احمد فراز

  1. میم الف

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اُسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں اے دردِ ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو...
  2. میم الف

    فراز نئی مسافت کا عہدنامہ - احمد فراز

    مرا لہو رائیگاں نہیں تھا جو میرے دیوار و در سے ٹپکا تو شاہراہوں تک آ گیا تھا جہاں کسی کو گماں نہیں تھا مرا لہو رائیگاں نہیں تھا مرے مقدر میں آبرو کی تمام لمبی مسافتیں تھیں مرے سفر میں حسینؑ کے سر‘ مسیحؑ کے جسم کی سبھی دردناکیاں تھیں‘ اذیتیں تھیں مگر مرا درد بے وقر تھا مگر مرا دشت بے شجر تھا یہ...
  3. میم الف

    فراز آئی بینک Eye Bank احمد فراز

    میں تو اِس کربِ نظارا سے تڑپ اُٹھا ہوں کتنے ایسے ہیں جنھیں حسرتِ بینائی ہے جن کی قسمت میں کبھی دولتِ دیدار نہیں جن کی قسمت میں تماشا‘ نہ تماشائی ہے جو ترستے ہیں کہ کرنوں کو برستا دیکھیں جو یہ کہتے ہیں کہ منزل نہیں‘ رستا دیکھیں اُن سے کہہ دو کہ وہ آئیں‘ مری آنکھیں لے لیں اِس سے پہلے کہ مرا جسم...
  4. عاطف ملک

    پیروڈی: اس کے ابا سے معافی کی گزارش نہیں کی

    احمد فرازؔ مرحوم کی ایک غزل کے ساتھ کی جانے والی واردات محفلین کی خدمت میں: اس کے ابا سے معافی کی گزارش نہیں کی بھاگ جانے کی بھی ہرگز کوئی کوشش نہیں کی اِس پہ اُس نے بھی مری کوئی سفارش نہیں کی الغرض باپ نے اس کے، مری بخشش نہیں کی دو کزن، چار عدد بھائی اور ابا اس کے سب نے پیٹا ہمیں اور ہم نے...
  5. محمد تابش صدیقی

    فراز رباعی: لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ

    لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ لمحوں میں زمانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ تُو زہر ہی دے شراب کہہ کر ساقی جینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ ٭٭٭ احمد فرازؔ
  6. طارق شاہ

    فراز :::::میں کس کا بخت تھا مری تقدیر کون تھا:::::Ahmad Faraz

    غزل احمد فرازؔ مَیں کِس کا بخت تھا، مِری تقدِیر کون تھا تُو خواب تھا ، تو خواب کی تعبِیر کون تھا مَیں بے گلِیم لائقِ دُشنام تھا، مگر! اہلِ صَبا میں صاحبِ توقِیر کون تھا اب قاتِلوں کا نام و نِشاں پُوچھتے ہو کیا ایسی محبّتوں سے بغلگیر کون تھا مَیں زخم زخم اُس سے گَلے مِل کے کیوں ہُوا وہ دوست...
  7. عاطف ملک

    سنا ہے جو بھی اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

    سنا ہے جو بھی اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے بھائی پھر ان کو بپھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے تاڑتا ہے سارا دن قمر اس کو اور اس کو رات میں لڑکے قمر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کا مڈل نیم ہے "صبا"، سو ہم پچاس والا اسے لوڈ کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کا "منی لانڈرنگ" کا دھندا ہے "مکیں اُدھر کے بھی...
  8. طارق شاہ

    فراز "Victor Motapanyane "Hope :::::ترجمہ احمد فرازؔ

    مترجم آس ۔ رات کے سُرخ انگارے غلامی کی مار کھائے ہُوئے ہمارے یخ بستہ دِلوں کو خطرے کا اشارہ دے رہے ہیں رات کی سیاہی میں انگار آنکھیں چمک رہی ہیں ہماری زندگیاں کتنی ہی اذیّتوں کے سایوں میں لپٹی ہُوئی ہیں مگر ہماری فطری انسانی اُمید مزاحمت اور نبردآرائی کے لیے ہمیں آگے اور آگے ہنکائے لیے جارہی...
  9. طارق شاہ

    فراز احمد فرازؔ ::::::شاعر ::::::Ahmad Faraz

    شاعر جس آگ سے جل اُٹّھا ہے جی آج اچانک پہلے بھی مرے سینے میں بیدار ہُوئی تھی جس کرب کی شدّت سے مری رُوح ہے بےکل پہلے بھی مرے ذہن سے دوچار ہُوئی تھی جس سوچ سے میں آج لہو تُھوک رہا ہُوں پہلے بھی مرے حق میں یہ تلوار ہُوئی تھی وہ غم، غَمِ دُنیا جسے کہتا ہے زمانہ وہ غم! مجھے جس غم سے سروکار نہیں تھا...
  10. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز ::::::مَیں اور تُو ::::::Ahmad Faraz

    " مَیں اور تُو " روز جب دُھوپ پہاڑوں سے اُترنے لگتی کوئی گھٹتا ہُوا بڑھتا ہُوا بیکل سایہ ایک دِیوار سے کہتا کہ مِرے ساتھ چلو اور زنجیرِ رفاقت سے گُریزاں دِیوار اپنے پندار کے نشے میں سدا اِستادہ خواہشِ ہمدمِ دِیرِینہ پہ ہنس دیتی تھی کون دِیوار، کسی سائے کے ہمراہ چلی کون دِیوار، ہمیشہ مگر...
  11. فہد اشرف

    فراز اک دست شناس نے مجھ سے کہا۔۔۔۔۔۔

    اک دست شناس نے مجھ سے کہا ترے ہاتھ کی ریکھائیں ہیں عجب تیرے پاؤں انوکھی بیڑی ہیے ترے گلے میں مالائیں ہیں عجب ترے پیار کے کتنے قصّے ہیں تیری ذات کے کتنے حصّے ہیں کہیں رام ہے تُو کہیں راون ہے، تری پیت کی چرچائیں ہیں عجب کبھی ندیا جیسے بول کہے کبھی ساگر جیسا شور کرے ترا بھید بھرا لہجہ نہ کُھلے...
  12. فرخ منظور

    فراز تِرا قُرب تھا کہ فراق تھا، وہی تیری جلوہ گری رہی ۔ احمد فراز

    تِرا قُرب تھا کہ فراق تھا، وہی تیری جلوہ گری رہی کہ جو روشنی تِرے جسم کی تھی مِرے بدن میں بھری رہی تِرے شہر میں سے چلا تھا جب تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا مِرے تو میں کس سے محوِ کلام تھا، تو یہ کِس کی ہمسفری رہی مجھے اپنے آپ پہ مان تھا کہ نہ جب تلک تِرا دھیان تھا تو مثال تھی مِری آگہی، تو کمالِ بے...
  13. فرخ منظور

    فراز محاصرہ ۔ احمد فراز

    محاصرہ مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے کہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اس کے فصیلِ شہر کے ہر برج ہر منارے پر کماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی سبھی...
  14. فرخ منظور

    فراز ابھی ہم خوبصورت ہیں (احمد شمیم کی یاد میں) ۔ احمد فرازؔ

    ابھی ہم خوبصورت ہیں (احمد شمیم کی یاد میں) ہمارے جسم اوراقِ خزانی ہو گئے ہیں اور ردائے زخم سے آراستہ ہیں پھر بھی دیکھو تو ہماری خوشنمائی پر کوئی حرف اور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیا ہمارے ہونٹ زہریلی رُتوں سے کاسنی ہیں اور چہرے رتجگوں کی شعلگی سے آبنوسی ہو چکے ہیں اور زخمی خواب نادیدہ جزیروں کی...
  15. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز :::::جب سب کے دِلوں میں گھر کرے تُو ::::::Ahmad Faraz

    غزل جب سب کے دِلوں میں گھر کرے تُو پِھر کیوں ہَمَیں در بَدر کرے تُو یہ حال ہے شام سے تو اے دِل! مُشکِل ہے کہ اب سَحر کرے تُو آنکھوں میں نِشان تک نہ چھوڑے خوابوں کی طرح سفر کرے تُو اِتنا بھی گُریز اہلِ دِل سے کوئی نہ کرے، مگر کرے تُو خوشبُو ہو ، کہ نغمہ ہو، کہ تارا ہر ایک کو، نامہ بر...
  16. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز :::::: حیران ہُوں خود کو دیکھ کر مَیں :::::Ahmad Faraz

    غزل حیران ہُوں خود کو دیکھ کر مَیں ایسا تو نہیں تھا عمر بھر مَیں وہ زِندہ دِلی کہاں گئی ہے ہنستا تھا اپنے حال پر جب مَیں آدابِ جُنونِ عاشقی سے ایسا بھی نہیں تھا بے خبر مَیں واسوخت کبھی نہ مَیں نے لِکھّی رویا بھی کبھی جو ٹُوٹ کر مَیں صیّاد پرست جو بھی سمجھیں زنداں کو سمجھ سکا نہ گھر مَیں...
  17. فرخ منظور

    فراز اب لو گ جو دیکھیں گے تو خواب اور طرح کے ۔ احمد فراز

    اب لو گ جو دیکھیں گے تو خواب اور طرح کے اس شہر پہ اتریں گے عذاب اور طرح کے اب کے تو نہ چہرے ہیں نہ آنکھیں ہیں نہ لب ہیں اس عہد نے پہنے ہیں نقاب اور طرح کے اب کوچۂ قاتل سے بُلاوا نہیں آتا قاصد ہیں کے لاتے ہیں جواب اور طرح کے سو تیر ترازو ہیں رَگِ جاں میں تو پھر کیا یاروں کی نظر میں ہیں حساب...
  18. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز ::::::دل میں، اب طاقت کہاں خوننابہ افشانی کرے::::::Ahmad Faraz

    غزل دِل میں، اب طاقت کہاں خُوننابہ افشانی کرے ورنہ ،غم وہ زہر ہے، پتّھر کو بھی پانی کرے عقل وہ ناصح، کہ ہر دَم لغزِشِ پا کا خیال دِل وہ دِیوانہ، یہی چاہےکہ نادانی کرے ہاں مجھے بھی ہو گِلہ بے مہریِ حالات کا تُجھ کو آزردہ اگر میری پریشانی کرے یہ تو اِک شہرِ جنُوں ہے چاک دامانو، یہاں سب...
  19. طارق شاہ

    فراز حمد فراؔز ::::::یہ طبیعت ہے، تو خود آزار بن جائیں گے ہم ! :::::: Ahmad Faraz

    غزل یہ طبِیعت ہے، تو خود آزار بن جائیں گے ہم ! چارہ گر رَوئیں گے، اور غم خوار بن جائیں گے ہم ہم سَرِ چاک وفا ہیں اور تِرا دستِ ہُنر جو بنا دے گا ہَمَیں اے یار! بن جائیں گے ہم کیا خبر تھی اے نِگارِشعر! تیرے عِشق میں دِلبرانِ شہر کے دِلدار بن جائیں گے ہم سخت جاں ہیں، پر ہماری اُستواری پر نہ جا...
  20. طارق شاہ

    فراز احمد فراؔز :::::: ہنسے تو آنکھ سے آنسو رواں ہمارے ہُوئے :::::: Ahmad Faraz

    غزلِ ہنسے تو آنکھ سے آنسو رَواں ہمارے ہُوئے کہ ہم پہ دوست بہت مہرباں ہمارے ہُوئے بہت سے زخم ہیں ایسے، جو اُن کے نام کے ہیں بہت سے قرض سَرِ دوستاں ہمارے ہُوئے کہیں تو، آگ لگی ہے وجُود کے اندر کوئی تو دُکھ ہے کہ، چہرے دُھواں ہمارے ہُوئے گرج برس کے نہ ہم کو ڈُبو سکے بادل تو یہ...
Top