غزل

  1. محمد تابش صدیقی

    مظفر وارثی غزل: ساتھ ہر چند ہمسفر رکھنا

    ساتھ ہر چند ہمسفر رکھنا سامنے اپنی رہ گزر رکھنا زندگی خواب بن کے رہ جائے زانوئے شب پہ یوں نہ سر رکھنا برف کی ناؤ میں تو بیٹھے ہو آگ سی ذہن میں مگر رکھنا خاک پر بھی اگر بناؤ محل سنگِ بنیاد عرش پر رکھنا بن گئے خول اب تو چہرے بھی احتیاطِ دل و نظر رکھنا لذّتیں لے چلیں تمھارے حضور تلخیاں گفتگو...
  2. ظہیراحمدظہیر

    اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے

    بہت عرصے کے بعد کچھ تازہ اشعار احبابِ محفل کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ خاکدان کا مجموعہ ترتیب دینے کے بعد بھی کئی ساری پرانی غزلیں اور نکل آئی ہیں ۔ چند ایک کی نوک پلک درست کرکے مکمل بھی کرلیا ہے اور وقتاً فوقتاً آپ کے ذوق کی نذر کرنے کا ارادہ ہے ۔ فی الحال یہ تازہ اشعار دیکھئے گا ۔ امید ہے کہ...
  3. محمد تابش صدیقی

    اقبال غزل: کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے

    کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے مرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے وہ مے کش ہوں فروغِ مے سے خود گلزار بن جاؤں ہوائے گل فراقِ ساقیِ نامہرباں تک ہے چمن افروز ہے صیاد میری خوشنوائی تک رہی بجلی کی بے تابی، سو میرے آشیاں تک ہے وہ مشتِ خاک ہوں ، فیضِ پریشانی سے صحرا ہوں نہ پوچھو...
  4. محمداحمد

    دو غزلہ : رات بھر سوچتے رہے صاحب ۔۔۔ محمد احمدؔ

    السلام علیکم، یہ کلام تقریباً ڈیڑھ دو ماہ پرانا ہے ، اُن دنوں طبیعت میں روانی تھی ، سو یہ غزل سے دو غزلہ ہوگیا۔ احباب کےاعلیٰ ذوق کی نذر: دو غزلہ رات بھر سوچتے رہے صاحب آپ کس مخمصے میں تھے صاحب؟ اس نے 'کاہل 'کہا محبت سے ہنس دیئے ہم پڑے پڑے صاحب گرم چائے، کتاب، تنہائی اور ہوتے ہیں کیا...
  5. محمداحمد

    غزل: ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے ۔۔۔گرچرن مہتا رجت

    غزل ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے ہر سر یہی سمجھتا ہے دستار اس سے ہے ہے آگ پیٹ کی تبھی چھم چھم ہے رقص میں پائل سمجھتی ہے کہ یہ جھنکار اس سے ہے امید ان سے کوئی لگانا ہی ہے فضول ہر منتری کی سوچ ہے سرکار اس سے ہے گھر کو بنائیں گھر صدا گھر کے ہی لوگ سب اور آدمی سمجھتا ہے پریوار اس سے ہے...
  6. محمداحمد

    غزل: ایک پتھر کہ دست یار میں ہے ۔ ۔۔ قمر جمیل

    ایک دھاگے میں پھول پتھر پر ایک مصرع دیکھ کر یہ غزل یاد آئی۔ غزل ایک پتھر کہ دست یار میں ہے پھول بننے کے انتظار میں ہے اپنی ناکامیوں پہ آخر کار مسکرانا تو اختیار میں ہے ہم ستاروں کی طرح ڈوب گئے دن قیامت کے انتظار میں ہے اپنی تصویر کھینچتا ہوں میں اور آئینہ انتظار میں ہے کچھ ستارے...
  7. محمد تابش صدیقی

    غزل: اتنی سی، زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی ٭ محمود غزنوی

    اتنی سی، زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی کچھ دیر جلتا رہتا ہواؤں کے رو برو گھر کے دیے سے اتنی مروت نہ ہو سکی اس کم وفا نے زخم وہ بخشا کہ اس کے بعد ہم سے تو ساری عمر محبت نہ ہو سکی وہ بھی سمجھ سکا نہ مری وحشتوں کا حال مجھ سے بھی اپنے غم کی وضاحت نہ ہو سکی سوچو...
  8. محمد تابش صدیقی

    غزل: ہرگز نہ راہ پائی فردا و دی نے دل پر ٭ احمد جاوید

    ہرگز نہ راہ پائی فردا و دی نے دل پر رہتی ہے ایک حالت بارہ مہینے دل پر سکتے میں ہیں مہ و مہر، دریا پڑے ہیں بے بحر ہے سخت غیر موزوں دنیا زمینِ دل پر شعلہ چراغ میں ہے، سودا دماغ میں ہے ثابت قدم ہوں اب تک دینِ مبینِ دل پر لکھ لو یہ میری رائے، کیا کیا ستم نہ ڈھائے کل دل نے آدمی پر، آج آدمی نے دل...
  9. عمر شرجیل چوہدری

    محبت ہو جائے تو ٹالی نہیں جاتی

    پڑی مصیبت سر سے نہیں جاتی محبت ہو جائے تو ٹالی نہیں جاتی کرتا ہوں لاکھ انکار مگر کیا کیجئے کہ اس کی عادت مجھ سے چھوڑی نہیں جاتی دن کو وہ یاد آتا ہے مگر گزر جاتا ہے دن تو شب اس کی یاد میں مجھ سے گزاری نہیں جاتی بھول گیا ہوں اسکی سب باتیں مگر وہ خندہ زیرِ لب مجھ سے بھلائی نہیں جاتی چاند کی بے...
  10. عمر شرجیل چوہدری

    رو دیتا ہوں

    بچپن کو یاد کرتا ہوں تو رو دیتا ہوں ماں کی گود میں سر رکھتا ہوں تو رو دیتا ہوں بن مسکراہٹ کے ہی تمام تصویریں بنتی ہیں پرانی البم کو دیکھتا ہوں تو رو دیتا ہوں دل پر تو ہمیشہ ہی رہتا ہے اک بوجھ بوجھ حد سے بڑھ جائے تو رو دیتا ہوں غم یار ہے غم دنیا ہے غم حشر ہے سب غموں کو ملاتا ہوں تو رو دیتا ہوں...
  11. عمر شرجیل چوہدری

    میرے دل میں ہیں سوزگار کے دن

    میرے دل میں ہیں سوزگار کے دن میری یادوں کی مشق ہے بار کے دن زندگی تیرے گلزار پہلو کیا کیجئے ہم کو راس نہیں یہ بہار کے دن میں ہوں الفت میں اسکی رسوا میری نسبت ہیں خزاں کے دن چلتا نہیں اب میں دوسروں کے اصولوں پر گزار رکھے ہیں میں نے اطاعت کے دن میری خالی جیب دیکھ کر نہ چھوڑنا مجھے بدلتے رہتے ہیں...
  12. عمر شرجیل چوہدری

    محبت میں دم اخیر وہ تاثیر نہیں رہی

    محبت میں دم اخیر وہ تاثیر نہیں رہی وہ جذبہ، وہ جنون وہ ملن کی تڑپ نہیں رہی
  13. عمر شرجیل چوہدری

    تنہائی

    اک طرف ہے شہر کی رونق اک طرف ہے دل کی تنہائی یاراں کی محفل میں خوب مستیاں اور اسی محفل میں ہے تنہائی رونق میلہ خوب ہے دنیا مگر جس کو لگ گئی ہو تنہائی؟ ہر طرف ہے شوروغل ہمیشہ ہر طرف دیکھو تو تنہائی کہاں ہیں دوست احباب میرے جہاں بھی جاؤ بس تنہائی بچپن تنہا، جوانی تنہا، بڑھاپا تنہا اور گور میں بھی...
  14. نیرنگ خیال

    بھیڑ کے ساتھ ہی دلدل میں اترنا ہو گا (مخمور سعیدی)

    چل پڑے ہیں تو کہیں جا کے ٹھہرنا ہو گا یہ تماشا بھی کسی دن ہمیں کرنا ہو گا ریت کا ڈھیر تھے ہم، سوچ لیا تھا ہم نے جب ہوا تیز چلے گی، تو بکھرنا ہو گا ہر نئے موڑ پہ یہ سوچ قدم روکے گی جانے اب کون سی راہوں سے گزرنا ہو گا لے کے اس پار نہ جائے گی جدا راہ کوئی بھیڑ کے ساتھ ہی دلدل میں اترنا ہو گا...
  15. منہاج علی

    غزل: اُس پریشاں زلف سے جب سامنا ہوجائے گا (منہاجؔ علی)

    اُس پریشاں زلف سے جب سامنا ہو جائے گا پیچِ بادِ صبح اک دم میں ہَوا ہوجائے گا اُس گلی میں منتشر کردے ہماری خاک کو کچھ تو عرضِ مدّعا بادِ صبا ہوجائے گا پھر جگر کو لطفِ یک تیرِ مژہ درکار ہے ’کارِ غمخواری، نگاہِ آشنا ہوجائے گا‘ (مصرعۂ مدنیؔ) وصل میں بندِ قبا کو منّتِ انگشت کیا گرمیٔ انفاس کی اک...
  16. محمد تابش صدیقی

    غزل: کبھی آیت، کبھی تفسیر میں الجھے ہوئے ہیں ٭ رشید ندیم

    کبھی آیت، کبھی تفسیر میں الجھے ہوئے ہیں ہم ابھی اپنی اساطیر میں الجھے ہوئے ہیں کوئی آئینِ قدامت ہمیں گھیرے ہوئے ہے ہم پرانی کسی تحریر میں الجھے ہوئے ہیں تو کبھی مسجد و محراب سے باہر بھی نکل ہم ترے خواب کی تعبیر میں الجھے ہوئے ہیں زلفِ ایام سلجھتی ہی نہیں ہے ہم سے یوں تری زلفِ گرہ گیر میں...
  17. کاشفی

    مرقّع ء رنج و الم زندگی ہے - فرزانہ اعجاز

    غزل (فرزانہ اعجاز) مرقّع ء رنج و الم زندگی ہے مری زندگی ، اب یہی زندگی ہے خوشی میں بھی دل ساتھ دیتا نہیں اب ہنسی میں ملی آنسو وءں کی نمی ہے نہ پوچھا کبھی تم نے احوال میرا مجھے زعم تھا کہ بڑی دوستی ہے گئ رات جیسے اندھیری گلی تھی سویرے کا مطلب نئ روشنی ہے ثبوت وفا مانگتے ہیں ہم ہی سے...
  18. عاطف ملک

    ترے لہجے کی لکنت نے، ترے نظریں چرانے نے

    ایک کاوش احباب کے ذوق کی نذر: ترے لہجے کی لکنت نے، ترے نظریں چرانے نے بھرم اک پل میں توڑے ہیں کئی تیرے بہانے نے کبھی شاداں، کبھی برہم، کبھی مائل، کبھی گم سم ستم ڈھائے ہیں کیا ہم پر تمہارے یوں ستانے نے تخیل کو تو بس درکار تھی تحریک اتنی سی اسے دیکھا غزل لکھی نئی اس کے دِوانے نے کہیں کوہِ محبت...
  19. محمد تابش صدیقی

    غزل: جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا ٭ تابش

    جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا ہر نیا زخم ہوا میرے بدن پر پھایا شمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرت بے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا میں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوش میرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایا اب تو ہر شخص نظر آتا ہے خود سے بہتر جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا...
  20. عاطف ملک

    تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے

    تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے ہمارا دل جو تری یاد کے حصار میں ہے لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے میں چاہتا ہوں کہ سب ہار کر تجھے جیتوں تو سوچتا ہے تری جیت میری ہار میں...
Top