فراز اک دست شناس نے مجھ سے کہا۔۔۔۔۔۔

فہد اشرف

محفلین
اک دست شناس نے مجھ سے کہا ترے ہاتھ کی ریکھائیں ہیں عجب
تیرے پاؤں انوکھی بیڑی ہیے ترے گلے میں مالائیں ہیں عجب

ترے پیار کے کتنے قصّے ہیں تیری ذات کے کتنے حصّے ہیں
کہیں رام ہے تُو کہیں راون ہے، تری پیت کی چرچائیں ہیں عجب

کبھی ندیا جیسے بول کہے کبھی ساگر جیسا شور کرے
ترا بھید بھرا لہجہ نہ کُھلے تری ساری کویتائیں ہیں عجب

کئی تجھ کو دنیا دار کہیں کئی لوگ تجھے اوتار کہیں
تیرا جیون ناٹک جیسا ہے تیرے نام کی لیلائیں ہیں عجب

کہیں پریم کا رَس چِھڑکائے تو، کہیں برہا بِس ٹپکائے تو
کبھی زہر ہے تُو کبھی اَمرِت ہے، ترے دھیان کی گیتائیں ہیں عجب

کوئی گوپی تجھ کو جان کہے کوئی دیوی تجھ پر مان کرے
تُو کِرشن نہ شام(شیام) مگر پھر بھی تری رَسیا رادھائیں ہیں عجب

تُو اک متوالا پنچھی ہے اس شاخ اُڑے اُس باغ پھرے
کیا ٹھور ٹِھکانہ ہو تیرا ترے من کی دنیائیں ہیں عجب

کبھی اوس سے پیاس بجھائے تُو کہیں دریا کو ٹھکرائے تُو
تیرا ہنستا چہرہ اور لگے تیری آنکھوں کی بَرکھائیں ہیں عجب

تُو بنجارہ یا جوگی ہے، تُووی ہے یا کوئی روگی ہے
تُو گِیانی ہے یا مورَکھ ہے ترے بارے میں سب رائیں ہیں عجب

(” خواب گل پریشاں ہے“ سے انتخاب)
 
Top