لگتے تو کچھ باتیں بھانپ کی طرح اوپر اُٹھتی اور اُس کے لبوں کے روشن دان سے ہوتی ہوئی خود کو آزاد کرا لیتی۔ روشن دان سے اُٹھتی ہوئی یہ صوتی بھانپ جب باہر کی تازہ ہوا سے گلے ملتی تو تازگی کے جھرنے اُس کا لباس ہو جاتے اور نطق سے سماعت کا مختصر دورہ طے کرکے وہ پھر سے ایوانِ سماعت پر دستک دے دیتی ۔ یوں یہ صرصر اُس کے کانوں سے گزر کرجب ایک بار پھر سے اُس کے دل تک پہنچتی تو صبا کا روپ دھار چکی ہوتی۔ اس ان چاہے عمل سے جاگنے والا طمانیت کا احساس اُسے رفتہ رفتہ باقاعدہ خود کلامی کی دنیا میں لے آیا۔ تاہم اس کے لئے سب سے اہم شرط تنہائی تھی۔

    شروع شروع میں جب وہ خود کلامی کرتے ہوئے دیکھا گیا تو لوگ حسبِ توقع حیران ہوئے اور بات استفسار تک بھی آئی ۔ تاہم وہ جلد ہی سنبھل گیا اور خودکلامی کو تنہائی سے مشروط کردیا۔ رفتہ رفتہ شہرِ ذات سے ملاقات کا یہ وقفہ مختصر ہوتے ہوتے رات کے کھانے کے بعد مختصر گشت تک محدود ہو گیا ۔ تاہم اُس نے اپنے لئے اس چہل قدمی کو لازمی کر لیا کہ اندر کی دنیا کو باہر کی دنیا کی سیر کرانا اُس کے لئے باعثِ طمانیت ہی نہ تھا ، نا گزیر بھی تھا۔

    اگلے روز یہ معمہ بھی حل ہو گیا کہ گذشتہ دن اُسے پکارنے والا کون تھا۔ وہ کوئی شناسا نہیں تھا نہ ہی اُسے نام لے کر پکارا گیا تھا لیکن مخاطب کوئی اور نہیں صرف وہ ہی تھا۔

    آج وہ اپنے اور صالحہ کے مابین کشیدگی کے بارے میں محوِ گفتگو تھا۔ اُس کے سامنے کٹہرے میں وہ خود کھڑا تھا اور کٹہرے میں کھڑے شخص کے سامنے بیٹھے منصف کی نشست بھی اُسی نے سنبھالی ہوئی تھی۔ عدالت کے اس ماحول میں کٹہرے میں کھڑے شخص پر سوالات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور کٹہرے میں کھڑا شخص اپنے دفاع میں دلائل دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ جج صاحب کافی غصے میں نظر آتے تھے اور کٹہرے میں کھڑا شخص مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی ندامت میں ڈوبا نظر آتا تھا۔ قریب تھا کہ جج صاحب اپنا فیصلہ سناتے اور ملزم پر فردِ جرم عائد کرتے کہیں سے کسی نے اُسے پکارا۔ اِس اچانک آ پڑنے والی اُفتاد نے راہ چلتی عدالت کو منصف و ملزم سمیت یکایک ہوا میں تحلیل کر دیا اور وہ چونک کر آواز کی طرف متوجہ ہو گیا۔ ایک طرف کچھ بچے بیٹھے ہنس رہے تھے اور اس سے کچھ آگے ہوٹل پر لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اُسے پکارنے والے شاید اُس کے نام سے واقف نہیں تھے یا شاید اُنہیں اُس کے نام سے غرض ہی نہیں تھی۔ اُس کے ذہن کی اُلٹتی پلٹتی پرتوں میں جو آخری لفظ اُس کی شعوری سطح سے زائل ہوتا نظر آیا وہ قابلِ غور تھا۔ اور وہ لفظ تھا "پاگل!"۔ دور کہیں بچوں کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی۔

    اُس شام وہ نہ جانے کیسے گھر پہنچا ۔ نہ جانے کتنے لفظ سینے میں ہی گھٹ کر مر گئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُس کے دل میں مدفون ہو گئے۔ اُس کی حالت اس قدر غیر ہو رہی تھی کہ ناراض صالحہ اپنے ناراضگی تک بھول گئی اور اُس سے پوچھنے لگی۔ کیا ہوا ؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟

    ہاں ٹھیک ہے۔ اُس نے چہرے پر مسکراہٹ کا تار تار ماسک لگانے کی کوشش کی لیکن کلی طور پر ناکام رہا۔ وہ تو یوں بھی کچھ نہیں بتا پا تا تھا ۔ پھر آج کی بات۔
    ہاں ٹھیک ہوں۔ اُس نے ایک بار پھر اضطراری حالت میں کہا۔ حالانکہ صالحہ کمرے سے کب کی جا چکی تھی اور کچن میں موجود فرج سے اُس کے لئے پانی نکال رہی تھی۔

    اگلے دو چار دن وہ چہل قدمی کو نہیں گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ خود سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اُس کے پاس تو ڈھیروں باتیں تھیں لیکن وہ اپنوں کی نظروں سے بچ کر غیروں کی نظروں میں تماشا نہیں بننا چاہتا تھا۔

    پھر ایک دن ، اُسے ایک خیال سوجھا اور اس خیال کے آتے ہی وہ جیسے نہال ہو گیا۔ اُس روز دفتر سے واپسی پر وہ سیدھا موبائل مارکیٹ گیا اور وہاں سے ایک بلیو ٹوتھ ائیر پیس خریدا ۔ اور شام کے کھانے کے بعد جب وہ چہل قدمی کرنے نکلا تو اُس کے دائیں کان میں نیا بلیو ٹوتھ ائیر پیس جگمگا رہا تھا اور اُس کا موبائل سیٹ گھر پر تاروں سے جُڑا بجلی مستعار لے رہا تھا۔ اُس نے آج ایک نیا راستہ اختیار کیا اور انتہائی ذاتی نشریاتی رابطے پر دل سے منسلک ہو گیا۔

    گھر سے کچھ دور آتے آتے عدالت کی کاروائی شروع ہو گئی تھی۔ آج بھی وہ کٹہرے میں کھڑا تھا اور جج صاحب کے سوالات کا جواب دے رہا تھا۔ آج البتہ جج صاحب اُس کے دلائل بغور سن رہے تھے اور زور زور سے سر ہلا رہے تھے۔ پھر جج صاحب مسکرائے اور اُسے با عزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اُس کی انا اور خودداری کمرہ عدالت سے باہر اُس کے لئے پھول ہار لئے کھڑے تھے۔

    "یہ آدمی خود سے باتیں کر رہا ہے؟" اچانک کہیں سے ایک آواز آئی۔
    ارے "پاگل" یہ موبائل پر بات کر رہا ہے۔ دوسری آواز میں لاپرواہی تھی۔
    آج اُسے لفظ پاگل کا استعمال بہت اچھا لگا۔
    وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔ اگلا زیرِ گفتگو سوال یہ تھا کہ صالحہ کے لئے کیا گفٹ خریدا جائے؟

    ******
     
    • زبردست زبردست × 9
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    6,368
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    میں نے بہت سنجیدہ ہو کے پڑھا۔۔۔۔۔ واہ کیا بنت کی ہے ۔۔ماشاء اللہ ۔ مزاح بھی ایسا اچھا لگتا ہے :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    کمال۔۔۔۔ اعلیٰ ۔۔۔ تمام جزئیات کے ساتھ۔۔۔ ایک مکمل اور بہترین افسانہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت شکریہ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  5. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,544
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    محمد احمد بھائی ۔ عام طور پر نثر سے دور رہتا ہوں کہ عدیم الفرصت لوگوں کے لئے شاعری پڑھنا ہی بہترین عیاشی ہے ۔:)
    مجھے علم نہیں تھا کہ آپ کہانیاں بھی لکھتے ہیں اس لئے آپ کا نام دیکھ کر فورََاپڑھا ۔ مزا آگیا ۔ ایک دلچسپ اورتجسس آمیز تحریر ہے۔ آخر تک تجسس برقرار رہا۔ کردار بھی خوب تراشا ہے ۔ کچھ کچھ باتیں تو اس کی مجھ سے ملتی ہیں۔ :):):)

    بہت داد آپ کے لئے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    بہترین ۔۔۔۔ اعلیٰ
    شکریہ احمد بھائی اس خوبصورت تحریر کے لیے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,366
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    واہ۔ اب تو ایک ای بک افسانوں کی بھی ہونی چاہئے!!!
     
    • متفق متفق × 5
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    بلاشبہ بہت خوبصورت فسانہ ذات
    سچ کہ اک سچے افسانے کی مثال ۔۔
    جس کو پڑھتے قاری پر اپنی حقیقت کھلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت دعائیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. مقدس

    مقدس لائبریرین

    مراسلے:
    29,043
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Tired
    فینٹاسٹک احمد بھائی۔۔۔ شاعری چھوڑیں اور نثر لکھنی اسٹارٹ کر دیں۔۔۔۔ کیا واقعی میں خود سے باتیں کرنا پاگل پن کہلاتا ہے کیونکہ میں خود اپنے سے بہت ساری باتیں کرتی ہوں کیونکہ خود سے اچھا دوست آپ کا کوئی نہیں ہو سکتا۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سچ کہتے ہیں شاعری کم وقت میں پڑھنے کے لئے اعلیٰ شے ہے۔ :)
    باقاعدہ تو ہم کچھ بھی نہیں کرتے :) ہاں بے قاعدہ کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ :)

    تحریر آپ کو پسند آئی ۔ دل خوش ہوا۔

    یہ ہم سب کی ہی کہانی ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں خود کلامی کی ضرورت سب کو ہی پڑ جاتی ہے۔

    حوصلہ افزائی کے لئے بے حد ممنون ہوں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بے حد شکریہ شیزان بھائی۔۔۔!

    آپ کی حوصلہ افزائی ہمیشہ میرے کام آئی ہے۔

    شاد آباد رہیے۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہترین تحریر ۔۔۔ :applause:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  13. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    14,562
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    واہ!بہت پیارا افسانہ ہے۔ تجسس اورجزیات نگاری بھی خوب ہے۔افسانے کی بُنت بھی ماہرانہ ہے۔آغاز۔۔۔کلائمکس۔۔۔انجام۔۔۔بہت خوب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  14. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت شکریہ !

    ابھی تو گنتی کی پانچ چھ تحاریر ہی ہیں (اِس ٹیگ کے تحت) ۔ :)

    ایک دو تحریریں کافی عرصے سے ادھوری ہیں اگر توفیق ملی تو اُن کو پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت شکریہ نایاب بھائی۔۔۔!

    حوصلہ افزائی اور دعا کے لئے بے حد ممنون ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    شاعری نہیں چھوڑوں گا۔ :D:p

    نہیں اس کارِ خیر کے لئے خود سے بات کرنا ضروری نہیں ہے۔ :p:p:p

    شکریہ۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  17. مقدس

    مقدس لائبریرین

    مراسلے:
    29,043
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Tired
    اچھا اچھا۔۔۔۔۔ اسی لیے آپ اور نین بھیا۔۔۔ ہممممم :rollingonthefloor: :rollingonthefloor:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  18. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بالکل ! :)

    ہم دونوں فکر مند رہتے ہیں اپنی پیاری سی بہن کے بارے میں۔ :D:p
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  19. مقدس

    مقدس لائبریرین

    مراسلے:
    29,043
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Tired
    :rollingonthefloor: :rollingonthefloor: کہ وہ کہیں ہمیں پاگل قرار نہ دے دے :rollingonthefloor:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  20. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت شکریہ سارہ

    محفل میں آپ کی واپسی واقعی خوش آئند ہے :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر